گلوبل وارمنگ کے ماحوال پر منفی اثرات کے موسم میں ہمارے ہاں بجٹ سازی کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ گو کہ سیاسی دشمنی کو طول دینے کی روایت پر قائم رہتے ہوئے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے وفاق سے بھی پہلے اپنا بجٹ پیش کردیا لیکن دیگر صوبے اور وفاق اب بھی بجٹ سازی میں مصروف ہیں۔یہاں کوئی بھی حکومت چاہے جس بھی نیت یا احساس کے تحت بجٹ تیار اور پیش کرے اس پر یہ اعتراضات سامنے آتے رہتے ہیں کہ بجٹ میں فلاں فلاں شعبے بری طرح نظر انداز کر دیئے گئے ہیں۔وطن عزیز میں بجٹ کی تیاری کے وقت جو شعبے بری طرح نظر انداز کیے جاتے ہیں ان میں ایک شعبہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں کی وجہ سے عوام پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا بھی ہے۔ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ماضی میں کبھی بھی ماحول کے لیے فراخدلی سے فنڈز مختص نہیں کیے۔ ماحولیاتی تحفظ اور تبدیلیوں کی مد میں جو فنڈمختص کیے جاتے ہیں ان کی مقدار میں چڑھاؤ کی بجائے ہمیشہ اتارکا رجحان دیکھنے میں آتا رہا۔ یہاں ماحول کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 میں کلائمیٹ چیج ڈویژن قائم کرنے کے بعد اس کے لیے فنڈز مختص کیے۔آصف علی زرداری کے پہلے دور صدارت کے دوران اس ڈویژن کے فنڈز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ جب2013 میں یہاں ن لیگ کی حکومت قائم ہوئی اور میاں نوازشریف وزیر اعظم بنے تو 2014 کے بجٹ میں میاں صاحب کے چہیتے اسحٰق ڈار نے جو بجٹ پیش کیا اس میں ماحولیاتی تحفظ کے جن منصوبوں کے لیے گزشتہ برس 58ملین روپے مختص تھے انہیں کم کر کے25 ملین روپے کر دیا گیا۔ ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کو غیر اہم سمجھ کر ان کے لیے آٹے میں نمک برابر رقم جاری کرنے کی جوروایت اسحٰق ڈار نے ڈالی وہ تقریباً اب بھی ویسے ہی چلی آرہی ہے۔ نومبر 2023 میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ آئی ایم ایف نے فنانس ڈویژن پاکستان پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے قابل قدر فنڈز رکھے جائیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی سرکارڈپٹی پرائم منسٹر اسحٰق ڈار کی حکومت میں موجودگی کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی روایت سے ہٹ کر کس قدر فنڈز مختص کرتی ہے۔
دنیا بھر میں یہ روایت قائم ہو چکی ہے کہ ماحول کے تحفظ اور فضا ئی آلودگی کی شرح کو کم سے کم رکھنے کے لیے جو فنڈز مختص کیے جاتے ہیں انہیں گرین بجٹنگ یا ایکو بجٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں گرین بجٹنگ یا ایکو بجٹ کا کوئی تصور موجودنہیں ہے۔ یہاں حکومتیں ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی طرف سے فنڈمختص کرنے کی بجائے بیرونی امداد پر نظریں جمائے رہتی ہیں۔ اس روایت کے سبب ہمیں بیرونی دنیا سے امداد میں جو فنڈ ملتے رہے ان کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں ماحول کے تحفظ کی بجائے دیگر مشاغل پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہمارا ملک اس وقت ماحول میں رونما ہونے والی جن خطرناک تبدیلیوں سے دوچار ہے، ان کے تدارک کے لیے یہاں صرف بیرونی امدادشفاف طریقے سے خرچ کرنے کی ہی نہیں بلکہ قومی اور صوبائی بجٹوں میں الگ سے فنڈز مختص کیے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں جس ممکنہ خطرے کے لیے سب سے زیادہ الگ فنڈ مختص کیے جانے کی ضرورت ہے وہ خطرہ گلیشیئروں کے پگھلاؤ کا ہے۔
واضح رہے کہ سال 2010 اور 2011 کے دوران یکے بعد دیگر ے آنے والے سیلابوں کے بعد 2012 میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس نے سیلاب جیسی مزید آفتوں کے پاکستان میں رونما ہونے کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔ اس ٹاسک فورس کی تیارکردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بارشیں ہی نہیں بلکہ گلیشیئروں کا پگھلاؤ اور اور اچانک پھٹنا بھی یہاں سیلاب جیسی آفتوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ کسی بھی وجہ سے آنے والے سیلاب سے تحفظ کے لیے یہاں پیشگی اقدامات کا عمل تسلسل سے جاری رہنا بہت ضروری ہے۔
پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں گلیشیئرموجود ہیں ۔ ہمالیہ، قراقرم اور کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں واقع چھوٹے بڑے گلیشیئروں کی تعداد 7200 سے بھی زیادہ ہے۔ یہ گلیشیئر اس لحاظ سے پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں رہے کہ ماضی میں ان کا معمول کے مطابق پگھلاؤ،ان دریاؤں میں پانی کے مسلسل بہاؤ کا سبب بنتا رہا جن دریاؤں کو یہاں زندگی کی علامت کہا جاتا ہے۔ زمانہ حال میں،موسمی تغیرات کا ان گلیشیئروں پر یہ اثر ہوا ہے کہ ان کا پگھلاؤ معمول سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔ ان گلیشیئروں کے گذشتہ کچھ دہائیوں کے دروان لیے گئے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمالی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے گلیشیئروں کی بڑی تعداد تیزی سے پگھلاؤ کا شکار ہے۔ درختوں کی بے رحم کٹائی اور جنگلات کے تیزی سے خاتمے کو شمالی علاقوں کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ گذشتہ تقریباً 80 برسوں کے دوران ریکارڈ کیے جانے والے درجہ حرارت کے تجزیے سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان کے دیگر تمام علاقوں میں اوسط درجہ حرارت میں 1.0 فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا ہے تو گلیشیئروں سے بھر پور گلگت بلتستان میں یہ اضافہ 2.5 فارن ہائیٹ ہے۔
ً گلگت بلتستان کے اوسط درجہ حرارت میں ریکارڈ کیے گئے اضافے کو وہاں گلیشیئروں کے تیزی سے پگھلاؤ اور پھٹنے کی یقینی وجہ قراردیا جارہا ہے۔ اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کی بڑی وجہ گلابل وارمنگ ہے جو کہ صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی مظہر ہے۔ گلوبل وارمنگ پر قابو پانا تو ہمارے لیے ممکن نہیں مگر ایسے اقدامات ضرور ہمارے بس میں ہیں جن کے ذریعے گلوبل وارمنگ کے گلیشیئروں پر پڑنے والے منفی اثرات کو کسی نہ کسی حد تک کم کیا جاسکتاہے۔ اس کام کے لیے جہاں درختوں کی بے دریغ کٹائی کو روکنا ضروری ہے وہاں نئے سرے سے زیادہ سے زیادہ درخت اگانا بھی انتہائی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے گلیشیئروں کی نشاندہی بھی بہت ضروری ہے جو پھٹنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ کام جس قدر جلدی شروع ہو جائے اسی قدر بہتر ہے۔اس کا م کے لیے نہ صرف جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے پہلے سے کیے گئے سرویز سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے بلکہ اس محکمہ کو علاقے کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی ذمہ داری بھی سونپی جاسکتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ہی وہاں کی مقامی آبادی کو گلیشیئروں کے پگھلاؤ کی ممکنہ آفت کے نقصانات سے تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔
گلیشیئروں اور ماحول کے تحفظ کے لیے جو کام انتہائی ضروری ہیں ان کا کیا جانا اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک ان کے لیے بجٹ میں مناسب فنڈز مختص نہیں کیے جاتے۔لہذا وفاق اور صوبوں چاہیئے کہ وہ ایکو بجٹنگ کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ سے جڑے منصوبوں کے لیے ہر حال میں فنڈز جاری کریں۔

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts