باہمی مشاورت، دکھ ، تنہائی ، ڈپریشن سے نجات کا راستہ

 آپﷺ اپنے صحابہ ؓ سے مشورے کیا کرتے تھے ، آج کے مسلمان کو اپنی ذات کے علاوہ  کسی پر بھروسہ ہی نہیں ہے

سوشل میڈیا کے اس دور میں جب ہر انسان اپنی ایک الگ دنیا میں جینے لگا ہے،اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے بے خبری بڑھنے لگی ہے،انسانی عادات و اطوار میں بھی غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہونے لگی ہیں۔اب انسان کا انسان سے تعلق اس قدر متاثر ہوگیا ہے کہ کسی حادثہ میں مرتے ہوئے شخص کو بچانے کے بدلے اس کا ویڈیو بنانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔غالباً اس طرح کی بے حسی کا آج سے چند سال قبل تصور بھی ناممکن تھا لیکن آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ہر انسان ’’تیرے بھی صنم خانے،میرے بھی صنم خانے‘‘کی طرز پر چلتے ہوئے اپنی دنیا میں ہی مست مگن رہنا چاہتا ہے اور دیگر انسانوں سے روابط دن بہ دن کم ہوتے جارہے ہیں۔اسی ختم ہوتے ہوئے تعلق کا شاخسانہ ہے کہ چند عادتیں جو انسانی معاشرے کی روح ہوتی ہیں اور جن کی بنیاد پر انسان ایک کامیاب اور آرام دہ زندگی گزارتا ہے وہ بھی اب ناپید ہونے لگی ہیں۔انہی عادات میں سے ایک آپسی مشورہ بھی ہے۔کہ اب ’’اپنی مرضی آپ‘‘ جینے کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی ہے اور اپنے قریبی لوگوں سے بھی مشورے کو الگ الگ وجوہات کی بنیاد پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مشورہ عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کا مصدر شاور ہے جس کے معنی ہوتے ہیں رائے طلب کرنا اور کسی سے اس کے پاس جو کچھ ہے نکالنے کے لئے کہنا۔اس لئے کہ مشورہ طلب کرنے والا سامنے والے شخص سے ایک معاملہ سامنے رکھ کر اس کے ذہن میں جو بھی بات اس سلسلے میں آتی ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے کہتا ہے۔بعض دانشوران نے مشورے کی تعریف یہ بیان کی ہے: اک ماہر شخص سے کسی معاملے میں رائے طلب کرنا تاکہ جو اقرب الی الحق ہے اس تک پہنچا جاسکے۔

قرآن مجید میں سورۃ شوریٰ،آیت نمبر ۳۸؍ میں اللہ عزوجل نے مؤمنین کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ ‘‘ دوسری طرف آج کے دور کا مسلمان ہے کہ اس کو اپنی ذات کے علاوہ اور کسی پر بھروسہ ہی نہیں ہے کہ اس سے اپنا درد ییان کرکے مشورہ طلب کرے،نہ ہی اپنی دنیا میں مگن لوگوں کے پاس وقت ہے یا وہ جذبہ ہے کہ کسی دکھیارے کی داستان سن کر اس کے زخموں پر مرہم لگا ئیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب مشاورتی مجلسیں بیٹھتی ہیں تو آراء کا اختلاف ہوتا ہے لیکن صبر و تحمل کا دامن اگر تھاما جائے تو ایک ہی معاملے میں مختلف آراءبہت ساری پریشانیوں کو حل کردیتی ہیں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک فیصلے کے کچھ ایسے فائدےیا نقصانات ہوتے ہیں جو ایک فرد کو نظر نہیں آتے، دوسرے کو نظر آجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے وقت میں جب اللہ کے رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہورہی تھی،اور راست طور پر احکام ربانی آپﷺ تک پہنچارہی تھی،اللہ عزوجل نے آپؐ کو اپنے صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ان (صحابہؓ) سے اہم معاملات میں مشورہ لیتے رہئے۔ ‘‘ ( آل عمران: ۱۵۹) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں سیرت میں ملتا ہے کہ آپﷺ اپنے صحابہ ؓ سے مشورے کیا کرتے تھے جیسا کہ بدر کے دن آپﷺ نے نہ صرف مشورہ کیا بلکہ قیام کی جگہ بھی بدل دی۔مفسرین نے لکھا ہے کہ آپؐ کا صحابہ سے اس مشاورتی عمل کا اہم مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرامؓ کے اندر جوش وجذبہ اور جو معاملہ (جنگ وغیرہ کا) زیر بحث ہو اس سے دلچسپی اور اس کو کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔

اللہ کے رسول کریمﷺ کے اس عمل میں ہمارے تنظیمی اداروں یا ٹیم لیڈروں کے لئے ایک نہایت ہی اہم سبق موجود ہے کہ گروپ کا سربراہ اگر میٹنگ میں سب کی رائے لیتا ہے اور اس رائے کو مفید پا کر نافذ بھی کرتا ہے تو جو کام انجام دینا ہے اس سے ہر کسی کی وابستگی پیدا ہوتی ہے اور انسان پھر اس فریضے کو پورے انہماک سےا داکرتا ہے۔اس کے برعکس اگر قائد یا سربراہ صرف ’’میری آواز سنو‘‘ کا راگ الاپنے والا ہوتو سارے ہم مقصد ساتھی نہ صرف یہ کہ اس کام سے لاتعلق ہوجاتے ہیں بلکہ ان کا کام کرنے کا جوش و جذبہ اگر مرنہیں جاتا تو کم ازکم متاثر ضرور ہوجاتا ہے
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی
اور یہ خوئے دل نوازی ہے ہی ایسا نسخۂ اکسیر کہ ہمارے گھروں میں،ہمارے آفسوں میں،ہماری کمپنیوں اور دکانوں میں غرضیکہ دینی ودنیوی ہر اس محاذ پر کام آسکتا ہے جہاں چند لوگوں کو مل کر کام انجام دینا ہوتا ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ’’ جب تک تمہارے حکمراں بہترین لوگوں میں سے ہوں گے اور تمہارے مال دار سخی اور بخشش کرنے والے ہوں گے اور تمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں گے تو تمہارے واسطے زمین کے اوپر رہنا قبر میں جانے سے بہتر ہوگا۔ ‘‘اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب امت کا آپس میں مشورہ طے ہونا بندہوجائے گا تو یہ ان کاموں میں سے ایک کام ہے کہ جس کے بعد زمین کا پیٹ( قبر) اس کی پیٹھ( دنیا ) سے بہتر ہوجائے گی۔
اسلام کی ان بہترین تعلیمات کے بعد جب ہم اپنے معاشرے میں پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اپنے گھر تتر بتر نظر آتے ہیں کہ جہاں بچے تک اپنے والدین سے مشورہ سے گریز کرتے ہیں۔دوست و احباب ایک دوسرے سے بدظنی کی وجہ سے اپنے راز ظاہر کرکے مشورہ نہیں کرنا چاہتے۔رشتہ داروں سے توملاقات کو ہی عرصے بیت جاتے ہیں تو کوئی جاکر ان سے کیا مشورہ کرے۔پڑوسیوں سے یا تو جان پہچان ہے ہی نہیں بلکہ کئی صورتوں میں آپسی رسہ کشی جاری ہے تو پھر مشورہ لینے اور دینےکی بات ہی کہاں رہی۔غرضیکہ آج کے دور کا ہر انسان ’زندگی کے ہر محاذ پر تنہا ہوتا جارہا ہوں میں ‘ والی صورتحال سے دوچار ہے۔اسی وجہ سے آج کل ڈپریشن اور پھر خودکشی کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔
آپس میں ربط وضبط انسانی دل کے ہر درد کا علاج ثابت ہوتا ہے،غم دوسروں سے بانٹنے سے ہلکا اور خوشیاں دوسروں سے بانٹنے سے اور بڑھ جاتی ہیں اور مشکلیں دوسروں سے مشورہ لینے سے حل ہوجاتی ہیں۔ اے کاش کہ ہم سمجھیں 

Author