` بھارتی کمیونسٹوں کی زوال پذیری`
ساٹھ نشستوں سے آٹھ نشستوں تک محددو ، تحریر ، لیاقت علی ایڈووکیٹ
=====================\
آزادی کے بعد قائم ہونے والی لوک سبھا میں حکمران کانگریس کے مقابل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ایک بڑی اپوزیشن سیاسی جماعت تھی اور اس نے اپنی یہ حیثیت کئی دہائیوں تک برقرار رکھی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں چین سوویت یونین جھگڑے میں جہاں دیگر ممالک کی کمیونسٹ پارٹیوں میں تقسیم ہوئی وہاں بھارت میں بھی سی پی آئی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ نئے قائم ہونے والے دھڑے نے خود کو سی پی ایم ( مارکسسٹ) کا نام دیا تھا۔ سی پی آئی نے اکثر و بیشتر غیر مشروط طور پر کانگریس کی حمایت کی جب کہ سی پی ایم کانگریس مخالف سیاسی اتحادوں کا حصہ بنتی رہی۔ سی پی آئی نے اندرا گاندھی کی ایمرجسنی کی غیر مشروط حمایت کرکے اپنی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔ابتدائی طور پردونوں پارٹیوں کے مابین اختلافات انتہائی شدید تھےلیکن جب مغربی بنگال میں سی پی ایم ریاستی اسمبلی کا الیکشن جیت کر حکومت بنانے میںکامیاب ہوئی تو وہاں سی پی آئی ایم کی قیادت میں ایک لیفٹ فرنٹ وجود میں آیا جس میں سی پی آئی، سی پی آئی ایم، ریویلوشنری سوشلسٹ پارٹی اور اور آل انڈیا فارورڈ بلاک( بانی سبھاش چندر بوس) شامل تھیں۔ مغربی بنگال میں جیوتی باسو کی قیادت میں سی پی آئی ایم کی حکومت لیفٹ فرنٹ کے نام پر کئی دہائیاں تک قائم رہی اور باسو کی وفات کے بعد دیبو بھٹہ چاریہ وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہوئے جن کا تعلق بھی سی پی آئی ایم ہی سے تھا۔سی پی ایم کی قیادت میں قائم لیفٹ فرنٹ نے تری پورہ اور کیرالہ میں ایک سے زائد مرتبہ الیکشن جیت کر ریاستی سرکار بنائی اور آج بھی کیرالہ سی پی ایم کے پاس ہے جس کی وزیراعلی وجائن ہیں۔ تین دہائیاں قبل سی پی ایم میں ایک دفعہ پھر اختلافات ابھرے اور ایک نئی کمیونسٹ پارٹی سی پی آئی( مارکسسٹ لیننسٹ) لبریشن کے نام سے وجود میں آئی تھی۔ یہ تینوں پارٹیاں پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں اور لوک سبھا کے الیکشن ہوں یا ریاستی اسمبلوں ان میں اپنی سیاسی بساط کے مطابق حصہ لیتی ہیں
الیکشن 2024 تینوں کمیونسٹ پارٹیوں کل ملا کر آٹھ نشستیں جیت سکی ہیں جن میں چار سیٹیں سی پی ایم جو گذشتہ الیکشن کی نسبت ایک زیاہ تھا 2019 میں اس کے پاس تین نشستیں تھیں۔ سی پی آئی کے حصے حسب سابق دو نشستیں آئی ہیں اور سی پی ایم ایل کو بھی دونشستیں ملی ہیں۔ سی پی آئی ایم ایل بیس سال دوبارہ لوک سبھا کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کیرالہ جہاں سی پی آئی ایم کی ریاستی سرکار ہے وہاں سے اسے صرف ایک نشست ملی ہے اور مغربی بنگال جہاں وہ دہائیوں تک برسر اقتدار رہی ہے سے اسے ایک بھی سیٹ نہیںملی۔ سی پی ایم کو اس مرتبہ غیر متوقع طور پر راجستھان اور تامل ناڈو سے نشستیں ملی ہیں جو اس کا روایتی طور پر حلقہ انتخاب نہیں ہے۔
کمیونسٹ پارٹیوں جن کی ایک وقت میں لوگ سبھا میں نشستوں کی تعداد ساٹھ تھی اب آٹھ نشستوں کےساتھ موجود ہوں گی۔ بھارت میں جہاں عوام نے بی جے پی کی ہندتواکو مسترد کیا ہے وہاں لگتا ہے کہ عوام کمیونسٹ پارٹیوں کے طرز سیاست سے بھی متفق نہیں ہیں
سوویت یونین کے انہدام کے بعد جہاں دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کو زوال آیا وہاں بھارت کی کمیونسٹ پارٹیاں جو اپنی ممبر شپ اور اثر ونفوذ کے اعتبار سے بڑی پارٹیاں تھیں اس زوال سے نہ بچ سکیں اور روز بروز ان کی پارلیمانی طاقت و قوت بھی تحیل ہوتی چلی گئی

Author

  • لیاقت علی ایڈوکیٹ

    زیر نظر تحریر کے لکھاری لیاقت علی ایڈووکیٹ سوشل میڈیا میں اپنی منفرد، بیباک و دبنگ تحریروں کی بنا پر بے حد مقبول ہیں جواں سالی میں لیفٹ کی عملی سیاست کا حصہ بنے ، ضیاء آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، گزشتہ دو دہائیوں سے عملی سیاست کی بجائے انسانی حقوق ، جمہوریت اور فروغ امن کی سربلندی کے لیے علمی و دانشمندانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    View all posts