فارم 47 کے بعد گیٹ 47

ایک جانب جہاں ’فارم 47‘ زیرِ بحث ہے وہیں دوسری جانب ’گیٹ 47‘ سندھ میں ایک مختلف قسم کی صورت حال پیدا کی ہے۔وضاحت کے لیے بتاتا چلوں کہ 20 جون کو سکھر بیراج کا گیٹ نمبر 47 اچانک منہدم ہوگیا تھا جس سے سندھ میں آب پاشی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ سات نہروں کی جانب پانی کی فراہمی منتقل کرنے کی ضرورت ایک ایسے وقت میں پیش آئی ہے کہ جب صوبے بھر میں خریف کی فصل کے لیے آب پاشی کی ضرورت اپنے عروج پر ہے۔ نتیجتاً کاشت کار تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کی چاول، کپاس اور گنے کی فصلوں کو اس وقت پانی کی ضرورت ہے۔

سندھ کی زرعی معیشت میں سکھر بیراج ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتا ہے جوکہ سندھ کی 80 فیصد زرعی زمینوں کو پانی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ حکام چینی ماہرین کی مدد سے بحران پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جوکہ بیراج کو بحال کرنے پر کام کررہے ہیں۔ وزیر آب پاشی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے محکمہ جاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

سکھر بیراج جسے ایری گیشن انجینئرنگ کا شاہ کار بھی کہا جاتا ہے، اسے اپنے قیام کے بعد سے بہت سے تکنیکی چیلنجز کا سامنا رہا۔ 1932ء میں تعمیر ہونے والے اس بیراج نے نہ صرف ایک قابلِ زرعی معیشت بنانے میں مدد کی جبکہ اس کی سندھ کی سماجی سیاسی اقدار کو بھی ایک مخصوص شکل دی۔ اسکالر ڈینیل ہینس نے اپنی کتاب، بلڈنگ دی ایمپائر، بلڈنگ دی نیشن: ڈیولپمنٹ، قانونی حیثیت اور سندھ میں ہائیڈرو پولیٹکس، 1969ء-1919ء میں سکھر بیراج کے سماجی سیاسی حرکیات کا ذکر کیا۔

انگریز دور میں آب پاشی کے نظام سے پہلے سندھ میں زراعت کے لیے قدیم سیلابی نہروں کا استعمال ہوتا تھا۔ ایک بنجر علاقہ جہاں سالانہ اوسط 100 ملی میٹر کی معمولی بارش ہوتی ہے جبکہ ممکنہ طور پر سالانہ 2 ہزار 200 ملی میٹر سے زائد پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے، وہاں بارش پر منحصر آب پاشی صرف معمولی زرعی پیداوار دے سکتی ہے۔

سر ایم ویشوریا اور نواب علی جنگ بہادر نے سندھ میں لائیڈ بیراج اور کینال پروجیکٹ پر رپورٹ کے عنوان سے ایک بصیرت انگیز تجزیہ لکھا، ’سندھ کے بڑے حصے میں سالانہ بارش نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف 10 فیصد زرعی علاقہ بارش پر انحصار کرتا ہے۔ بقیہ علاقے کی بات کریں تو وہاں دریا سے پانی کی مصنوعی سپلائی کے بغیر کاشتکاری ناممکن ہے۔

اس ناموافق موسم نے برطانوی انجینئرز کو فصلیں اُگانے کے لیے دریا کے بہاؤ کی کٹائی کی غرض سے سندھ میں دریائے سندھ پر ایک رکاوٹ بنانے پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ کرنل والٹر اسکاٹ نے 1847ء میں سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر ایک ڈھانچہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ تاہم 6 دہائیوں تک یہ تجویز بمبئی حکام کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ 1904ء میں ڈاکٹر ٹی سمرز نے اسکیم پر کام کیا اور بلآخر 9 جون 1923ء میں بمبئی کی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منصوبے کی توثیق کردی گئی۔ 1927ء میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور بیراج کو 1932ء میں فعال کردیا گیا۔

پتھروں سے بنے اس بیراج میں 66 دروازے ہیں اور ہر دروازے کے درمیان 60 فٹ (18.2 میٹر) کا فاصلہ ہے۔ فعال ہونے کے کچھ عرصے بعد اس بیراج میں تکنیکی مسائل سامنے آنے لگے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ دائیں کنارے کی نہریں زیادہ پانی نکال رہی ہیں۔ 1941-1938ء میں ایک ہائیڈرولک ماڈل اسٹڈی نے حکام کو سلٹ ایکسکلوڈر بنانے اور 10 گیٹس کو مستقل طور پر بند کرنے پر مجبور کیا جو سلٹیشن (گاد) کی وجہ سے غیر فعال ہوگئے تھے۔ اصل ڈیزائن میں تبدیلی کے نتیجے میں بیراج سے سیلاب گزرنے کی گنجائش 15 لاکھ سے 9 لاکھ کیوسک تک کم ہوگئی۔

اس کے بعد سے سکھر بیراج میں 11 دفعہ سیلاب آچکا ہے جوکہ 9 لاکھ کیوسک سے پانی بڑھ جانے کی صورت میں آئے جبکہ ان میں 6 آبی ریلے ایسے تھے کہ جوکہ 11 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی ہونے کی صورت میں آئے۔ 1976ء میں 11 لاکھ 66 ہزار کیوسک کا سب سے بڑا ریلہ آیا لیکن وہ بحفاظت گزر گیا۔ 2010ء میں 11 لاکھ 31 ہزار کیوسک کا آبی ریلہ بھی محفوظ انداز میں گزر گیا لیکن ٹوری بند کی نہر کے قریب شگاف نے سکھر بیراج کو ایک بڑی رکاوٹ سے نجات دلوائی جس سے بیراج کو ممکنہ طور پر بڑا نقصان پہنچ سکتا تھا۔

گیٹ 47 کا منہدم ہونا، سکھر بیراج کی تاریخ میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 20 دسمبر 1982ء کو گیٹ 31 بھی ایک زوردار آواز کے ساتھ منہدم ہوگیا تھا۔ انجینئر اے آر میمن کی جانب سے سکھر بیراج گیٹ نمبر 31 کی ناکامی اور تبدیلی کے پروگرام کا مطالعہ کے عنوان سے ایک تکنیکی رپورٹ میں واقعے کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ مطالعہ میں سامنے آیا کہ آدھی انچ گہری اسٹیل کی پلیٹ اور گیٹ کے اوپری گرڈر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ چونکہ دسمبر میں بہاؤ کم ہوتا ہے اور سالانہ بندش میں وقت بھی کم رہ گیا تھا اس لیے بحران پر باآسانی قابو پالیا گیا۔

اس وقت طے شدہ بندش کا وقت تبدیل کرکے بیراج کو کچھ دن قبل بند کردیا گیا جبکہ پانی کے اخراج سے ندی میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔ پاکستان بحریہ اور کراچی شپنگ کارپوریشن متحرک ہوئے اور بند ہونے والے 10 دروازوں سے متبادل کے طور پر ایک دروازہ لے کر گیٹ 31 کو تبدیل کیا گیا۔ یہ پورا عمل دو ہفتوں میں مکمل کیا گیا تھا۔

اس کے بعد برطانیہ کی اوورسیز ڈیولپمنٹ انتظامیہ نے تکنیکی تحقیقات اور تمام دروازوں کی تبدیلی کے لیے مشاورت کی خدمات حاصل کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی۔ سر ایم میکڈونلڈ اینڈ پارٹنرز اور نیوٹن چیمبر (لمیٹڈ) کنسلٹنٹس کے طور پر کام کیا جنہوں نے بیراج کا مکمل معائنہ کیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ زنگ کی وجہ سے ڈھانچہ کمزور ہوا جوکہ بالآخر گیٹ نمبر 31 کے منہدم ہونے کا سبب بنا۔
اسی طرح گیٹ 47 کے یوں اچانک منہدم ہونے کی بھی جامع تحقیقات کی جانی چاہیے۔ سندھ کا محکمہ آب پاشی کرپشن اور نااہلی کا سامنا کررہا ہے۔ خراب گورننس اور معیار کے مطابق نگرانی نہ ہونے کا بھی فقدان ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کوئی بھی انجینئرنگ ناکامی یوں اچانک نہیں ہوسکتی بلکہ اس سے قبل پیشگی علامات ضرور ظاہر ہوئیں ہوں گی۔ مؤثر اور معیاری نگرانی کے نظام کے ذریعے کوئی بڑی تکنیکی خرابی سے قبل خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے اور شاید بروقت اس پر توجہ دے کر کارروائی کرنے سے اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

سندھ کے قدیم بیراج کے انفرااسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔ سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج بالترتیب 1932ء، 1958ء اور 1968ء میں تعمیر کیے گئے تھے۔ حالیہ دنوں ورلڈ بینک کی مالی مدد سے بیراجز کی بہتری کے پروجیکٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں سکھر بیراج کی بحالی اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق لانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔مون سون سے قبل سکھر اور دیگر بیراجز کی مکمل تکنیکی معائنے کی ضرورت ہے۔ غیرمعمولی بلند درجہ حرارت اور شدید بارشوں کی پیش گوئی مطالبہ کرتی ہیں کہ سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات پر توجہ دی جائے۔

https://www.dawnnews.tv/news/1236750/

Author