پانچ جولائی کا پس منظر و پیش منظر

پاکستان پیپلزپارٹی 1967ء میں اپنے قیام سے لے کر 2008ء تک پاکستان کی موسٹ پاپولر سیاسی طاقت رہی ۔ 1970ء، 1988ء، 1990ء، 1993ء 1996ء، 2001ء اور 2008ء کے انتخابات میں حاصل کردہ ووٹ اور حاصل کردہ نشستیں اس سیاسی دعوے کا وہ ثبوت ہیں جو تاریخ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور یہی ریکارڈ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ 1977ء میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی ہی مقبول ترین جماعت تھی لیکن ان انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔ ان انتخابات کے بعد دھاندلی کی بنیاد پر تشدد آمیز تحریک چلائی گئی اور اس تحریک کا نام تحریک نظام مصطفٰی رکھا گیا، اس تحریک کا زیادہ اثر کراچی، حیدرآباد، لاہور اور چند دوسرے شہروں تک محدود تھا، جیسا کہ مذکور بالا سات انتخابات کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی مقبول ترین جماعت ہوتے ہوئے بھی کراچی اور حیدرآباد اس کے نسبتا” کمزور شہر ہیں، اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ تین شہروں میں کامیابی کا یہ مطلب نہیں ہیں کہ پیپلزپارٹی عوامی حمایت سے محروم تھی اور اسے دھاندلی کی ضرورت تھی، 1977ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف 9 جماعتوں( تحریک استقلال اصغر خان، مسلم لیگ پیر پگارا، جماعت اسلامی مولانا طفیل محمد، جمعیت علماء اسلام مولانا مفتی محمود، جمعیت علماء پاکستان مولانا شاہ احمد نورانی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سردار شیر باز مزاری، پی ڈی پی نوابزادہ نصراللہ خان، خاکسار تحریک خان اشرف اور مسلم کانفرنس عبدالقیوم خان ) کا اسلامی جمہوری اتحاد / پی این اے تشکیل دے کر الیکشن میں حصہ لینا اور اس کے برعکس پیپلزپارٹی نے اپنے تمام دور حکومت میں اتحادی مسلم لیگ قیوم گروپ کے ساتھ بھی انتخابی اتحاد کی ضرورت محسوس نہ کرنا پیپلزپارٹی کے مقبول ترین جماعت ہونے کی دلیل ہے،

مخالفین اور غیر جانبدار مبصرین نے بھی بعد ازاں متعدد بار یہ تسلیم کیا کہ پیپلزپارٹی بغیر کسی دھاندلی کے باآسانی میدان مارنے کی پوزیشن میں تھی۔ ضیاءالحق نے اپنی پہلی تقریر میں 90 دن کے اندر اندر الیکشن منعقد کرنے کا اعلان کیا اور ازاں بعد اکتوبر 1977ء میں الیکشن کی تاریخ دی اور پیپلزپارٹی کے دوبارہ الیکشن جیت جانے کے واضح شواہد ملنے پر ضیاءالحق نے الیکشن ایسے ملتوی کیے کہ گیارہ سال سے زائد مدت تک اقتدار سے چمٹا رہا اور اس التواء میں ضیاءالحق کو پیپلزپارٹی کے مخالفین کی تائید و حمایت حاصل تھی،
پی این اے کی تحریک مارچ اور اپریل کے مہینوں میں عروج پہ رہ کر بتدریج ٹھنڈی پڑ چکی تھی، ان سب حقائق کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ منظور کرکہ پی این اے کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ پی این اے کی مزاکراتی ٹیم اس کے صدر مولانا مفتی محمود، نائب صدر نوابزادہ نصراللہ خان اور سیکریٹری جنرل پروفیسر غفور احمد پر مشتمل تھی۔ اس ٹیم کو پیپلزپارٹی کی مزاکراتی ٹیم کے ساتھ طے شدہ نکات اپنے اتحاد کی نو جماعتوں کے سربراہی ٹیم سے منظوری لینا ہوتی تھی جس کے ذریعہ کچھ سربراہان بالخصوص اصغر خان نے تاخیری حربوں کا استعمال کیا اور اب یہ بات واضح طور ریکارڈ پر آ چکی پے کہ پی این اے کی کچھ جماعتیں مذاکرات کی کامیابی کے بجائے مارشل لاء کے آ جانے کو ترجیح دیے بیٹھی تھیں اور انہیں توقع تھی کہ مارشل لاء کے زیرانتظام اچھے الیکشن ہونگے اور اقتدار ان کی جھولی میں آن گرے گا۔فوج کے سربراہ ضیاءالحق کے بارے میں پیپلزپارٹی مخالفین اور غیر جانبدار مبصرین کا یہ تاثر تھا کہ ضیاءالحق ذوالفقار علی بھٹو کے فیور سے مستفید ہو چکا ہے اور کبھی بھی ذوالفقار علی بھٹو کی منشاء کے برخلاف نہیں جائے گا، یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں اس قدر راسخ تھی کہ 5 جولائی کو اپنے خطاب میں ضیاءالحق کو اپنی صفائی پیش کرنا پڑی تاہم ذوالفقار علی بھٹو اپنے سیاسی حریفوں سے بار بار کہہ رہے تھے اگر فوج آگئی تو اس کا واپس بیرکوں میں جانا مشکل ہو جائے گا اور 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات جب ضیاءالحق نے انہیں بتایا کہ مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے اور جلد ہی دوبارہ انتخابات کے بعد آپ وزیراعظم ہونگے تو ذوالفقار علی بھٹو کو اس غلط بیانی کا مکمل ادراک تھا۔ اگلے ہی لمحوں ذوالفقار علی بھٹو نے بی بی سے پوچھا آپ کا کیا خیال ہے ضیاءالحق الیکشن کروا کہ اقتدار کامیاب پارٹی کے حوالے کر دے گا؟ بےنظیر بھٹو نے ہاں میں جواب دیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں کہا آپ پاور پالیٹکس کے کھیل سے آگاہ نہیں ہو، فوج جانے کےلئے نہیں آئی۔

ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مارچ 1977ء کے الیکشن کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری پیپلزپارٹی مخالف سیاستدان وسیم سجاد سابق چیئرمین سینٹ کے والد کے پاس تھی، انہوں نے اس وقت یا بقیہ زندگی کے دوران کبھی بھی یہ اظہار نہیں کیا کہ ان الیکشن میں حکومت میں کوئی مداخلت یا دھاندلی کی یہاں تک جب ذوالفقار علی بھٹو پر نام نہاد مقدمہ قتل زیر سماعت تھی تو ضیاءالحق نے کئی وائٹ پیپرز شائع کیے اور سابق حکومتی بیوروکریٹس اور الیکشن کمیشن کے عملے سے بے ربط بیانات جبرا” حاصل کرکہ ان وائٹ پیپرز کا حصہ بنائے تو نہ ہی وائٹ پیپرز کے اس مواد کا کوئی وزن تھا اور مذکور بالا چیف الیکشن کمشنر نے ایسے موقع پر کوئی گواہی یا بیان دیا

جبکہ ان کی ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی دوری بھی تھی اور باقیوں کی طرح ان پر یقینی دباؤ اور تحریص بھی موجود تھے۔ عمومی گفتگو میں دھاندلی کے ثبوت کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو اور پھر وزرائے اعلی کا بلا مقابلہ منتخب ہونے کی بات کی جاتی ہے۔ کیا 1988ء سے آج تک ہونے والے انتخابات کے نتائج یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ لاڑکانہ کی نشست سے بھٹو کا مقابلہ اور بلا مقابلہ دونوں ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ وہاں سے وہ مخالف امیدوار کو اغواء کرکہ بلا مقابلہ منتخب ہوتے، ہاں یہ بلا مقابلہ کا بندوبست ذوالفقار علی بھٹو کی شہرت کو داغدار کرنے اور آگے کے لیے تیار شدہ مقامی اور بین الاقوامی سازش کا ایک حصہ تو ہو سکتی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کے کسی نادان دوست نے بھی حصہ ڈال دیا ہو۔اس ساری گزارش سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دھاندلی ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی کی ہرگز ضرورت نہ تھی۔
5 جولائی 1977ء کو نافذ ہونے والا مارشل لاء جو سیاسی عدم استحکام اور خلفشار کو کم کرنے کے نام پر کیا گیا اس نے کیا گل کھلائے . اب 5 جولائی کے پیش منظر میں دیکھتے ہیں۔

مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں زندگی سے محروم کیا گیا جو ایک عظیم قومی المیہ تھا تاہم اسے ہم مفروضہ کے طور یہی مان لیں کہ یہ صرف بھٹو بحیثیت فرد، بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی ہی کا نقصان تھا، ضیاءالحق نے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے جو اقدامات کیے اس سے پاکستان کا نظام سیاست و معاشرت زوال اور پستی کی اتھاہ گہرائیوں کی نظر ہوگیا۔ اگر کراچی ہی کی مثال لے لی جائے تو 1977ء کے الیکشن میں وہاں سے پیپلزپارٹی کی طرف سےمولانا احترام الحق تھانوی جیسا عالم ، جمیل الدین عالی جیسا ادیب اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا فرزند جبکہ پی این اے کی طرف سے ایبٹ آباد کا رہائشی اصغر خان، پروفیسر غفور، پروفیسر خورشید اور مولانا شاہ احمد نورانی امیدوار تھے، امیدوار ہونے کےلیے صوبے اور حلقے جیسی قدغنیں نہ تھیں۔ صرف دو سیاسی پروگراموں اور دو انتخابی نشانات کی اہمیت تھی، ضیاءالحق نے اپنی شبانہ روز محنت سے اس سیاسی کلچر کو لسانیت، صوبائیت ، مذہبی فرقہ واریت اور دھن دولت کی طاقت کے کلچر میں تبدیل کیا اس کے لیے ریاستی سرپرستی میں انتظامات کیے گئے۔ پنجاب کے کئی اضلاع شعیہ سنی کی بنیاد پر قتل گاہیں بن گئیں۔ ضیاءالحق نے افغان جہاد کی بنیاد پر امریکی عمل دخل میں اس قدر اضافہ کر دیا جو آج قابل درستی نہیں ہے، افغانستان میں امریکہ بخالف سوویت یونین جنگ دراصل امریکی گریٹ گیم کا حصہ تھا، اگر ذوالفقار علی بھٹو کے ویژن کا حامل شخص پاکستان کی مسند اقتدار پر موجود ہوتا تو امریکہ کو ہرگز اس کی منصوبہ بندی کے مطابق رعایات نہ ملتیں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور نتیجتا” معیشت امریکی غلامی کا شکار نہ ہوتیں اور شاید افغانستان عالمی طاقتوں کے کھیل تماشے کا میدان بھی نہ ہوتا اور اس خطہ کی سیاسی اور معاشی پوزیشن ڈانواڈول کے بجائے مستحکم ہوتی، 5 جولائی 1977ء کے یوم سیاہ کے پیش منظر کا دو اور اہم عوامل گلی گلی اور گھر گھر میں منشیات اور اسلحہ کی موجودگی ہے، 5 جولائی سے قبل پاکستانی معاشرہ صرف فلم کی ہیروئین سے متعارف تھا، اس کے بعد کا پاکستان ہیروئین کے زہر سے آلودہ ہونا شروع ہوا اور آج نہ صرف شہروں کی ہر سڑک کے کونے پر ایک لاوارث زندہ لاش پڑی ہے اور سیرگاہیں بھی ان سے بھرپور ہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے گاؤں میں نوجوانوں کی زندگیاں اس قاتل کی نظر ہو رہی ہیں۔ شاید تیس پنتیس سال کی عمر کے پاکستانیوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ کلاشنکوف کے نام سے بھی لوگ ذمانہ ضیاءالحق میں ہی متعادف ہوئے اور یہ بھی برستہ افغانستان جنگ پاکستانی معاشرے کا جزو لاینفک بنی۔ آج جو ہمارے بھائی پاکستان میں لاقانونیت کا رونا روتے ہیں، انہیں یقینا” معلوم ہوگا کہ مارشل لاء بذات خود لاقانونیت کی ماں ہے، جہاں آئین ممنوع ہوتا ہے، عدالتیں ٹھپ ہوتی ہیں اور بندوق کا راج ہے اور جب یہ بات معاشرے میں سرایت کر جاتی ہے ہر گھر، ہر محلے اور ہر محفل میں ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بیٹھ جاتا ہے جس کی طاقت ہی فیصلوں کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ تاہم ضیاءالحق کے جہاد نے کلاشنکوف کا جو تحفہ پاکستانی معاشرہ کو دیا اس نے لاقانونیت کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے،

آج پاکستانی قانونی معیشت کی نسبت غیر قانونی معیشت کا حجم زیادہ ہے، یہ ضیاءالحق کی افغان پالیسی کے تین اجزاء سے معرض وجود میں آئی ہے، منشیات کا کاروبار، اسلحہ کا کاروبار اور افغان جنگ امریکی مالی امداد، اس سے نو دولتیوں نے جنم لیا اور پھر وہی لوگ سیاست کا اہم حصہ بھی بنے، ادھورے اور عمومی خاکے کے ساتھ اختتام کرتا ہوں کیونکہ پاکستانی بدن میں 5 جولائی کے زخم ابھی کئی عشروں اور کئی نسلوں تک مندمل ہوتے نظر نہیں آتے اور اس موضوع پر لوگ بات کرتے رہیں گے۔

Author

  • ارشد نعیم

    ضلع کوٹلی آزادکشمیر میں مقیم ارشد نعیم ایم ایس سی ایم ایڈ ہیں اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں. سیاسی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں. سیاسی ایشوز پر کئی سالوں سے لکھ رہے ہیں. سیاسی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔

    View all posts