حافظ نعیم مستقبل کے عمران خان یا قاضی حسین احمد ؟

 نو منتخب امیر جماعت اسلامی کو میڈیا پبلسٹی کی وجہ سے `پوسٹر بواۓ` کہا جاتا ہے
از ، مبشر زیدی  

میں جس طرح کے خیالات کا آدمی ہوں، مجھے صبح شام جماعت اسلامی پر تنقید کرنی چاہیے۔ جیسے میں یوتھیوں پر کیا کرتا تھا۔ اب بھی کرتا ہوں۔ لیکن جماعت کو کچھ کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔ میرے کئی بہت اچھے دوست موجودہ یا سابق جماعتی ہیں۔ وہ سب شاندار انسان ہیں۔ آپ ان میں کوئی برائی نہیں پائیں گے۔` ایکسپریس` میں جانی سرفراز سیال اور بھائی اصفر امام تھے۔ ان سے `وائس آف امریکا` میں بھی قربت رہی۔ ایکسپریس کے بعد `جنگ` لندن میں جاب ملی جہاں دو افراد کے سوا سب جماعتی تھے۔ میرے علاوہ دوسرے غیر جماعتی سہیل انجم صاحب تھے۔ آج کل وہ اسٹیٹ بینک میں کام کرتے ہیں۔ اس ڈیسک پر منصور احمد سے گہری دوستی رہی۔ وہاں بھی اور پھر `جیو` میں بھائی اظہر حسین ہمدم رہے۔ یہ سب مخلص لوگ ہیں۔ کام نمبر ون کرتے ہیں۔ خوش گفتار ہیں۔ آفس پالیٹکس کا حصہ نہیں بنتے۔ دوسروں کے، یعنی مجھ جیسے “شیعہ ملحد“ تک کے کام آتے ہیں۔ مجھے پریس کلب کا ممبر بھی جماعتیوں نے بنوایا تھا۔ بلکہ میری فیس تک سرفراز سیال نے بھری تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے جماعتی دوستوں کو میرے مذہب دشمن خیالات کا علم نہیں تھا۔ سب اچھی طرح واقف تھے۔ لیکن اچھا آدمی وہی ہوتا ہے جس کا سلوک اچھا ہوتا ہے۔ دوست کو دوست کے خیالات سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ سب جماعتی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو کالجوں یونیورسٹیوں میں اللہ اکبر کے نعرے لگاکر طلبہ پر تشدد کرتے تھے۔ وہ بھی ہیں جو غیر ملکی شاگردوں کو اپنے گھروں میں پناہ دیتے تھے۔ وہ بھی ہیں جو انسان دشمن پالیسیوں کا ملک میں نفاذ چاہتے ہیں اور فرقہ پرست ہیں۔ یہ سب باتیں اس لیے لکھ دیں کہ آج جماعت اسلامی کا دن ہے۔ حافظ نعیم جماعت کے نئے امیر بن گئے ہیں۔ وہ میری عمر کے آدمی ہیں یعنی تقریبا جوان ہی ہیں۔ مخالفین انھیں پوسٹر بوائے کہتے ہیں۔ کچھ غلط بھی نہیں کیونکہ وہ میڈیا میں پیش پیش رہتے ہیں۔ میڈیا کو اونچا بولنے والے اور احتجاجی مزاج رہنما پسند آتے ہیں کیونکہ ان کی گفتگو سے سرخیاں نکالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ حافظ صاحب کی میڈیا ٹیم اچھی ہے۔ سراج الحق ایک فارغ آدمی تھے۔ ان کے پہلے انتخاب کے وقت میں نے چند جماعتی دوستوں سے جو کچھ کہا تھا، وہ آج کی سوشل میڈیائی زبان میں یہ تھا کہ آپ لوگ وڑ گئے۔ چونکہ میرے دوست سچ سن لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں اس لیے وہ اس دن مجھ سے متفق تھے۔ شاید آج بھی انھیں میری بات یاد ہو۔ حافظ نعیم فارغ آدمی نہیں ہیں۔ جوان خون ہے۔ ان کی ٹیم، خاص طور پر میڈیا ٹیم اچھی ہے۔ وہ میاں طفیل یا منور حسن یا سراج الحق جیسے نہیں ہیں اور دوسرے قاضی حسین احمد بن سکتے ہیں۔ یہ میں نوجوانوں کو متحرک کرنے اور میڈیا میں ہنگامہ مچانے کی اہلیت کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ قاضی صاحب میں خاص قسم کا ٹیمپرامنٹ اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی سمجھ تھی۔ ان کے دور تک فوج سے بھی قربت تھی۔ حافظ صاحب میں ابھی ٹیمپرامنٹ کی کمی ہے۔ ان کی قوت فیصلہ بھی ابھی مشکوک ہے۔ غلط وقت پر عمران خان سے جاکر ملنا اس کا ثبوت ہے۔ فوج سے تعلقات میں دراڑ ہے۔ یعنی نو منتخب امیر کو ازسرنو اپنی شخصیت کو ترتیب دینا ہے، تحمل پیدا کرنا ہے اور جینوئن سیاسی قوتوں سے تعلقات استوار کرنے ہیں۔ اگر وہ یہ سب کرسکے تو، جیسا میں نے عرض کیا، دوسرے قاضی حسین ثابت ہوں گے۔ ورنہ میڈیائی ٹیم کے بل پرزیادہ سے زیادہ دوسرا عمران خان بنا جاسکتا ہے۔ اتنا ذہین آدمی کسی فیک سیاست دان کی فیک کاپی کیوں بننا چاہے گا

Author

  • مبشر زیدی

    مبشر زیدی صحافت کو نئے رجحانات لانے والے صحافی ہیں ، `جنگ ` میں `سو لفظوں کی کہانی ` سے شہرت حاصل کرنے والے دبنگ لکھاری ان دنوں دیار غیر میں مقیم ہیں ان کا شمار آج بھی پاکستان ترین صحافیوں میں ہوتا ہے

    View all posts