پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے شعبہ اطلاعات و نشریات انفارمیشن بیورو کی طرف سے صوباٸ انفارمیشن سیکرٹری شہزاد سعید چیمہ اور انکی ٹیم کی بھرپور کوششوں محنت لگن جدوجہد اور جستجو سے 12 مٸ 2024ء بروز اتوار کو الحمرا ہال میں `بھٹو ریفرنس اور تاریخ `کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلہ پارٹی کے کارکنوں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 30 سالہ طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے یہ ریفرنس صدر آصف علی زرداری نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلانے کے لیے سپریم کورٹ کو بھیجا تھا عدالت نے کیس کی سماعت کی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ان کے خلاف ٹرائل بھی انصاف پہ مبنی نہیں ہے ہم اس فیصلے کو تاریخی سمجھتے ہیں اور اب جب عدالت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا غلط تھی تو ہمیں عدالتی اصلاحات کرنی چاہئیں عدلیہ بھی اپنی اصلاحات لا سکتی ہے لیکن یہ بنیادی طور پر پارلیمنٹ کا کام ہے

انہوں نے کہا کہ ہم نے میثاق جمہوریت میں عدالتی اصلاحات پر اتفاق کیا تھا 90% میثاق جمہوریت نافذ ہو چکا ہے لیکن صرف 10% باقی ہے ہمیں یہ اصلاحات کرنی تھیں جن میں آئینی عدالت کا قیام اور ججوں کی تقرری کا طریقہ کار شامل تھا پیپلز پارٹی یہ اصلاحات لانے کی کوشش کرے گی تاکہ عدلیہ مضبوط ہو اور لوگوں کو جلد فوری انصاف ملے اور قائد عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ ہو سکے

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں نفرت کی سیاست ہے سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا گیا ہے ہم اپنے معاشرے میں اختلاف رائے کا احترام نہیں کرتے اس سب کے باوجود پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی مذاکرات اور مفاہمت پر یقین رکھتی ہے 1973 کا آئین اتفاق رائے کا نتیجہ تھا آئین میں 18ویں ترمیم آصف علی زرداری کے صدر ہونے کے وقت اتفاق رائے سے کی گئی تھی ہم نے پارلیمنٹ میں موجود ہر سیاسی قوت کو آن بورڈ لے کر یہ سب کیا

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے پریشان ہیں ان کے علاوہ دہشت گردی بھی ملک اور عوام کا مسئلہ ہے اگر سیاستدان آپس میں بات نہیں کریں گے تو یہ مسائل کیسے حل ہوں گے صدر زرداری نے مشترکہ پارلیمنٹ سے خطاب میں مفاہمت کا پیغام دیا لیکن بدقسمتی یہ تھی کہ مفاہمت کے خواہشمندوں نے شور مچا دیا پارلیمنٹ میں یہ رویہ مناسب نہیں تھا

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہماری پارٹی کی تربیت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کی ہمارا کردار ان کی تربیت کے مطابق ہونا چاہیے اور ہمیں ان عظیم رہنماؤں کی نمائندگی کرنی چاہیے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حالیہ عام انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے پاس ایک نظریہ، ایک منشور اور ایک مہم تھی ہمارا 10 نکاتی منشور تھا عوام کے مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے اب انتخابات کے بعد ہر حکومت چاہے وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں ہمارے منشور کے نکات پر عملدرآمد کر رہی ہیں

اپنی افتتاحی تقریر میں وزیر اعظم نے قبول کیا کہ صوبوں سے متعلق جو وزارتیں اب بھی وفاقی حکومتوں کے پاس ہیں ان کو منتقل کرنا ہوگا پیپلز پارٹی کے منشور میں سولر انرجی کا آئیڈیا دیا گیا تھا اور اب صوبہ پنجاب ہمارے منشور کے اس نکتے کو اپنا رہا ہے ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے

جب ہم نے انتخابی مہم کے دوران کسان کارڈ دینے کا اعلان کیا تو ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن اب پنجاب حکومت کسانوں میں کسان کارڈ تقسیم کرے گی انہوں نے کہا کہ ہمارے آدھے منشور پر عمل ہو جائے تو عوام کو بڑا ریلیف ملے گا پیپلز پارٹی دکھائے گی کہ ہم مثبت کردار ادا کریں گے اور عوام کے مسائل حل کریں گے یہ مثبت کردار اور سیاست ملک کو آگے لے کر جائے گی

صدر پی پی پی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف نے سیمینار سے اظہار خیال کرتے ہوۓ خاص طور پہ مہمان صحافیوں اور ترقی پسند سوچ رکھنے والے تجزیہ کاروں لکھاریوں سے کہا ہم مانتے ہیں کہ آج پنجاب میں ہم پیپلز پارٹی کو متحرک رکھنے میں کامیاب نہیں ہیں لیکن ہم پنجاب میں پی پی پی کو فعال و متحرک کرنے کے عزم سے کوششیں کر رہے ہیں اس ضمن میں ہمیں آپ کا بھی تعاون درکار ہے کیونکہ آپ بھی ملک و قوم کی خوشحالی کے لیے فکر مند ہیں اور آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان اور عوام خوشحال ہو سکتے ہیں پرامن اور مستحکم ہو سکتے ہیں تو پیپلز پارٹی کی کوششوں سے ہی ایسا ہو سکتا ہے آپ بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں تو آٸیں ہماری رہنماٸ کریں ہمارے عوامی کارناموں کو آپ اپنی قلم اور آواز کے ذریعے اجاگر کریں
سیمینار میں سینٸر صحافیوں تجزیہ کاروں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے کارکنان کی بھاری اکثریت موجود تھی اس سیمینار میں سینیر صحافی تجزیہ کار و اینکر پرسن افتخار احمد نے اظہار خیال کرتے ہوۓ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ اگر 1970ء میں لوگوں کی اولین ضرورت روٹی کپڑا اور مکان تھے تو آج بھی پاکستان کے عوام کی اولین ضرورت روٹی کپڑا اور مکان ہی ہیں لیکن کیا آج پیپلز پارٹی روٹی کپڑا اور مکان کے انقلابی نعرے کی تکیمل کے لیے کوشاں ہے انھوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب سمیت ملک بھر میں واپس عوامی طاقت حاصل کرنا چاہتی ہے تو پی پی پی قیادت کو عوام کے بنیادی مساٸل سمجھنے اور ان کے حل کے لیے فوری ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے پارٹی کو واپس وارڈ کمیٹیوں تک تشکیل دے کر لوگوں سے رابطے بحال رکھنے ہوں گے آج پیپلز پارٹی جس شہر میں سیمینار کر رہی ہے اور بھٹو صاحب کا نواسہ انکی پارٹی کے چیٸرمین کی حیثیت سے مہمان خصوصی ہے کبھی یہ لاھور پیپلز پارٹی کا مضبوط اور ناقابل تسخیر گڑھ ہوتا تھا لیکن بدقسمتی سے آج لاھور کے حالات بالکل تبدیل ہیں پیپلز پارٹی قیادت کو اپنے منشور کے اس حصہ پہ عملی کام کرنا ہو گا جس میں کہا گیا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے

بھٹو ریفرنس اور تاریخ کے عنوان سے سیمینار میں سینٸر صحافی تجزیہ کار و میزبان سہیل وڑاٸچ کے سوالات کو نظر انداز کرنا بھی تاریخ مسخ کرنے کے مساوی ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو سہیل وڑاٸچ کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے کیونکہ سہیل وڑاٸچ نے کارکنان پی پی پی کی بہترین ترجمانی کی ہے
سہیل وڑاٸچ نے چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا کہ جن ججز نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سناٸ ان کی تصاویر ابھی تک سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیوں لگی ہیں ان کے ناموں پر سیاہی کیوں نہیں گراٸ گٸ جبکہ صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد اس وقت کی عدلیہ کی جانبداری ثابت ہو گٸ ، سہیل وڑاٸچ نے چیٸرمین بلاول کو مخاطب کر کے پوچھا کہ اب جبکہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو فیصلے کو ایک ڈکٹیٹر کے دباٶ کا شاخسانہ قرار دیا تو ابھی تک ڈکٹیٹر ضیا الحق کی قبر فیصل مسجد کے احاطہ سے کسی قبرستان میں کیوں منتقل نہیں کی گٸ ، سہیل وڑاٸچ نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے تیسرا اور آخری سوال یہ کیا کہ جن لوگوں کو محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیا آپ نے ان کو معاف کر کے ان سے صلح کیسے کر لی محترمہ بینظیر بھٹو نے جس جس کو بھی اپنی موت کا ذمہ دار ٹھرایا چاہے وہ کوٸ سویلین ہو یا کوٸ جرنیل انھیں بھی بے نقاب کرنا پیپلز پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری ہے اور اگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایسا نہ کیا تو تاریخ کو کبھی بھی درست نہیں کیا جا سکتا انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی واحد جماعت ہے جسے وہ ایک عوامی جمہوری سیاسی جماعت مانتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان نے ملک و قوم کے استحکام و ترقی کی خاطر جانوں تک کے نذرانے پیش کیے ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کو واپس عوامی مساٸل پر سیاست کرنا ہی اسے تقویت اور عوامی مقبولیت دلانے کا واحد ذریعہ ہےافتخار احمد اور سہیل وڑاٸچ کی تقریروں کو ہال میں موجود شرکاء کی جانب سے خاصی پذیراٸ بھی حاصل ہوٸ

سیمینار سے انفارمیشن سیکرٹری وسطی پنجاب شہزاد سعید چیمہ ، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری وسطی پنجاب بیرسٹر عامر حسن ، واٸس چیٸرمین پاکستان بار کونسل ایڈووکیٹ عابد ساقی ، اعتزاز احسن نے بھی خطاب کرتے ہوۓ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قاٸدانہ صلاحیتوں پر اظہار خیال کیا جبکہ سیمینار میں پی ایس ایف کے صوباٸ انفارمیشن سیکرٹری سبط حسن کی ٹیم کی جانب سے قاٸدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ میں بھٹو ہوں کے عنوان سے ایک متاثر کن اسٹیج خاکہ بھی پیش کیا گیا

پی ایس ایف اور پیپلز یوتھ آرگناٸزیشن کے کارکنان نے اپنے اپنے صوباٸ صدور موسیٰ کھوکھر ، محسن ملہی کی قیادتوں میں بھرپور شرکت کی سیمینار میں حیرت انگیز طور پہ خواتین اور طلباء و طالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی

پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے تمام ڈویژنل ڈسٹرکٹس تحصیلوں کے انفارمیشن و ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ تمام ذیلی ونگز کے عہدداران سوشل میڈیا متحرک رضا کاران اور سول سوساٸٹی کے اراکین نے ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہوۓ مقررین کو سنا

چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری نے کامیاب سیمینار کے انعقاد پہ میزبان و اسٹیج سیکرٹری سیمینار شہزاد سعید چیمہ اور انفارمیشن بیورو وسطی پنجاب کے اراکین کی کوششوں کو بھی سرراہا۔
سیمینار میں سینٸر صحافیوں تجزیہ کاروں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے کارکنان کی بھاری اکثریت موجود تھی اس سیمینار میں سینیر صحافی تجزیہ کار و اینکر پرسن افتخار احمد نے اظہار خیال کرتے ہوۓ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ اگر 1970ء میں لوگوں کی اولین ضرورت روٹی کپڑا اور مکان تھے تو آج بھی پاکستان کے عوام کی اولین ضرورت روٹی کپڑا اور مکان ہی ہیں لیکن کیا آج پیپلز پارٹی روٹی کپڑا اور مکان کے انقلابی نعرے کی تکیمل کے لیے کوشاں ہے انھوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب سمیت ملک بھر میں واپس عوامی طاقت حاصل کرنا چاہتی ہے تو پی پی پی قیادت کو عوام کے بنیادی مساٸل سمجھنے اور ان کے حل کے لیے فوری ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے پارٹی کو واپس وارڈ کمیٹیوں تک تشکیل دے کر لوگوں سے رابطے بحال رکھنے ہوں گے آج پیپلز پارٹی جس شہر میں سیمینار کر رہی ہے اور بھٹو صاحب کا نواسہ انکی پارٹی کے چیٸرمین کی حیثیت سے مہمان خصوصی ہے کبھی یہ لاھور پیپلز پارٹی کا مضبوط اور ناقابل تسخیر گڑھ ہوتا تھا لیکن بدقسمتی سے آج لاھور کے حالات بالکل تبدیل ہیں پیپلز پارٹی قیادت کو اپنے منشور کے اس حصہ پہ عملی کام کرنا ہو گا جس میں کہا گیا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے

بھٹو ریفرنس اور تاریخ کے عنوان سے سیمینار میں سینٸر صحافی تجزیہ کار و میزبان سہیل وڑاٸچ کے سوالات کو نظر انداز کرنا بھی تاریخ مسخ کرنے کے مساوی ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو سہیل وڑاٸچ کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے کیونکہ سہیل وڑاٸچ نے کارکنان پی پی پی کی بہترین ترجمانی کی ہے
سہیل وڑاٸچ نے چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا کہ جن ججز نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سناٸ ان کی تصاویر ابھی تک سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیوں لگی ہیں ان کے ناموں پر سیاہی کیوں نہیں گراٸ گٸ جبکہ صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد اس وقت کی عدلیہ کی جانبداری ثابت ہو گٸ ، سہیل وڑاٸچ نے چیٸرمین بلاول کو مخاطب کر کے پوچھا کہ اب جبکہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو فیصلے کو ایک ڈکٹیٹر کے دباٶ کا شاخسانہ قرار دیا تو ابھی تک ڈکٹیٹر ضیا الحق کی قبر فیصل مسجد کے احاطہ سے کسی قبرستان میں کیوں منتقل نہیں کی گٸ ، سہیل وڑاٸچ نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے تیسرا اور آخری سوال یہ کیا کہ جن لوگوں کو محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیا آپ نے ان کو معاف کر کے ان سے صلح کیسے کر لی محترمہ بینظیر بھٹو نے جس جس کو بھی اپنی موت کا ذمہ دار ٹھرایا چاہے وہ کوٸ سویلین ہو یا کوٸ جرنیل انھیں بھی بے نقاب کرنا پیپلز پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری ہے اور اگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایسا نہ کیا تو تاریخ کو کبھی بھی درست نہیں کیا جا سکتا انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی واحد جماعت ہے جسے وہ ایک عوامی جمہوری سیاسی جماعت مانتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان نے ملک و قوم کے استحکام و ترقی کی خاطر جانوں تک کے نذرانے پیش کیے ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کو واپس عوامی مساٸل پر سیاست کرنا ہی اسے تقویت اور عوامی مقبولیت دلانے کا واحد ذریعہ ہےافتخار احمد اور سہیل وڑاٸچ کی تقریروں کو ہال میں موجود شرکاء کی جانب سے خاصی پذیراٸ بھی حاصل ہوٸ

سیمینار سے انفارمیشن سیکرٹری وسطی پنجاب شہزاد سعید چیمہ ، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری وسطی پنجاب بیرسٹر عامر حسن ، واٸس چیٸرمین پاکستان بار کونسل ایڈووکیٹ عابد ساقی ، اعتزاز احسن نے بھی خطاب کرتے ہوۓ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قاٸدانہ صلاحیتوں پر اظہار خیال کیا جبکہ سیمینار میں پی ایس ایف کے صوباٸ انفارمیشن سیکرٹری سبط حسن کی ٹیم کی جانب سے قاٸدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ میں بھٹو ہوں کے عنوان سے ایک متاثر کن اسٹیج خاکہ بھی پیش کیا گیا

پی ایس ایف اور پیپلز یوتھ آرگناٸزیشن کے کارکنان نے اپنے اپنے صوباٸ صدور موسیٰ کھوکھر ، محسن ملہی کی قیادتوں میں بھرپور شرکت کی سیمینار میں حیرت انگیز طور پہ خواتین اور طلباء و طالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی

پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے تمام ڈویژنل ڈسٹرکٹس تحصیلوں کے انفارمیشن و ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ تمام ذیلی ونگز کے عہدداران سوشل میڈیا متحرک رضا کاران اور سول سوساٸٹی کے اراکین نے ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہوۓ مقررین کو سنا

چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری نے کامیاب سیمینار کے انعقاد پہ میزبان و اسٹیج سیکرٹری سیمینار شہزاد سعید چیمہ اور انفارمیشن بیورو وسطی پنجاب کے اراکین کی کوششوں کو بھی سراہا . \

Author