اقبال قیصر کی کتاب” فلم تے لہور”

پنجابی فلموں کے ساتھ  مصنف نے  بنگالی فلموں کا مقدمہ بھی لڑا ہے

 لاہور فلمی صنعت کا مرکز رہا ہے اس شہرِبے مثال میں فلموں کی تیاری تقسیم ہند بلکہ پہلی جنگ عظیم سے بھی قبل شروع ہو گئی تھی اے آر کاردار لاہور کی فلم انڈسٹری کے بانی تھے جنہوں نے سب سے پہلے  تجرباتی طور پر خاموش فلم تیار کی تھی لاہور کی فلمی صنعت کے حوالے سے اردو میں تو چند کتابیں موجود ہیں لیکن لاہور کے شہریوں کی اپنی زبان پنجابی میں اس حوالے سے کوئی کتاب ہماری نظروں سے نہیں گزری تھی گزشتہ برس  کھوج گڑھ للیانی کے ڈائریکٹر اقبال قیصر کی اس موضوع پر پنجابی زبان میں کتاب ” فلم تے لاہور “منظر عام پر آئی تھی جس کی کاپی انہوں نے گزشتہ ماہ پاک ٹی ہاؤس میں ملاقات کے دوران دستخط کر کے ہمیں دی تو ہم نے جوابی طور پر انہیں اپنی کتاب “لاہور۔شہر بے مثال پیش کی انہوں نے یہ بتا کر ہمیں حیران کر دیا تھا کہ وہ یہ کتاب پہلے ہی پڑھ چکے ہیں رمضان المبارک کے دوران ہم لاہور سے فیصل آباد چلے آئے تو اقبال قیصر کی کتاب بھی اپنے ساتھ ہی کتابوں کے بیگ میں ڈال کر لے آئے بالآخر عید کے بعد” فلم تے لاہور” پڑھنے کی باری بھی آگئی ۔
 اقبال قیصر نے لاہور کی فلمی تاریخ کے حوالے سے اپنی کتاب بڑی تحقیق اور محنت سے لکھی ہے اس سلسلے میں انہوں نے موضوع پر درجنوں کتب کا مطالعہ کیا ہے اور اپنی کتاب میں ہر باب کے آخر پر حوالہ جات بھی تحریر کئے ہیں انہوں نے انتساب لاہور کے فلمی صحافی پرویز راہی اور پٹیالہ کے سردار مندیپ سنگھ سدھو کے نام کیا ہے کتاب کو سلیکھ پبلشرز کے تحت عبداللہ جی نے 2023ء میں نوید حفیظ پریس سے طبع کروا مدینہ ٹاور فیروز پر روڈ لاہور سے شائع کیا تھا پس سرورق پر مندیپ سنگھ سدھو نے کتاب اور صاحبِ کتاب بارے پنجابی زبان میں رائے دی ہے وہ لکھتے ہیں کہ بابا جی اقبال قیصر کی کتاب “فلم تے لاہور “پاکستانی پنجاب یعنی لاہور کی فلمی صنعت پر لکھی گئی ہے کسی زمانے میں یہ پنجاب کی فلم انڈسٹری کہلواتی تھی آج یہ لالی وڈ کے نام سے مشہور ہے انہوں نے لاہور فلم انڈسٹری کی تاریخ کو ماں بولی پنجابی میں لکھ کر بہت اچھا کیا اس کتاب میں صرف پاکستانی پنجاب کی فلمی تاریخ ہی بیان نہیں کی گئی بلکہ اس میں پنجابی بولی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کو بھی بیان کیا گیا ہے

  دیباچے میں “پہلی گل” کے عنوان سے اقبال قیصر لکھتے ہیں کہ لاہور میں فلمی صنعت کا سنگ بنیاد خاموش فلموں سے رکھا گیا تھا ان فلموں کی اگرچہ کوئی زبان نہیں تھی اس کے باوجود ان میں پنجاب بولتا ہوا دکھائی دیتا تھا بمبئی اور کلکتہ کے بعد لاہور کی فلم انڈسٹری متحدہ پنجاب کی تیسری فلمی صنعت تھی لاہور میں تجرباتی طور پر بنائی جانے والی پہلی خاموش فلم “ڈاٹر آف ٹوڈے”  لاہور کے چار پنجابی نوجوانوں نے تیار کی تھی جن میں ہدایت کار اے آر کاردار ، ہیرو ماسٹر غلام حیدر ، ویلن ایم اسماعیل   اور کیمرہ مین گوپال کرشن مہتہ شامل تھے جبکہ لاہور میں بننے والی پہلی بولتی پنجابی فلم “ہیر رانجھا” تھی ہدایت کار اے آر کاردار نے ہی پنجابی فلم “ہیر رانجھا” پلے آرٹ فوٹو ٹون کمپنی کے تحت تیار کی تھی جس کے ہیرو رفیق غزنوی اور ہیروئن انوری بیگم نے بعدازاں  شادی کر لی تھی فلم میں ویلن ایم اسماعیل نے کیدو کا کردار ادا کیا تھا یہ فلم 9 ستمبر 1932ء کو لاہور کے کیپیٹل تھیٹر اورسٹار ٹاکیز میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی کیپیٹل تھیٹر کا نام بعدازاں ریجنٹ  سینما رکھ دیا گیا تھا فلم کے پروڈیوسر حکیم رام پرشاد تھے جو لاہور کے کیپیٹل سینما کے بھی مالک تھے ۔
پہکے باب میں ” پنجاب دی فلم انڈسٹری دا جنم “کے عنوان سے  اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ لاہور کا پہلا سینما گھر 1918ء میں رائل ٹاکیز کے نام سے ٹکسالی دروازے کے اندر شاہی محلے میں بنا تھا جو بعدازاں عزیز تھیٹر اور پھر پاکستان ٹاکیز کہلایا اندرون شہر میں گیتی تھیٹر نے بعدازاں کنگز ، ناولٹی اور آخر میں ترنم کا نام پایا تھا اندرون شہر کے باہر بھاٹی چوک میں مہابیر تھیٹر کو پہلے ڈائمنڈ تھیٹر اور پھر نگار سینما کا نام دے دیا گیا دیپک تھیٹر بھی پرل ، ولنگٹن کے بعد ملک تھیٹر کہلوایا بھاٹی چوک کے سینما گھروں میں کرائون تھیٹر اور پیرامائونٹ سینما ، میکلوڈ روڈ پر بھی ایمپائر ، ایکسیلر ، صنوبر ، رتن ، پیلس اور لکشمی ٹاکیز وغیرہ وجود میں آگئے تھے لکشمی ٹاکیز بعدازاں پربھات ، جسونت ، نیو مجسٹک ، قیصر اور آخر میں مون لائٹ سینما کہلایا میکلوڈ روڈ سے میو ہسپتال چوک تک جانے والی سڑک مشن روڈ پر بھی ناز سینما اور نگینہ سینما بنائے گئے تھے ،  لکشمی چوک میں میکلوڈ روڈ کے ساتھ ہی ایبٹ روڈ پر بھی سینما گھروں کی قطار لگ گئی تھی جن میں نشاط ، اوڈین ، کیپیٹل ، گلستان میٹر پول ، شبستان ، پرنس اور مبارک سینما گھر وغیرہ شامل ہیں مال روڈ اور اس کی ذیلی سڑکوں ٹیمپل روڈ اور کوئنز روڈ پر الفلاح سینما ، ریگل سینما ، پلازہ سینما میوروڈ گڑھی شاہو کے کرائون سینمااور تاج سینما سمیت میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ کے بیشتر سینما گھر اب بند پڑے ہیں ان میں سے کچھ صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور ان کی جگہ تھیٹر ، پلازے ، پٹرول پمپ ، ہوٹل اور پارکنگ سٹینڈز بن چکے ہیں ۔
شہر لاہور میں تجرباتی طور پر تیار ہونے والی پہلی خاموش فلم کے حوالے سے اقبال قیصر اپنی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ اس فلم میں اے آر کاردارنے اپنے محلے داروں ماسٹر غلام قادر اور ایم اسماعیل کو بطور اداکار لیا تھا تینوں اندرون شہر بھاٹی دروازے کے رہائشی تھے گلوکار محمد رفیع کا تعلق بھی بھاٹی دروازے کے محلہ چومالہ سے ہی تھا اے آر کاردار نے بطور ہدایت کار جو پہلی مختصرخاموش تجرباتی فلم بنائی تھی اس کی عکسبندی لارنس گارڈن کی پہاڑی پر کی گئی تھی لاہور کی اس پہلی خاموش تجرباتی فلم میں ماسٹر غلام قادر نے ہیرو ، اے آر کاردار نے ہیروئن اور ایم اسماعیل نے ویلن کا کردار ادا کیا تھا جبکہ لاہور میں بننے والی پہلی باقاعدہ خاموش فلم پریمیئر فلم کمپنی کے تحت پروڈیوسر گوپال کرشن مہتہ ،  ڈائریکٹر شنکر دیو آریہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اے آر کاردار نے ڈاٹر آف ٹوڈے (آج کی بیٹی) کے نام سے بنائی تھی اور بریڈلا ہال سے ملحقہ کھیتوں میں سٹوڈیو بنا کر اس فلم کی عکسبندی کی گئی تھی اس فلم میں ماسٹر غلام قادر ، مس بلے لوو ، وجے کمار ، مس مایا ، ہیرا لال ، ولایت بیگم ، ایم اسماعیل اور اے آر کاردار نے کردار ادا کئے تھے ، اے آر کاردار نے بعدازاں  اپنی فلم کمپنی یونائٹڈ پلیئرز قائم کرکے مزید فلمیں تیار کیں پھر ایک فلم کی ہیروئن سے شادی کرکے بمبئی چلے گئے تھے  اور گلوکار محمد رفیع اور شاعر میراجی کی طرح آزادی کے بعد لاہور واپس نہ آئے تھے ۔
لاہور کی فلمی صنعت کے بانی اے آر کاردار کے حوالے سے اقبال قیصر انکشاف کرتے ہیں کہ وہ تقسیم ہند پر فلم سٹوڈیو اپنے نام الاٹ نہ ہونے کی وجہ سے لاہور واپس نہ آئے تھے اور بھارتی شہری بن کر بمبئی میں ہی مقیم رہے تھے اس حوالے سے اقبال قیصر تفصیل بیان کرتے ہیں کہ ہدایت کار اے آر کاردار  اور ہدایت کار محبوب دونوں  آزادی کے ایک سال بعد بمبئی سے لاہور آئے تھے کاردار اپنے بمبئی والے فلم سٹوڈیو کے بدلے میں لاہور کا شوری سٹوڈیو الاٹ کروانا چاہتے تھے جبکہ محبوب اپنے بمبئی والے فلم سٹوڈیو کے متبادل میں پردھان سٹوڈیو لینا چاہتے تھے مگر شوری سٹوڈیو نورجہاں اور ان کے شوہر شوکت حسین رضوی کو دے دیا گیا تھا اور انہوں نے شوری سٹوڈیو کا نام بدل کر شاہ نور سٹوڈیو رکھ لیا تھا جبکہ پردھان سٹوڈیو کا انتظام دیوان سرداری لال کے پاس تھاجبکہ سٹوڈیو کے مالک سیٹھ دل سکھ پنچولی انڈیا چلے گئے تھے اور کچھ دیر کیلئے لاہور واپس بھی آئے تھے ان کے دوبارہ انڈیا  چلے جانے اور وہاں سے ملکہ پکھراج کے لاہور چلے آنے پر سیٹھ پنچولی کا پردھان سٹوڈیو ملکہ پکھراج کو الاٹ کر دیا گیا تھا اس سے قبل کاردار اور محبوب دونوں لاہور میں اپنے تقسیم کار اداروں کاردار پکچرز اور محبوب پکچرز کے دفاتر بنا کر بمبئی واپس جا چکے تھے اے آر کاردار کا دفتر ان کے بہنوئی اسماعیل جبکہ محبوب خان کا دفتر ان کے بھائی ایم آر خان چلاتے رہے تھے جب دو تین سال بعد پاکستان میں حکومت نے بھارتی فلموں پر پابندی لگادی تو کاردار و محبوب کے دونوں ڈسٹری بیوٹر ادارے بھی بند ہو گئے تھے۔

Author

  • میم سین بٹ

    لاہور ہریس کلب کے لائف ممبر صحافی ، کالم نویس اور مزاح نگار میم سین بٹ نے عملی صحافت کی ابتداء 1993ء میں روزنامہ نوائے وقت کے فیصل آباد بیورو سے بطور رپورٹر کی تھی پھر روزنامہ الاخبار ، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ پاکستان کے بیورو سےمنسلک رہنے کے بعد 2002ء میں لاہور آگئےاور روزنامہ خبریں ، روزنامہ الشرق اور روزنامہ جناح کے نیوز روم سےوابستہ رہے ، کالم “ہائیڈ پارک”بھی لکھتے ہیں حلقہ ارباب ذوق کے رکن ہیں ، اب تک ان کی 4 کتابیں سرکا پہلوان ، نواز شریف۔ وزارت عظمیٰ سے جلاوطنی تک ، لاہور۔ شہر بے مثال اور لاہور کا مقدمہ شائع ہو چکی ہیں ۔

    View all posts