گجرات عاشقاں، جہلم منافقاں علاقائی ، لسانی ، فرقوں کی بنیاد پر پائی جانے والی نفرتوں کی ایک جھلک ،
ہمارے ہر علاقے، قبیلے، ذات، فرقے میں بے پناہ نفرتیں پائی جاتی ہیں۔ بلکہ ایک ہی علاقے کے رہنے والے دو دیہات میں بھی نفرت موجود ہے۔ پنجاب میں اگر ایک گاؤں سڑک کے دائیں کنارے ہے، اور نیا گاؤں سڑک کے بائیں کنارے بس جاتا ہے کہ دونوں میں فرق کرنے کے لیے خورد اور کلاں کا لفظ نام کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ خورد والے کلاں والوں کو کمتر انسان سمجھتے ہیں اور کلاں والے خورد کو۔

ذاتوں کے حوالے سے بات کی جائے تو راجپوت اور جٹ باقیوں کو گھٹیا سمجھتے ہیں، اور جٹوں یا راجپوتوں میں ہر ذات باقی ہر ذات کو نیچا دکھانے پر مائل ہے۔ ہیر وارث شاہ میں بھی اِس کا ذکر کئی جگہوں پر موجود ہے۔ قبیلوں کا تفاخر بھی فرضی کہانیوں یا تاریخی حقیقتوں کی بنیاد پر ہے۔ ہنزہ اور گلگت والوں میں بھی ایک دوری موجود ہے۔ دونوں کی مخصوص باتوں پر خود کو افضل سمجھتے ہیں۔

حال ہی میں ہم نے بحیثیت مجموعی پنجاب کے لیے کشمیریوں کے جذبات دیکھے ہیں۔ سرائیکیوں کا ریاستیوں کے ساتھ کافی زیادہ اختلاف رہا ہے، اور شاید اب بھی ہے۔
حتیٰ کہ شہروں میں کی بنیاد پر بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک محاورہ یا مقولہ سننے کو ملا کہ گجرات عاشقاں، جہلم منافقاں۔ تقریباً ہر علاقے کے متعلق آپ کو تضحیک آمیز یا فخریہ جملے مل جائیں گے۔ لاہور کے پرانے علاقوں کے لوگوں تک میں یہ تفاخر موجود ہے: مزنگی بڑا ای جنگی۔ یعنی مزنگ کا رہنے والا شخص بہت جھگڑالو ہو گا۔

اسی طرح عورتوں یعنی آدھی انسانیت کے متعلق ’’اصول‘‘ مل جاتے ہیں۔ بھورے بالوں یا ہلکی ہلکی مونچھوں والی عورت کو ناپسند کیا جاتا تھا۔ سرائیکی اور پنجابی آپس میں شاذ ہی رشتے کرتے ہیں۔ سندھیوں اور پنجابیوں یا بلوچوں کی شادی تو ویسے ہی کبھی نہیں سنی۔

وکلاء کے بورڈ پڑھ لیں، ایسی ایسی ذات ایجاد کی گئی ہے کہ تلفظ بھی معلوم نہیں ہمیں۔ اور بات سب ’’انسانیت‘‘ کی کر رہے ہوتے ہیں، عربی اور عجمی میں فرق نہ ہونے اور تقوی کی بنیاد پر فضیلت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ ان پڑھ اور زیادہ پسماندہ لوگوں یا گروہوں میں یہ شناختیں زیادہ گاڑھی ہوں گی۔ اب تو ایک نئی ذات پی ٹی آئی بھی بن گئی ہے جو تمام نفرتوں اور ہوموپاکیئن حماقتوں کا مجموعہ ہے۔
اگر آپ یوسف زئی یا مہمند پختوں وغیرہ ہیں اور خود پنجابیوں یا سندھیوں سے برتر سمجھتے ہیں تو اپنے آس پاس نظر دوڑا لیں۔ اگر آپ لاہور یا گوجرانوالہ کے ہیں تو دوسرے علاقوں کے لوگوں سے پوچھ لیں۔ ’’سیالکوٹی حرام دی بوٹی‘‘ کا جملہ بہت سے لوگوں نے سن رکھا ہو گا۔
اصل میں بے شناختی اور نفرت کا ایک فانہ ہے جو بہت گہرائی تک گڑا ہوا ہے۔ یہ سب نفرتیں ریاست کے حق میں جاتی ہیں۔ اسی لیے آج کل ثقافتوں کے دن منانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ’’ایک امت‘‘ کی بک بک کرنے والوں کے ہر شہر، محلے، علاقے، ضلعے، نسلی شناخت کی بنیاد نفرت پر ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ہر کوئی ’’باہر‘‘ بھی جانا اور سی ایس ایس بھی پاس کرنا چاہتا ہے۔

Author

  • یاسر جواد

    انگریزی سے اردو، پنجابی اور ہندی زبانوں کےعالمی سطح پر جانے مانے مترجم اور گلوبل اردو انسائیکلوپیڈیا کے ایڈیٹرہیں . فلسفہ، نفسیات، بشریات، تاریخ، مذاہب، طبیعیات، مابعد الطبیعاتی علوم ، کلٹس اور سماجی رسم و رواج و کلاسیکی، کمپیوٹر جیسے مضامین سے متعلقہ 130کتب کا انگریزی ، گرمکھی و شاہ مکھی پنجابی اور ہندی زبانوں میں تراجم کر چکے ہیں . ان دنوں سوشل میڈیا اور ادبی و سماجی تقریبات میں اپنے سائنٹفک و مدلل فکری تناظر کو گاہے بگاہے پیش کرتے رہتے ہیں

    View all posts