ہمسایہ ملک بھارت کی اٹھارویں لوک سبھا کے لیے منعقدہ عام انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا بنیاد پرست ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا الٹا سفر شروع ہو گیا ہے۔ حالیہ انتخابات کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی نے کل 543 نشستوں میں سے 240 نشستیں جیت کر ایک مرتبہ پھر خود کو ایوان کی سب سے بڑی پارٹی ثابت کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات سے قبل بننے والے جس اتحاد کا حصہ بنی اس کی کل نشستیں 290 ہیں جو حکومت سازی کے لیے درکار 272 نشستوں سے 18 زیادہ ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی جیتی نشستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہیں حالیہ عام انتخابات کا فاتح اور اگلی ٹرم کے لیے بھارت کا یقینی حکمران قرار دیا جاسکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس سیاسی اتحاد کی جیت اور حق حکمرانی انتہائی واضح ہے، اس کے کیمپ  میں تو سوگ کی سی کیفیت ہے لیکن اس کا مخالف اتحاد جس کی حاصل کردہ کل سیٹیں صرف بھارتی جنتا پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹوں سے بھی5 کم ہیں،اس کے کیمپوں میں خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ اصل میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے کیمپ میں سوگ  اس وجہ سے ہے  کیونکہ اس جماعت نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں 303 نشستیں جیتی تھیں جو حکومت سازی کے لیے درکار 272 نشستوں سے 31  زیادہ تھیں۔ بھاریہ جنتا پارٹی نے 2019 کے عام انتخابات سے قبل 2014 میں منعقدہ انتخابات 282 نشستیں حاصل کیں جو حکومت سازی کے لیے درکار سیٹوں سے 10 زیادہ تھیں۔ بھارت میں سال 2014 سے قبل 1984 میں وہ آخری عام انتخابات منعقد ہوئے جب کانگریس نے آخری مرتبہ حکومت سازی کے لیے درکار سیٹوں سے 143 زیادہ سیٹیں حاصل کر کے تن تنہا حکومت بنائی تھی۔ اس کے بعد منعقدہ مسلسل 7 انتخابات میں وہاں کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت سازی کے لیے تن تنہا سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔ نریندر مودی کی قیادت میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلے 2014 اور پھر2019 میں حکومت سازی کے لیے بتدریج زیادہ سیٹیں حاصل کر کے تن تنہا حکومت بنائی تو بی جے پی کے رہنماؤں نے 2024 کے لوک سبھا الیکشن کے لیے 400 سیٹوں کا ہدف مقرر کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کر دیاکہ اتنی سیٹیں جیتنے کے بعد وہ نہ صرف تن تنہا حکومت سازی کریں گے بلکہ کسی کی مدد کے بغیر آئین میں ترمیم کر کے اس کی سیکولر حیثیت کو ختم کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔ حالیہ انتخابات میں 400 نشستیں جیتنے کی بجائے گزشتہ انتخابات میں جیتی گئی نشستوں سے  63 کم نشستیں لینےکے  بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئین کی سیکولر حیثیت ختم کرنے کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کے کیمپ میں اگر سوگ کی کیفیت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے خوابوں کی تعبیر اس سے دور ہو گئی ہے،جبکہ کانگریس پارٹی کی سرکردگی میں مخالف کیمپ اس وجہ سے خوش ہے کہ انہوں نے اپنے آئین کی سیکولر حیثیت کو بچا لیا ہے۔
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ بی جے پی نے لوک سبھا میں حاصل دو تہائی اکثریت کے بل بوتے پر جس طرح بھارتی آئین کے آرٹیکل370 میں ترمیم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا، اب وہ بھارت کے آئین میں ایسی ترمیم کیا، تن تنہا کوئی ایساقانون بھی نہیں بنا سکے گی جس کے لیے محض سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوک سبھا میں حکومت سازی کے لیے پہلی ترجیح ہونے کے باوجود حالیہ الیکشن کے نتیجے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی طاقت میں جو کمی واقع ہوئی ہے اسے معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔ بلاشبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی طاقت کم ہوئی ہے مگر اس تناظر میں کیا یہ سوچنا درست  ہے کہ بی جے پی جو مسلسل ترقی کر رہی تھی اب اس کا الٹا سفر شروع ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی طاقت میں کمی کے بعد اس کا الٹا سفر شروع ہوا ہے یا نہیں، اس بات پر غور کرنے سے پہلے یہ دیکھناہوگا کہ بی جے پی نے جو ترقی کی اس کا سفر اس نے کہاں سے شروع کیا تھا۔  
 پاکستان میں بی جے پی کے متعلق بہت کم لوگوں جانتے ہونگے کہ  اپریل 1980 میں معرض وجود میں آنے والی اس جماعت کوراشٹریہ سویم سیوک سنگ نے اپنے ایجنٹ کے طور پر سیاسی میدان میں اتاراتھا۔ اصل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان کے سیاسی منظر نامے سے غائب ہونے والی بھارتیہ جن سنگ کے متبادل کے طور پربنایاگیا تھا۔ بھارتیہ جن سنگ کی پیدائش، آر ایس ایس کے زیر سایہ 1951 میں ہوئی تھی۔  بھارتیہ جن سنگ نے اپنے قیام کے وقت واضح طور پر ہندو نیشنل ازم کو اپنی سیاسی بنیاد قرار دیاتھا، مگر ان دنوں بھارت میں سیکولر ازم کابیانیہ اس قدر مضبوط تھا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگ  کے سیاسی ونگ کے طور پر قائم ہونے والی اس  پارٹی نے کھل کر  مذہبی انتہاپسندی کا اظہار کرنے سے گریز کیا۔  بھارتی جن سنگ کا وجود ایک ہندو نیشنلسٹ سیاسی جماعت کے طور پر 1970 کے وسط تک موجود رہا۔ 1975 میں جب اندرا گاندھی نے امیر جنسی کے نفاذ کومخالف  سیاستدانوں کی گرفتاریوں کے لیے استعمال کیا تواس کے رد عمل میں نہ صرف حزب اختلاف کی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو قریب آنے کا موقع ملا بلکہ آئندہ الیکشن میں کانگریس کے خلاف ایک بڑا سیاسی اتحاد قائم ہونے کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ 1977 میں چھٹی بھارتی لوک سبھا کے الیکشن میں حزب مخالف کی ایسی سیاسی جماعتوں نے جنتا پارٹی کے نام  سے اندرا گاندھی کی کانگریس کے خلاف اتحاد بنایا جس میں ہندو قوم پرست جن سنگ جیسی جماعت بھی شامل تھی اور سیکولر ازم کا دم بھرنے والی سوشلسٹ پارٹی بھی اس کا حصہ تھی۔ 1977 کے انتخاب میں کانگریس کی 153 سیٹوں کے مقابلے میں جنتا پارٹی نے 298سیٹیں لے کر کامیابی حاصل کی۔ جنتا پارٹی کی 298 سیٹوں میں سب سے بڑا حصہ سابقہ جن سنگ کے لوگوں کا تھا جن کی تعداد90 سے بھی زیادہ تھ

  1977 کے انتخاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی جنتا پارٹی کی اتحادی حکومت بہت جلد انتشار کا شکار ہو کر ختم ہوگئی۔ 1977 کے الیکشن میں اندراگاندھی کی کانگریس جس بری طرح ہاری تھی 1980 کے الیکشن میں اس نے اتنی ہی شاندا کامیابی حاصل کی۔ جنوری 1980  کے الیکشن میں جس ٹوٹی پھوٹی جنتا پارٹی نے حصہ لیا اس میں جن سنگ کے لوگ بھی شامل تھے اور یہ پارٹی صرف 31 سیٹیں حاصل کر سکی تھی۔ اس پارٹی میں مزید شکست و ریخت اس وقت ہوئی جب سابقہ جن سنگ سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے یہ کہا گیا کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگ سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کریں تو انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے ساتویں لوک سبھا کے الیکشن کے صرف چار ماہ بعد اپریل 1980میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنا  ڈالی۔
(جاری ہے)

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts