بےنظیر بھٹوکی بصیرت اور مالیاتی امور

21 جون بے نظیر بھٹو شہید کا یوم پیدائش ہے۔ وہ، اس روز 1953 میں پیدا ہوئیں۔ خاص طور پر ان کی پارٹی کے لوگ، ہر سال، 21 جون کو ان کی سالگرہ مناتے ہوئے، اپنی تحریروں اور تقریروں میں ان کے حالات زندگی کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ذکر زیادہ تر ان باتوں تک محدودہوتاہے کہ وہ کہاں پیدا ہوئیں، کن ملکی اور بین الاقوامی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور کیسے حالات میں ان کو شہید کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کس قدربابصیرت انسان تھیں یہ بات پوری دنیا میں تسلیم کی جاچکی ہے۔ ایسی بابصیرت خاتون کو یاد کرتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے کہ نئی نسل کے سامنے یہ باتیں رکھی جائیں کہ انہوں نے پاکستان کے مسائل کو کس نظر سے دیکھا اور اپنے فہم کے مطابق ان کے حل کے لیے کیا لائحہ عمل پیش کیا مگر یہاں بے نظیر سے وابستہ تقریبات میں اس قسم کے موضوعات پرگفتگو کرنے کی بجائے محض روایتی باتیں کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

وطن عزیز، عرصہ دراز سے جس قسم کے مسائل کا شکار ہے، بے نظیر بھٹو شہید کی زندگی اور ادوار حکومت میں بھی ریاست کو تقریباً اسی قسم کے مسائل کا سامنا تھا۔ پاکستان کو ماضی میں جس قسم کے مالیاتی مسائل کا سامنا تھا وہ مسائل کہیں زیادہ حجم کے ساتھ اب بھی یہاں موجود ہیں۔ عید کے موقع پرملک کے وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے نے کمالیہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے مالیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے خاص طور پر یہ قرار کیا کہ یہاں ٹیکس وصولی کے نظام میں خامیاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خامیوں کو دور کر کے وہ جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس وصولی کی شرح میں 9.5 فیصد سے 13 فیصد تک اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نیت سے باہر موجود شعبوں کو ٹیکس نیٹ کا حصہ بنا کر یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی دستاویزی کمپیوٹرائزیشن کرتے ہوئے، ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی عمل دخل کو محدود کرنے سے نہ صرف شفافیت پیدا ہوگی بلکہ بدعنوانیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔ اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ اگر ماضی میں غلطیاں نہ کی گئی ہوتیں تو آج ہمیں اس قسم کے مالیاتی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اس وقت نظر آرہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید بھی ملک کی زبوں حال معیشت کا ذکر کرتے ہوئے اکثر ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں اور بد عنوانی کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے نے اپنی پریس کانفرنس میں ٹیکس وصولی کے نظام کی خامیوں کا جو ذکر کیا اسے سن کر بے نظیر بھٹو شہید کی وہ باتیں یاد آگئیں جو وہ خاص طور پر اپنے دوسرے دور حکومت میں مختلف مواقع پر کرتی رہیں۔ بے نظیر بھٹو شہید نے پاکستان کی زبوں حال معیشت کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر کہا تھا کہ صرف ٹیکس وصولی کے نظام میں معنی خیز اصلاحات کے ذریعے ملک کے معاشی مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ جن مسائل کا ذکر آج وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے کر رہے ہیں، تیس برس قبل نہ صرف بے نظیر بھٹو شہید نے ان مسائل کی نشاندہی کی تھی بلکہ حل بھی پیش کیا تھا۔ تیس برس قبل، بے نظیر بھٹو نے اعدادو شمار کی روشنی میں یہ کہا تھا کہ ملک کی 13کروڑ آبادی میں سے براہ راست ٹیکس دینے والوں کی تعداد صرف 8 لاکھ ہے اور ان 8 لاکھ میں سے بھی 5 لاکھ وہ سرکاری ملازم ہیں جن کی تنخواہ میں سے براہ راست ٹیکس کٹوتی کر لی جاتی ہے۔ یوں اس وقت 13 کروڑ کی آبادی میں خود سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد صرف تین لاکھ تھی۔ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہاں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں، عالیشان گھروں میں رہتے ہیں اور مہنگی ترین گاڑیاں استعمال کرتے ہیں ان کی تعداد ملک میں تین لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ملک میں خود سے ٹیکس دینے والے صرف تین لاکھ لوگ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری کی جارہی ہے۔ لہذا اس ٹیکس چوری کو روکنے کا یہی بہترین حل ہے کہ فوری طور پر معیشت کو دستاویزی بنایا جائے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں سخت تریں پالیسیاں نافذ کی جائیں تاکہ ملک کی معاشی کسمپرسی دور ہو سکے۔ اس موقع پر ٹیکس وصولی کی مشینری کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے ایک انتہائی معنی خیز اور دلچسب بات کی تھی،جس کا ان کے سیاسی و غیر سیاسی مخالفوں نے اپنے حواری میڈیا کے ذریعے بد ترین مذاق اڑایا تھا۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود جن خرابیوں کو رونا آج وزیر خزانہ اورنگ زیب رو رہے ہیں، تیس برس قبل بے نظیر بھٹو نے ان خرابہوں کو دور کرنے کے لیے ٹیکس وصولی کا نظام پراویٹائز کرنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات لانے کے لیے مشاورت کی تو ایک کمپنی نے ان سے رابطہ کر کے کہا کہ اگر انہیں لاہور کی ایک مارکیٹ سے ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ مل جائے تو وہ گارنٹی دینے کے لیے تیار ہیں کہ اس مارکیٹ سے ایف بی آر کے اہلکاروں کی طرف سے اکٹھا کیے گئے ٹیکس سے تیس گنا زیادہ ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔بے نظیر بھٹو نے اس وقت کہا تھا کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو پرائیوٹائز کر کے ٹیکس کی وصولی میں تیس گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے تو پھر انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کمپنی ملک کے ریونیو میں تیس گنا اضافہ کا آئیڈیا لے کر آئی ہے ضروری ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

بے نظیر بھٹو شہید کی ایف بی آر کو پرائیوٹائز کرنے کی باتیں جب منظر عام پر آئیں تو ان لوگوں نے طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہوئے، ایف بی آر کی پرائیوٹائزیشن کی سب سے زیادہ مخالفت کی جو عام حالات میں ملک کے کسی بھی منافع بخش ادارے کو پرائیوٹائز کرنے کے مطالبے کرتے نہیں تھکتے۔ آج یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ جن طاقتور لوگوں کے مفادات یہاں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پاکستان ایران تجارت کی آڑ میں کی جانے والی سمگلنگ سے جڑے ہوئے ہیں،انہیں کسی طرح بھی گورا نہیں کہ ملکی معیشت کو کمپیوٹرائزڈ اور دستاویزی بنایا جائے۔

بے نظیر بھٹو شہید نے ملک کو معاشی مسائل کی دلدل سے باہر نکالنے کے لیے جو باتیں تیس برس قبل کی تھیں آج وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے بھی تقریبا وہی باتیں کر رہے۔جو لوگ ان دنوں بے نظیر بھٹو کی سالگرہ منا رہے ہیں، بہتر ہوتا کہ وہ اپنی تقریبات کے حاضرین کو یہ باور کراتے کہ ملک کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے ن لیگ کے وزیر خزانہ جوکچھ آج کہہ رہے ہیں محترمہ شہید نے وہ سب کچھ تیس برس پہلے بیان کر دیا تھا۔

 

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts