ہمیشہ اپنی بچی کی شادی اپنے گھر کے کہیں آس پاس کریں جہاں ہر روز آپ اور وہ آسانی سے ایک دوسرے سے مل سکیں ، سب سے بہتر اپنی گلی محلہ ، اگر نہیں تو کسی ساتھ والے محلے میں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو کم از کم اسی شہر میں ، جس شہر یا قصبے یا گاؤں میں آپ خود رہتے ہیں

یاد رکھیں ! سب لڑکے اور لڑکیاں انیس بیس کے فرق سے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور اگر نہیں ، تو شادی کے پانچ سال بعد سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں ( چاہے آپ جیسا مرضی رشتہ ڈھونڈ لیں ) اس لئے بچوں کے رشتے ڈھونڈنے کے لئے دوردراز علاقوں میں اپنے آپ کو خوار نہ کریں اور نہ ہی اپنی بچی کی زندگی تباہ کریں –

آپ کی بچی کی زندگی اسی دن تباہ ہو جاتی ہے جب آپ دوردراز کے علاقوں میں اسے کسی شہزادے گلفام کے ساتھ بیاہ دیتے ہیں. شہزادہ گلفام میں نے اس لئے لکھا ہے کہ ہم اپنے گلی محلے اور قریب کے لڑکے چھوڑ کر دوردراز کے علاقوں میں اچھے لڑکے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں . اور اپنی بچی کی زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر لیتے ہیں

دوردراز کے علاقوں میں بچی بیاہنے سے نہ صرف بچی کی زندگی تباہ ہوتی ہے بلکہ ماں باپ کی عمریں بھی دس بیس سال کم ہو جاتی ہیں ، خصوصا باپ کی ، ایک تو اپنے لخت جگر کو اپنے سے دور کرنے کی وجہ سے اور دوسرے اس بچی کی دن بدن تباہ ہوتی زندگی دیکھ کر اور محسوس کر کے ، جو اس کے چہرے پر لکھنی شروع ہو جاتی ہے اور جس کو پڑھنا والدین کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوتا

ہمارے ملک کی آبادی اتنی زیادہ ہے اور ٹیلنٹ اتنا زیادہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے آس پاس بےشمار اچھے رشتے مل سکتے ہیں ، ضرورت صرف سوچ بدلنے کی ہے

آپ اپنی بچیوں کی شادیاں اپنے گھر کے کہیں آس پاس کریں اور پھر گھروں میں آنے والی بہار دیکھیں

اور یاد رکھیں ! آپ امیر ہیں یا غریب ، اور لڑکے کے والدین ہیں یا لڑکی کے ، ہمیشہ بچوں کی شادیاں سادگی سے کریں اور شادیوں پر فضول خرچیوں میں اڑانے والا پیسہ ان دونوں کے اکاونٹ میں ڈالیں تاکہ ان کی شادی کے بعد کی زندگی خوشحال ہو – شادیاں ناکام ہونے کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں پر ایک وجہ غربت یا قرض ہوتا ہے جو دونوں طرف کی پارٹیوں پر چڑھا ہوتا ہے اور جس کو چھپاتے چھپاتے اور اتارتے اتارتے اور آپس میں لڑتے لڑتے دونوں گھر تباہ ہو جاتے ہیں

اگر آپ امیر ہیں اور اپنے بچوں کی شادی سادگی سے کرتے ہیں تو اس سے آپ کے حلقہ احباب میں آپ کا وقار بڑھے گا ، کم نہیں ہو گا – وقار کم اس وقت ہوتا ہے جب آپ دکھاوا اور فضول خرچی کرتے ہیں

بیٹیوں کی شادی
سادگی کے ساتھ

اس کو سلوگن بنانا پڑے گا

تاکہ غریب ماں باپ کو سکھ کا،سانس لینا نصیب ہو

کوئی جہیز نہیں
کوئی زیور نہیں
کوئی مہندی وغیرہ کی فضول رسمیں نہیں
کوئی اور غیر ضروری خرچے والی رسم نہیں
دونوں گھر والوں ( لڑکے اور لڑکی ) پر کوئی اضافی ، مالی بوجھ نہیں
نہ ہی کوئی ڈیمانڈ ، کسی طرف سے
( اگر کسی فریق نے ضرور کوئی رسم کرنی ہے تو اپنے اپنے گھر میں بیٹھ کر کریں ، دوسرے فریق پر بوجھ نہ ڈالیں )

دونوں فریقین ( لڑکے لڑکی کے گھر والے ) مل کر پیسے اکٹھے کریں ( جتنے بھی ان سے آسانی سے ہو سکیں ) اور اپنے اپنے بچوں کے اکاونٹ میں ڈال دیں تاکہ وہ شادی کے بعد اپنی ضرورت اور اپنی مرضی/پسند کی چیزیں خرید سکیں
بس —–

سادہ نکاح
سادہ رخصتی
اور مشترکہ دعوت ولیمہ
( دونوں فریقین ، مل کر خرچہ اٹھائیں )

( آئیے ! سب مل کر ، سب کی مدد کریں اور اس پیغام کو آگے پہنچائیں )

Author

  • ڈاکٹر تنویر احمد خان

    ڈاکٹر محمد تنویر خان معروف کالم نگار، ادیب و شاعر ہیں ، بانی چئیرمین تحریک ارتقائے اردو ادب ہیں- اپنی لکھی کتاب “کرونا نامہ” پر گورنر ہاوس میں منعقدہ تقریب میں گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔

    View all posts