آئینی تقاضوں کے مطابق سال 2024-25 کے لیے بجٹ پیش کیا جاچکا ہے۔ ہر برس، بجٹ پیش ہونے پر حکومت دعوے کرتی ہے اور عوام امیدیں وابستہ کرتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نہ حکومت کے دعوے اور نہ ہی عوام کی امیدیں پوری ہوتی  ہیں۔ اس برس بھی بجٹ 2024-25 پیش کرتے وقت وفاقی وزیر خزانہ اورنگ زیب نے کچھ دعوے کیے ہیں، سوچنے والی بات یہ ہے کہ عوام کو اس بجٹ سے کس قسم کی امیدیں وابستہ کرنا چاہئیں اور کیا  ان کی کوئی بھی امید بر آسکتی ہے۔
یہ احساس یہاں بہت کم لوگوں کو ہے کہ حکومتیں جب کئی بلین اور ٹریلین مالیت کا بجٹ پیش کرتی ہیں اس وقت ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتابلکہ وہ بجٹ کی شکل میں آمدن اور اخراجات کا ایک تخمینہ پیش کرتی ہیں۔ماہرین معاشیات کے مطابق بجٹ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک بجٹ وہ ہے جسے حکومت بناتی ہے اور وزیر خزانہ پیش کرتا ہے جبکہ دوسرا بجٹ وہ ہوتا ہے جسے کسی گھر کے لیے بنایا جاتا ہے اور اکثر کوئی خاتون خانہ اس کی نگران ہوتی ہے۔  پہلی قسم کے بجٹ کو پبلک اور دوسرے کو پرائیویٹ کہا جاتا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ بجٹ کو تیار کرنے کا طریقہ یکساں نہیں ہوتا۔ پرائیویٹ یا گھریلو بجٹ تیار کرتے وقت لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی لگی بندھی آمدن کیا ہے اور اس کے مطابق وہ کسی مد میں کس حد تک خرچ کر سکتے ہیں۔  پرائیویٹ بجٹ کی تیاری کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ حکومت کے پیش کردہ پبلک بجٹ میں عام آدمی کی آمدن میں اضافہ کے لیے کس حد تک اقدامات کیے گئے ہیں۔ عام آدمی کا زیادہ تر بجٹ سالانہ نہیں ماہانہ ہوتا ہے۔ عام آدمی اپنی ماہانہ آمدن کے مطابق اپنا بجٹ تیار کرتا ہے۔ حکومت جب پبلک بجٹ کی تیاری کا آغاز کرتی ہے تو خزانے میں موجود سرمائے کو نہیں دیکھتی بلکہ اپنے ماتحت محکموں اور اداروں سے آئندہ برس کے  متوقع اخراجات کی تفصیل طلب کرتی ہے۔ پورے ملک سے متوقع اخراجات کی تفصیل حاصل ہونے کے بعد ان اخراجات کا مجموعہ اخذ کیا جاتا ہے اور پھر  اس مجموعے کے مطابق ٹیکس اور دیگر محصولات عائد کر کے ریونیو کے حصول کے ذرائع پیدا کیے جاتے ہیں۔حکومتیں جس طریقے سے پبلک بجٹ تیار کرتی ہیں اسے مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ پہلے اخراجات کا تعین کیا جاتا ہے اور بعد ازاں  اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔ اگر آمدن کے طے شدہ اہداف پورے نہ ہو پائیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بجٹ پیش کرتے وقت کیے گئے حکومتی دعووں اور عوام کی وابستہ کی گئی امیدوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔
اس برس بجٹ پیش کرتے وقت  کیے گئے حکومتی دعووں اور عوام کی وابستہ امیدوں کا ممکنہ مستقبل کیا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہ دیکھنا کافی  ہے کہ گزشتہ برس بجٹ کا اعلان کرتے وقت  جو اہداف مقرر کیے گئے تھے وہ کس حد تک پورے ہوسکے۔ گزشتہ مالی سال کے آغاز پر بجٹ پیش کرتے وقت حکومت نے جوہدف مقرر کیے ان کے انجام کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ہے مگر مختصر الفاظ یہ ضرورکہا جاسکتا ہے کہ نہ تو ان اہداف کے مطابق ریونیو کا حصول ممکن ہوا، نہ جی ڈی پی میں اضافہ ہو سکا، نہ افراط زر کو کنٹرول کیا گیا اور نہ ہی حکومتی اعلان کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام پر عمل ہو پایا۔ پاکستان کے گزشتہ ہر بجٹ اور موجودہ بجٹ میں مماثلت یہ ہے کہ حالیہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آمدن کے اہداف اگر پورے ہو بھی جائیں تو خزانے میں آنے والا زر، طے شدہ اخرابات پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوگا۔ رواں مالی سال کے لیے 6.9 فیصد خسارے کے ساتھ 18877 روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کی کل رقم گزشتہ برس کے بجٹ سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ ریونیوکے حصول کا ہدف 17815 روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ برس پورا نہ ہو سکے ہدف سے 46 فیصد زیادہ ہے۔ اس برس جی ڈی پی میں نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس جی ڈی پی میں نمو کا ہدف 3.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن ریکارڈ کے مطابق جی ڈی پی میں نمو صرف 2.38 فیصد رہی۔سال2024-25 کے لیے پیش کیے گئے بجٹ میں سب سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی کے لیے رکھی گئی ہے جو 9700 بلین روپے ہے۔ بیرونی قرضوں کے بعد دوسری بڑی مد دفاعی بجٹ ہے جس کے لیے 2122 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جو اس مد میں گزشتہ برس مختص کی گئی رقم سے 14.98 فیصد زیادہ ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب  نے سال2024-25 کے لیے افراط زر کو 12 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ واضح رہے کہ بجٹ میں ریونیو کے حصول کے اہداف چاہے پورے ہوں یا نہ ہوں مگر بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی بجٹ میں کوئی کٹوتی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
 اس بجٹ پر ماہرین معاشیات نے جو تبصرے کیے ہیں ان میں سے اکثر تبصروں میں طے شدہ اہداف کے حصول پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مبصروں کی اکثریت نے جن دوباتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ان میں سے ایک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 22سے25  اور پنشن میں کیا گیا 15فیصد اضافہ اور دوسرا برآمدات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کا اطلاق ہے۔ ان مبصروں میں سے اکثر کو ایک تو اس بات پر تکلیف  محسوس ہو رہی ہے  کہ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور پینشن میں کیوں اضافہ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف وہ اس بات پر رنجیدہ نظر آئے  کہ برآمدات کے ذریعے کمائی کرنے والے آسودہ حال لوگوں پر انکم ٹیکس کیوں لاگو کیا جارہا ہے۔ حیرت ہے کہ یہ ماہرین معاشیات اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افراط زر کی موجودہ شرح اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ کے امکان کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کسی طرح بھی بلا جواز نہیں ہے۔ اسی طرح اگرسرکاری ملازموں کی محدود آمدن پر پہلے سے ٹیکس لاگو ہے تو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن  انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کیوں ہو۔  

 بجٹ پیش ہونے سے قبل میڈیا پر یہ سنسنی خیز خبرسامنے آئی کہ پیپلز پارٹی نے اس جواز کے تحت بجٹ تقریر کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کہ ن لیگ کی حکومت بننے اور قائم رکھنے میں بہت بڑی سپورٹ فراہم کرنے  کے باوجود وزیر خزانہ اورنگ زیب نے بجٹ سازی میں  پی پی پی سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی اور پورے ملک کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام طے کرتے وقت صوبہ سندھ میں مجوزہ ترقیاتی کاموں کے لیے پیش کی گئی ان کی سفارشات کو بری طرح نظر انداز کیا۔ن لیگ کی حکومت اور وزیر خزانہ اورنگ زیب نے چاہے بجٹ کی تیاری کے وقت پیپلزپارٹی کی سفارشات کو کوئی اہمیت نہیں دی مگر یاد رہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے لوگوں کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا تو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بجٹ کی منظور ی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts