زبان

انسان حیوان ناطق ہے ۔ یہ اپنے جذبات، خیالات اور احساسات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے ۔ جو صوتی اور لفظی وسیلے سے دوسروں تک پہنچتے ہیں جسے زبان کہا جاتا ہے ۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک معنوی اور دوسری ظاہری صورت ۔ اظہار خیال کی ظاہری صورتوں سے جو صوتی الفاظ بنتے ہیں اسے بولی کہا جاتا ہے ۔ بولی کا دائرہ محدود ہوتا ہے ۔ بولی کے الفاظ میں معنوی تال میل ہو کر وسعت پیدا ہوتی ہے ۔

اسے زبان کہا جاتا ہے ۔ اس طرح آواز اور الفاظ کے مجموعے کو زبان کہا جاتا ہے ۔ زماں ومکاں کے فرق کے اعتبار سے زبانوں میں تغیر اور تبدیلی پیدا ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک علاقے کی زبان سے دوسرے علاقے کی زبان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ جس کو اس علاقے کی امتیازی خصوصیت سے دیکھا جاتا ہے ۔ ماہرین لسانیات کے مطابق بولی ہی وسیلہ ہوتی ہے ۔ماہر لسانیات وہٹنے کہتا ہے

زبان اور بولیوں کا تعلق ایک دائرے کی شکل میں رہتا ہے۔ زبان کچھ عرصے بعد بولیوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہ بولیاں پھر زبان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔ ایک اور ماہر لسانیات لیب نیز Labniz نے بھی قریب یہی بات کہی ہے ۔ زبان فطری طور پر ارتقاء کی بات ہے ۔ انسان کی سماجی ضرورتیں اس کی تشکیل میں شعوری طور پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔زبانوں کی تشکیل پر غور کریں تو ان کے آپسی اختلافات اور امتیازات کی بنیاد پر چند خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ لسانی خاندان کی بنیاد زبان کے اختلافات، اشتراک اور مماثلتیں ہوتی ہیں ۔

ہند آریا کا ارتقاء

آریا تقریبا 2500 ق م کے لگ بھگ ہندوستان میں آئے ۔ اس سے قبل یہاں دراوڑی قوم کا غلبہ تھا۔ جو سر زمین ہند کے مختلف علاقوں میں اباد تھے ۔ ان کی مختلف بولیاں تھیں جن کو ہند یورپی زبانوں کا نام دیا گیا ۔ یہ زبان ترقی کرتے ہوئے 2000 ق م میں ہندوستان میں داخل ہوئی ۔

یہاں پر اس کو ہند ایرانی کا کا نام دیا جاتا ہے ۔ ہند اور یورپی زبانوں میں زبان اور ادب کے اعتبار سے ہند ایرانی کو سب سے قدیم زبان کا نام دیا جاتا ہے ۔ہند ایرانی زبان ہندوستان میں انتہائی ترقی کی منازل طے کرتی رہی ۔

آریاؤں کی نمایاں ترین خصوصیت زبانوں کا ایک مشترک خاندان ہے ۔ یہ اہم زبانیں براعظم یوریشیا میں پھیلتی چلی گئ ۔ سنسکرت، لاطینی یونانی، کلاسیکی ، آریائی زبانیں تھیں۔” رومانی زبانیں ” ( اطالوی، فرانسیسی، اسپینی ، رومانی وغیرہ ) جنوبی یورپ میں پیدا ہوئیں ۔ اس کے علاوہ ٹیوٹانی زبانیں ( جرمن ، انگریزی سویڈش وغیرہ ) اور سلافی زبانیں ( روسی ، پولستانی وغیرہ) بھی آریائی جماعت کی ذیلی جماعتیں ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان تمام زبانوں میں بہت سی مختلف اشیاء کے لئے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کا تقابل ان کی باہمی مشاہبت کو ظاہر کرتا ہے لیکن غیر آریائی زبانوں میں ان اشیاء کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ مختلف ہیں ۔ پورپ میں فنی ، ہنگامی اور بیکانی زبانیں آریائی زبانوں سے تعلق نہیں رکھتیں ۔ عبرانی اور عربی زبانیں ممکن ہے کہ سمیریائی عہد تک قدیم ثقافتوں سے نکلی ہوں لیکن وہ شامی ہیں آریائی نہیں۔ ایک تیسری غیر آریائی جماعت منگولی جماعت ہے ۔ چینی، جاپانی ،تبتی، منگولی اور دیگر بہت سی زبانیں ہیں ۔ یہ جماعت تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے اہم ترین ہے اگرچہ ہندوستان کے لیے اس کی اہمیت نہیں ہے ۔ ہندوستانی آریائی زبانیں سنسکرت سے نکلی ہیں ۔

اس طرح پیدا ہونے والی بولیوں میں سے ایک توپاتی تھی جو مگدھ میں بولی جانے کہ وجہ سے مگدھی بھی کہلاتی تھی ۔اور کچھ دوسری بولیاں بھی تھیں جنہیں پراکرت کا عام نام دیا جاتا ہے ۔ ان سے ہی جدید ہندی ، پنجابی، بنگالی، مراٹھی وغیرہ زبانیں نکلیں۔ لیکن ہندوستان میں بھی غیر آریائی اور ثقافتی لحاظ سے اہم بولیوں کی خاصی بڑی جماعت موجود ہے جس کی دراوڑی نسل کی زبانوں میں تامل ،تلگو ،کنڑا، ملیالم، تلو وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ بے شمار چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے محاورات ہیں جو ہمیں ہندوستانی ذبان کی قدیم ابتدائی شکلوں کے باب میں بہت بتاتے ہیں ۔ کسی زمانے میں ان زبانوں کو ملا کر آسڑک ( Austric ) جماعت قرار دیا جاتا تھا لیکن یہ اصطلاح اب بے معنی تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ منڈاری ، اراون، ٹوڈا وغیرہ میں بڑے فرق ہیں ۔

Author

  • رانا اعظم

    موصوف 1954 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر کے قریبی گاؤں جائی والا ، 318 ج ب کے کسان گھرانہ میں پیدا ہوئے. 2009 میں لاہور منتقل ہوگئے ۔ 1975 میں چوہدری فتح محمد کی قیادت میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اب عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ وابستگی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں تاہم لاہور منتقل ہوکر وکالت کو خیر باد کہہ چکے ہیں . ان کی علمی ونظریاتی بالیدگی ایک طویل ریاضت کا ثمر ہے جس میں انہوں نے ایک دہائی کے طویل عرصہ پر محیط ماہ و سال میں سب کچھ تیاگ کر گہرے مطالعہ اور غور و فکرکو اپناۓ رکھا . فلسفہ سے گہری جڑت کی بنا پر ان کی تحریروں میں تمام مکاتب فکر کے فلاسفر کے اقوال کا حوالہ موجود ہوتا ہے ۔

    View all posts