غزہ مسلم طرز فکر کو بدل رہا ہے
 یورپ و امریکہ میں  فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں مسیحی ویہودی بھی شریک ہوے
غزہ کےعوام نے دنیا کو جس صبر و جس برداشت کا مظاہرہ سامنے رکھا ہے، اس نے ساری دنیا کو بہت متاثر کیا ہے،ساری دنیا میں غزہ کی وجہ سے ایک فکری انقلاب پیدا ہو گیا ہے، اس میں  شبہ نہیں  کہ اس سے پہلے صرف یاسر عرفات ایک ایسی فلسطینی ہستی تھے، جس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ کیا ہے اور دنیا جس طرح اسے نظر انداز کر رہی ہے، ہر چند کہ اسرائیلی یاسر عرفات کو صرف اور صرف دہشت گرد کہتے تھے اور اس کے اس پروپیگنڈے کا بھی دنیا پر اثر ہوا تھا، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تقریباً سارا یورپ بلکہ ، مغربی دنیا بھی ایسا ہی سمجھتی تھی، ہمیں  یاد ہے کہ ہر چند کہ روس اور ناوابستہ دنیا نے یاسر عرفات کو فلسطینی صدر مان لیا تھا لیکن مغرب اب بھی فلسطین اور اس کی تحریک سے بے گانہ تھا، ہمیں  اچھی طرح یاد ہے کہ جب عالمی دباؤ کی وجہ سے اقوام متحدہ نے یاسر عرفات کو اسمبلی میں  آ نے کی اجازت دی تھی تو امریکہ اور یورپ نے اس بات پر بڑا واویلا مچایا تھا کہ یاسر عرفات اپنی کمر میں  بندھے پستول کے ساتھ کیوں  آرہے ہیں ۔ یہ پستول یاسر عرفات کے لئے کوئی ہتھیار نہیں  بلکہ ان کی شخصیت کا حصہ تھی، یاسر عرفات کی رحلت کے بعد ، جس کے بارے میں  آج تک خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فرانس میں
 کسی سازش کے سبب دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
 اس بار بھی غزہ کے حماس مجاہدین اور دوسرے فلسطینیوں  کے بارے میں  بھی یہی کہا گیا کہ یہ سب دہشت گرد ہیں ، اس لئے اس پروپیگنڈے کا سب سے پہلا اثر حماس ہی تھا، یقیناًحماس ایک لڑاکا اور جنگجو فورس ہیں  ، لیکن رفتہ رفتہ دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ وہ اسرائیلی فوج کے علاوہ کسی سے جنگ نہیں  کرتے، اسرائیلی فوج بھی انہیں  دہشت گرد قرار دے کر ان پر طرح طرح کا ظلم کرتی تھی اور دنیا اسے خاموشی سےدیکھتی تھی،اسرائیل نے فکسطین کی زمین پر قبضہ کیا اور وہاں  اپنی رہائش گاہیں  بنائیں ۔ یہ رہائش گاہیں  اسرائیل کے باہر دنیا میں  بکھرے ہوئے یہودی افرا دکے لئے تھیں  ، جو ارض موعودہ پر رہنے کو تیار تھے، شاید یہ صورت حال کبھی نہیں  بدلتی لیکن جب حماس نے محض چند گھنٹوں  میں  اسرائیل کی لاکھوں  کی فوج کو بالکل بے دست و پا کر دیا تو دنیا کو اچانک معلوم ہوا کہ حماس دہشت گرد نہیں  بلکہ ایسی طاقت ہیں  جو اسرائیلی فوج جیسی ناقابل شکست کو بھی شہ دے سکتی ہیں ۔اسرائیل نے فلسطین کو ایک عالمی مسئلہ بنا یا ہے، آج صورت یہ ہے کہ وہ تمام ممالک جو کبھی اسرائیل کو مظلوم سمجھ کر اس کے ساتھ تھے آج اس سے دور جاچکے ہیں ، یورپ کے کئی ممالک میں  اور خود امریکہ میں  فلسطین کی حمایت میں  جتنے مظاہرے ہوئے ہیں ،اس کے بارے میں  کبھی سوچا بھی نہیں  جا سکتا تھا، یہ نہ سمجھئے کہ یہ مظاہرے مسلمانوں  نے کئے ہیں ۔ ان میں  عیسائی بھی ہیں  اور حتیٰ کہ یہودی بھی ہیں ۔ ہر چندکہ یہودیوں  کی تعداد قدرے کم ہے لیکن یہ کیا کم ہےکہ ان میں  بھی فلسطین کےلئے ہمدردی کی لہر ہے، آج جو ملک اور جو قوم فلسطین کی مددنہیں  کر رہی ہیں ،اسے صحیح نہیں  کہاجاسکتا، اس کی کئی مثالیں  سامنے ہیں ۔
 ترکی کو لے لیجئے ، ترکی کے طیب اردگان کو اب تک سب سے بڑا عالمی لیڈر مانا جاتا تھا، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ترکی کے بلدیاتی انتخابات میں  ان کی شکست ہوئی ہے ، اسے ہار نہیں  کہا جا سکتا لیکن کم از کم نو ضلع میں  ان کی پارٹی کو چند ووٹوں  سے شکست ہوئی ہے، وہ کیا ہے۔ ترکی میں  حماس اور غزہ کے لئے حمایت کی زبردست لہر ہے، ترکی کے ہر شہر میں  بڑے بڑے مظاہرے بھی ہوئے ہیں ، لیکن طیب اردگان بالکل خاموش رہے، ہم وثوق سے تو نہیں  کہہ سکتے،لیکن یہ بھی ہے کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کررکھے ہیں ، طیب اردگان کو اسی لئے شکست ہوئی ہے۔

 چند دنوں  پہلے امریکہ کے ٹیلی ویژن سی این این نے ایک اطلاع دی کہ ایران اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے، اس کی وجہ یہ بتائی کہ اسرائیل نے شام کے دمشق میں  ایک ایرانی سفارت خانہ پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں  کم ز کم تیرہ ؍ ایرانی افسران اوردیگر لوگ شہید ہو گئے(مضمون تحریر کرتے ہوئے ہی یہ خبر بھی آئی کہ ایران نے اسرائیل پر تقریباً دو سو میزائل اور ڈرون داغے ہیں  اور مزید داغنے کی تیاری ہے) اسرائیل نے اس طرح کی کارروائی کوئی پہلی بار نہیں  کی ہے، اسرائیل اس بہانے سے کہ ایران اسرئیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے پہلے بھی کئی بار اس طرح کی حرکتیں  کرتا رہا ہے، جنگ کوئی اچھی چیز نہیں  ہے چاہے وہ جیسے بھی شروع ہو اور جس نے بھی شروع کی ہو، لیکن جب اسرائیل اس طرح کی کارروائیاں  کرےگا تو اس کا جواب تو دیا ہی جائے گا، لیکن یہ نہ بھولئے کہ لبنان میں  نصراللہ کی ایک فوج موجود ہے، کہتے ہیں  کہ اس کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے، اور یہ بھی نہ بھولئے کہ یہ فوج ہے وہ بھیڑ یا انبوہ نہیں  ہے، یہ باضابطہ فوجی ہیں ، تین سال پہلے نصراللہ کی فوجوں  نے ایک حملے کا اتنا زبردست جواب دیا تھا کہ اسرائیلی فوج کو بھاگنا پڑا تھا، کچھ ماہ پہلے بھی نصراللہ نے اسرائیل کی سرحدوں  کے قریب اسرائیل کے قبضے کے کئی علاقے خالی کروا لئے تھے، اسرائیل نے یہ مانا تھا کہ یہ ایک بدترین شکست ہوئی تھی۔
 بہرحال ایران کی مبینہ دھمکی کے بعد اسرائیل کے علاوہ سعودی عرب کو زیادہ تشویش ہے۔سعودی عرب کے نئے حکمراں  محمد بن سلمان اس وقت سنا ہے کہ سعودی عرب میں ’نیون ‘نام کا ایک نیا اور ماڈرن شہر بنا رہے ہیں ، اس کی تعمیر میں  یوں  تو کوئی مشکل نہیں ، محمد بن سلمان بہت مالدار ہیں ، لیکن اسرائیل پر ایران کی دھمکی اور دنیا پر اس کے اثر سے محمد بن سلمان بہت خوفزدہ ہیں ۔

 کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے کچھ اسرائیلی فوجی افسروں  کو نوکری سے نکال دیا ہے، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ افسران اپنے فرائض سے غفلت برت رہے تھے، یہ نہیں  بتایا گیا کہ وہ کیسی غفلت تھی کس لئے یہ سزا دی گئی تھی، لیکن ہمیں  معلوم ہے کہ ان افسروں  نے، جو مصر کی سرحدوں  میں  تعینات ،یہ سزا اس لئے دی گئی ہے کہ انہوں  نے وہاں  رہ کر اسرائیلی حکام کے احکامات کوماننے سے انکار کردیا تھا۔ادھریہ خبریں  بھی مل رہی تھیں  کہ مصر میں اسرائیلی فوج کے افسران موجود ہیں  جو حماس لیڈراسماعیل ہانیہ سے بات چیت کر رہے ہیں ، انہوں  نے ہانیہ کو بتایا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ غزہ میں  جنگ بندی ہو جائےلیکن ہانیہ اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں ، اس سے پہلے بھی ہانیہ کو کئی بار کئی ممالک نے جھوٹے وعدے کئے ، حال ہی میں  انہوں  نے یہ بھی کہا تھا کہ جوبائیڈن یہ چاہتے ہیں کہ جنگ فوراً بند ہوجائے، صرف عرب ملک میں  نہیں  امریکہ میں  بھی عوامی طرز فکر بدل رہا ہے۔

Author