ملکی سیاسی جماعتوں کے آپس میں مخلصانہ مذاکرات تو یقینا ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں، کوئی جماعت دوسری جماعت کا وجود برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، ایسے میں تحریک انصاف کا مذاکرت کی حامی بھرنا یقینا حیران کن ہے…. میں یہ تو نہیں کہتا کہ خان صاحب یا تحریک انصاف اسوقت ملک کے لیے شدید ضروری ہیں، اور یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اُن کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، اور یہ بھی کبھی نہیں سوچا کہ وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جو ملک کے لیے درد رکھتے ہیں، جو پاکستانی عوام کے لیے در د رکھتے ہیں اور پھر یہ بھی نہیں کہوں گا کہ وہ جیل میں بیٹھ کر ”ملک کو کیسے مسائل کی دلدل سے نکالنا ہے“ جیسی ریسرچ پر کام کر رہے ہیں اور یہ بھی نہیں کہوں گا کہ دنیا میں اُن جیسا کوئی لیڈر نہیں ہے ۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ 8فروری کو عوام نے اُنہیں منتخب کیا ہے، چاہے کارکردگی کی بنیاد پر نہیں لیکن اُنہیں ہمدردی کا ووٹ ضرور ملا ہے۔ یہ بھی کہوں گا کہ جتنے بھی اُن پر کیسز کیے گئے ہیں یا نئے کیسز کیے جا رہے ہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو ایک جھٹکے میں ختم ہو سکتے ہیں، یعنی اُن کی کوئی اہمیت نہیں ہے، پھر یہ بھی کہوں گا کہ 9مئی واقعات کی مکمل مگر شفاف تحقیقات ضرور ہونی چاہییں، وہ اتنے قصور وار نہیں ہوں گے جتنے بنا دیے گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ضرور کہوں گا کہ وہ براہ راست کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں ہے،ہاں ! ہوسکتا ہے اُن کے ارد گرد کے لوگوں نے سیاسی و مالی فوائد لیے ہوں،،، اور وہ تو ہمارا ایک عام کلرک بھی جہاں ہاتھ صاف کرنا ہو کر جاتا ہے،،، وہ تو پھر بھی وزیر اعظم کے ارد گرد کے لوگ تھے۔ اور یہ شاید خان صاحب کی غلطی بھی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ارد گرد اُتنی نظر نہیں دوڑائی جتنی اُنہیں اپنے قریبی ساتھیوں پر نظر رکھنی چاہیے تھی،،،
خیر ہمارا کالم بانی تحریک انصاف کی مدح سرائی کرنانہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو چند ایک مشورے دینا ہے کہ وہ ملکی اور عوامی مفاد کے لیے اگر اُنہیں مزید ”سرنڈر“ کرنا پڑتا ہے تو کر جائیں،،، کیوں کہ گزشتہ روز جب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے کہاہے جو ہوا معاف کرنے کو تیار ہوں، مذاکرات کے راستے کھولے جائیں، ،، سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی سے بات کرکے مذاکرات کا آغاز کریں گے، مذاکرات الائنس کی سطح پر بھی ہوں گے، پی ٹی آئی خود بھی آغازکر سکتی ہے۔برف پگھل رہی ہے ہم چاہتے ہیں حالات بہتر ہو جائیں، ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کسی ڈیل سے تعبیر نہ کیا جائے وغیرہ….تو یقینا یہ ایک اچھی اور نیک شگن پیش رفت دکھائی دے رہی ہے،،، اور ویسے بھی جنگوں میں ایک قدم پیچھے ہٹنے کو شکست نہیں کہا جاتا ،،، بلکہ اسے ”حکمت عملی“ سے تشبیہ دی جاتی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ جن فاتحین نے دنیا کو فتح کیا، انہوں نے بھی کبھی نہ کبھی پسپائی اختیار کی تھی۔ سکندرِ اعظم جیسے جری سپہ سالار کا جب ہندوستان میں راجہ پورس کی فوج سے مقابلہ ہوا تو اسے بھی پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔ یہ پسپائی اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی جنگی حکمت کی دلیل تھی۔ اس نے نئے سرے سے منصوبہ بندی کی اور اگلے حملے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح نپولین بوناپارٹ کو بھی روس کی مہم میں پسپائی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یہ پسپائی اس کی فوج کی تباہی کا سبب بنی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نپولین نے اس تجربے سے سیکھا اور آئندہ جنگی حکمت عملیوں میں اسے مدنظر رکھا۔ پسپائی کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے جنگی حکمت‘ حالات کا درست اندازہ اور دشمن کی صلاحیتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا قدم پیچھے ہٹنا دشمن کو دھوکا دے کر آگے بڑھنے اور اسے کمزور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ پسپائی فوج کو دوبارہ منظم ہونے اور نئی قوت کے ساتھ حملہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ 4 دہائیوں پر محیط جنگ وجدل اور سیاسی رسہ کشی سے بھرپورزندگی گزارنے کے بعد بالاآخرافغان رہنما گلبدین حکمت یار نے 2017ءمیں مفاہمت کا راستہ اختیارکیا۔افغان حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے۔ان کے حامی جن کی ایک بھاری اکثریت پاکستان میں آباد ہوچکی تھی ، وہ واپس گئے اور عام زندگی کی طرف لوگ گئے۔
آپ شکار کے متعلق کتابیں پڑھ لیں، یا ویڈیو ز دیکھ لیں،،، کہ شیر چھلانگ یا جَست لگانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹتا ہے۔ ٹیک آف کے عمل میں زمین چھوڑنے سے قبل طیارہ بھی ایک لمحے کے پچاسویں حصے کے لیے پیچھے ہٹتا ہے! اگر آپ کرکٹ کے شوقین ہیں تو دیکھا ہوگا کہ باﺅلرز بھی زیادہ قوت سے گیند کرانے کے لیے اپنے رن اپ مارک پر پہنچنے کے بعد تھوڑا سا پیچھے ہٹتے ہیں۔ گویا کسی بھی کام کو ڈھنگ سے کرنے کے لیے لازم ہے کہ تھوڑا سا توقف کیا جائے‘ اپنے آپ کو سمیٹا جائے‘ اپنی صلاحیت اور سکت کا جائزہ لیا جائے اور پوری قوت کو ایک نقطے پر مرکوز کرکے بھرپور سعی کی جائے۔ اب اس حقیقت کے تناظر میں اپنے معاملات کا جائزہ لیجیے؛ اگر حالات نے آپ کو ایک قدم پیچھے دھکیل دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت آپ کو کسی بڑے کام کے لیے تیار کر رہی ہے!

 

Author

  • علی احمد ڈھلوں

    صاحب تحریر اعلی تعلیمی پس منظر کے ساتھ تین دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہیں.رپورٹنگ، کالم نگاری سے اخبار کی پبلشنگ تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں جبکہ اچھوتے موضوعات پر چار کتابیں لکھ چکے ہیں . دس سال سے پاکستان کے ممتاز اخبارات میں بطور کالم نگار عوام کی ترجمانی کا فریضہ دبنگ انداز سے انجام دے ہیں۔

    View all posts