پاکستان کے ایک بہت بڑے نجی لینڈ ڈویلپر نے فوجی افسرانوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس، این جی او ایکٹیوسٹس سمیت صحافیوں کو بھی پلاٹس اور رقم تحفتاً دی ہے۔ کچھ کو پلاٹس کم قیمت پر دیے۔ لیکن ہم سب یہ بھول گئے ہیں کہ یہ ڈویلپر ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کا فرنٹ مین تھا اور اُنہی کی ہدایات پر “مستحقین” کو یہ “صدقات” دیتا تھا۔ تاہم حال ہی میں محض صحافیوں کی فہرست دوبارہ سے وائرل ہو رہی ہے۔ باقی شعبوں کا ابھی تک تحفظ حاصل ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے اُسے اپنا کاروبار کھڑا کرنے میں مکمل مدد دی اور اس کے عوض اُس نے اسٹیبلشمنٹ کے تمام احکامات پر عملدرآمد کیا۔ کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اِن ڈویلپر نے شدت پسند تنظیموں کو بھی کیش تقسیم کیے ہیں۔ اور یہ کیش تقسیم بھی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہوئی۔ اِسی انداز میں انہوں نے ایک سیاستدان کے صاحبزادے کی لندن میں ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ کی جائیداد پانچ کروڑ پاؤنڈ میں خریدی تھی۔ یہ بھی رقم ادا کرنے کا ایک قانونی طریقہ ہے۔
اب اگر ڈویلپر صاحب اصول پرست بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں تو اس کی وجہ محض وہ ایک بات ہے جو بھٹو نے پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤس کے مالکان کی آپس میں لڑائی پر اُن کے بارے ایک فائل پر لکھی تھی:
Thieves fight when they divide
لینڈ ڈویلپر صاحب اب بیرونِ ملک منتقل ہو گئے ہیں۔ وہ اپنا کیش کافی عرصہ پہلے باہر لے جا چکے ہیں۔ اب وہ دبئی وغیرہ میں کاروبار کریں گے اور حالات بدلتے ہی وطن واپس آ کر اپنی پراپرٹیاں بحال کروا لیں گے۔ اس فارمولے پر ایک سیاسی خاندان پہلے ہی عمل کر چکا ہے۔
بہرحال لینڈ ڈویلپر صاحب اسٹیبلشمنٹ کے لیے ادائیگیاں کرتے رہے ہیں کیونکہ سیکریٹ فنڈ دیگر کاموں میں استعمال ہوجاتا ہے یا کم پڑتا ہے۔ اس لیے ادارے کو جب بھی فاضل رقم کی ضرورت ہوتی تھی تو ڈویلپر صاحب کو ہدایات دی جاتی تھی کے فلاں کو یہ دے دو اور فلاں کو وہ دے دو۔
اب دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ایسی کیا معاملہ اٹک گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے ہی مہرے کو تباہ کرنے پر تُل گئی ہے؟ اور اب جبکہ وہ اپنا کیش باہر لے جا چکا ہے تو کیا اسٹیبلشمنٹ اُسے واقعی تباہ کر بھی پائے گی! بظاہر تو کہا جا رہا ہے اُس نے سابق وزیر اعظم کو یونیورسٹی بنانے کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا تھا تاکہ وہ لندن میں این سی اے میں منجمد رقم اپنے جرمانے کے طور پر ادا کر سکے۔ لیکن این سی اے کے ریکارڈ کے مطابق، اس کی رقم غیر قانونی ثابت نہیں ہوئی تھی اس لیے غیر منجمد کر دی گئی اور اُس ڈولپر نے وہ رقم استعمال کر کے اپنا جرمانہ ادا کردیا۔
تو پھر لینڈ ڈویلپر پر اتنا زیادہ عتاب کیوں گر رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر قرینِ قیاس یہ ہے کہ وہ کام جس کے لیے ڈویلپر صاحب اسٹبلشمنٹ کے فرنٹ مین تھے وہ اب بڑے صاحب خود کرنا چا رہے ہیں۔ اب فرنٹ مین کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود فرنٹ پر آ کر کھیلنا چا رہے ہیں، جس طرح گوجرانوالہ کے ڈی ایچ میں پلاٹوں کی تعداد کو دُگنا کر دیا گیا تھا!
باوجود اس کے کہ یقیناً انسان خسارے میں ہے، زن، زر اور زمین کا کاروبار منافع دیتا رہے گا!

Author

  • ثقلین امام

    صاحب تحریر بی بی سی اردو سے طویل عرصہ سے منسلک ہیں . لاہور پریس کلب کی صدارت کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں. گوروں کے دیس میں روزی روٹی کے لیے آباد ثقلین امام کا لاہوریا زندہ دلی کے بے باکانہ انداز سے ان کی مدبر شخصیت کے ساتھ ساے کی طرح ساتھ ہوتا ہے . زیر نظر تحریر جو موصوف نے اپنی کالج لائف کے دوست کے لیے کھلے ڈلے اظہار محبت کے ساتھ لکھی ہے ، اس امر کا والہانہ ثبوت ہے ۔

    View all posts