فلم  ‘چمکیلا’ امتیاز علی کا ماسٹر پیس 

چمکیلا کے قتل کے 36 سال بعد نیٹ فلیکس پر ریلیز فلم نے اُن کی موت کے حوالے سے کئی نئے سوالات اٹھا دئیے 

   چمکیلا` بلاشبہ امتیاز علی کا ماسٹر پیس ہے جس میں دلجیت دوسانجھ اور پرینیتی چوپڑہ اپنے فن کے عروج پر دکھائی دیتے ہیں۔ اے آر رحمان کا میوزک بھی خاصے کی چیز ہے ، بھارتی پنجابی سنگر امر سنگھ چمکیلا اور اس کی بیوی امرجوت کا قتل آج تک معمہ ہے یہ وہ کیس ہے جو آج تک حل نہ ہو سکا لیکن ان کی موت کے چھتیس سال بعد نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی امتیاز علی کی فلم `چمکیلا` نے ایک بار پھر لوگوں کے دلوں میں چمکیلا کی محبت جگا دی ہے اور اُن کی موت کے حوالے سے کئی نئے سوالات نے جنم لیا ہے ۔ چمکیلا اپنے وقت کا بہت بڑا سٹار تھا اسے ایلوس آف پنجاب بھی کیا جاتا تھا وہ اپنے گانے لکھتا بھی خود تھا اور طرز بھی خود بناتا تھا ، اس پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ وہ اخلاق باختہ گانے گاتا ہے جس سے لوگوں کے دھرم بھرشٹ ہونے کا خطرہ تھا حالانکہ اسّی کی دہائی میں اُس وقت دیگر سنگر بھی یہی کچھ گاتے تھے اور لوگ سننا بھی یہی چاہتے تھے لیکن چمکیلا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے دوسرے گلوکاروں نے بھی سازشیں کر کے گندے گانے ، گانے کا الزام چمکیلا کے سر ڈال دیا جس پر اسے باقاعدہ دھمکیاں دی جانے لگیں اس نے خوف سے معافی بھی مانگ لی اور کچھ مذہبی گیت بھی گائے لیکن وہ جب بھی سٹیج پر جاتا لوگ اس کے گائے پرانے گانوں کی فرمائش کرتے وہ ایک عوامی گلوکار تھا سو اسے یہ فرمائشیں پوری کرنی پڑتیں جس کی وجہ سے چند شدت پسند گروپ اس کی جان کے درپے ہوگئے ، چمکیلا ایک سپر ہٹ گلوکار تھا اس کے گانے اس دور میں ہٹ ہوتے تھے اور وہ ہاتھوں ہاتھ بکنے والا گلوکار تھا ۔ چمکیلا کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں چار سو لائیو عوامی شو کرتا تھا ۔ 8 مئی 1988 کی ایک دوپہر امر سنگھ چمکیلا اور اس کی بیوی امرجوت جالندھر کے ایک گاؤں میں شو کرنے گئے تو نامعلوم افراد نے انہیں گولیاں مار دیں اور پنجاب کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا اس وقت چمکیلا کی عمر ستائیس سال تھی۔ اس کے قتل کے چھتیس سال بعد بننے والی فلم دیکھ کر لوگوں نے چمکیلا کے لئے آواز اٹھانا شروع کر دی ہے کہ اسے انصاف دیا جائے اسے کیوں ناحق قتل کیا گیا۔ وقت ملے تو فلم ضرور دیکھیں ایک ترقی کرتے گلوکار کو کیسے دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا جو ابھی جینا چاہتا تھا اور بہت کچھ کرنا چاہتا تھا

Author