کمرے میں شراب کی گرمی شباب کی حرارت کے فراق میں گرم آہیں بھر رہی ہے۔کیا شراب ،کیا وہسکی کیا وائن ہر طرح کے انتہائی قیمتی جام نفاست سے سجے ہیں۔
ریٹائرڈ خلیفہ آشٹن وی سی جی کا سگار انگلیوں میں دابے میز پر رکھی رومانی کونٹ1945 وائن کی آدھ کھلی بوتل کو تاڑ رہا ہے۔۔۔میز پر shipwreck وائن ،پول راجر کی شمپئن ،رائل ٹائیگرز کی بہترین وہسکی ،bolliniger کی عمدہ شراب سمیت انتہائی مہنگی ولائتی دارو موجود ہے۔خلیفہ مضطرب ہے کہ کونسی بوتل کو گلاس میں انڈیلوں ۔۔
اتنے میں کمرے کے باہر دستک ہوئی۔۔
کمرے کے کونے میں شیشے کے میز پر کولمبین کوکین کی سفید لکیر کو سنہری نلکی سے ناک میں کھینچنے والے چرسی نما دربان کو خلیفہ نے پھنکارتے ہوئے کہا۔۔
“یہ کس حرام کے پلے کو موت پڑ گئی جو دروازا بجا رہا ہے”۔دربان کوکین کی لکیر ادھوری چھوڑ کر دروازے کی طرف لپکا تو اندر ایک چکنا سا بڈھا داخل ہوا۔۔۔
“ابے کیا موت پڑ گئی تھی تمھیں شراب کی محفل میں کباب کا انتظام کرنے کے بجائے اس میں ہڈی بننے کے لیے یہاں چلے آئے۔۔”
خلیفہ نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔
چکنا بڈھا لجاتے ہوئے بولا ۔۔”بس کیا کروں خان صاحب جب تک ایک عدد گلاس آپ کی معیت میں نہ چڑھا لوں سکون نہیں ملتا۔۔۔”
اس اثناء میں چکنے بڈھے کی نظر میز پر پڑھے Cohiba behike کے کیوبن سگار پر پڑی۔۔۔بڈھے نے خلیفہ کو کہا۔۔
“خان صاحب بڑی مہنگی سگار رکھی ہوئی ہے ۔۔”
خان جی نے بے نیازی سے کہا ۔۔”اوئے حرام کے تخم ۔۔سگار مہنگی تمھارے لیئے ہوگی میرے لیے نہیں۔”
جو پینا ہے جلدی پیو اور جلدی پھوٹو یہاں سے۔۔
بڈھے نے پہلے تو کیوںن سگار سے اپنی جیب کو مسلح کیا ۔۔
اس کے بعد انڈین سنگل مالٹ کی وہسکی میں san pellegrino کا اطالوی سوڈا واٹر ڈال کر ایک پیگ بنایا اور اسے خصی سانڈ کی طرح سونگھتے ہوئے چڑھا لیا ۔۔
خلیفہ نے بھی ایک گلاس رومانی کانٹ وائن کا بھرا اور بڑے دلکش انداز میں سونگھ کر پی لیا۔۔۔اور بوتل پرے پھینک کر اوندھا ہو گیا ۔
“یہ کیا خان صاحب ،آپ بھی ایک گلاس پی کر ہمت ہار گے “
چکنے بڈھے نے انگلی کرتے ہوئے کہا ۔۔
“ابے حرامی!تمھیں پتہ نہیں ایک گلاس سے زیادہ شراب میں نہیں پی کیا کرتا کیونکہ فجر کی نماز بھی پڑھنا ہوتی ہے۔۔”
اتنے میں خلیفہ کے آئی فون کی سکرین چمکی اور ایک تصویر ابھری ،جس میں خلیفہ تشھد کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔۔
تصویر پر کیشن تھا۔۔
# ایا ک نعبد و ایاک نسعتین
# دیکھو امت مسلمہ کا عظیم لیڈر
اس تصویر کو خلیفہ نے ایک شرابی ڈکار مارتے ہوئے لائک کیا
کیا۔۔
زبیریات

Author

  • زبیر حفیظ

    صاحب تحریر ہریپور ہزارہ سے ہیں، بی ایس پولیٹیکل سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں. مطالعہ سے شعف ہے۔ چار سال سے سوشل میڈیا پر سماج ،مذہب اور تاریخ پر لکھ رہے ہیں

    View all posts