نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر اضافی ٹیکس نافذ: آج سے ماہانہ کتنا ٹیکس ادا کرنا پڑے گا؟

آج سے تنخواہ دار طبقے کے لیے نئے بجٹ میں نافذ کردہ اضافی ٹیکس لاگو ہوگئے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت، ماہانہ 50 ہزار یا سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر انکم ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔ ماہانہ 1 لاکھ روپے تک کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد کر دی گئی ہے، جو کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر لاگو ہوگا، اور اس طبقے کو ماہانہ 1250 روپے کے بجائے 2500 روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

سالانہ 12 لاکھ روپے سے 22 لاکھ روپے تک کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد ہوگی، اور اس طبقے کو 30 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔ ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپے تنخواہ والوں کو 15 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، اور ان افراد کا ماہانہ انکم ٹیکس 11667 روپے سے بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک آمدن پرانکم ٹیکس کی شرح اب 25 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، اور اس طبقے پر سالانہ 1 لاکھ 80 ہزار فکسڈ ٹیکس بھی نافذ کیا گیا ہے۔ ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار 667 روپے تک کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد کر دی گئی ہے، اور ماہانہ ٹیکس 28 ہزار 770 روپے سے بڑھا کر 36 ہزار 83 روپے ہو گیا ہے۔

سالانہ 32 لاکھ روپے سے 41 لاکھ روپے تک آمدنی پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، اور اس طبقے کو 4 لاکھ 30 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی ادا کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار 667 روپے تک کی تنخواہ پر بھی ٹیکس 30 فیصد لاگو ہوگا، اور ان افراد کا ماہانہ ٹیکس 47 ہزار 408 روپے سے بڑھا کر 58 ہزار 333 روپے کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 41 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدن پر سب سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اور اس طبقے کو سالانہ 7 لاکھ فکسڈ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ ایک کروڑ سے زیادہ آمدن پر افراد اور اے او پیز کو 10 فیصد سرچارج دینا ہوگا۔ یہ نئے ٹیکس قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہوگئے ہیں، جس کا مقصد ملک کی مالی حالت کو مستحکم کرنا اور مزید وسائل پیدا کرنا ہے۔

Author