گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے صفحات کھنگالتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کے سابق وزیر اعظم حمزہ یوسف کے بارے میں کچھ صفحات پر نظر پڑی جس سے تجسس بڑھا کہ آخر انہیں سوشل میڈیا پر اتنا سراہا کیوں جارہا ہے۔ ان کے تعلق سے تحقیق کرنے پر کچھ اہم باتیں معلوم ہوئی جو ہم قارئین تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں برطانیہ کے صحافی اسامہ شفیق نے بھی حمزہ یوسف کے تعلق سے ایک پوسٹ شیئر کی تھی اور ان کے جذبے کی جم کر تعریف کی تھی۔ اپنے اصولوں کے لئے باطل قوتوں سے ٹکراجانے والے افراد انسانی تاریخ میں کم کم ہی رہے ہیں اور ایسے افراد تومعدودے چند ہیں جنہوں نے سچائی، انصاف اور دوسروں کی جانوں پروا کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی قربانی دی ہو۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیر اعظم) حمزہ یوسف انہی معدودے چند افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے نہ صرف فلسطین اور اہل غزہ کی کھل کر حمایت کی بلکہ اسی وجہ سے انہیں اپنےعہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن وہ اپنے اصولوں اور فلسطین کے لئے اپنی حمایت سے رتی بھر بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ حمزہ یوسف پاکستانی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے شخص ہیں جو سخت محنت اور ایمانداری کے بل پر اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیراعظم)کے عہدہ تک پہنچے۔ ایسے عہدوں تک پہنچ کر ہم جیسے ہزاروں افراد شاید کسی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں، سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ پہلےپاؤں جمائیں پھر کچھ کریں لیکن اس نوجوان سیاسی لیڈر حمزہ یوسف نے وہ کام کردکھایا جو اس وقت عرب ممالک سے لے کر پوری مسلم دنیا میں کسی نے کرنے کی ہمت اب تک نہیں دکھائی ہے۔
حمزہ یوسف ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے کے بعد جب فرسٹ منسٹر بنے تو پہلی تصویر اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ہاؤس میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نماز کی ادائیگی کی شیئر کی۔ اس کے بعد بھی انہوں نے کسی بھی معاملے پر اپنی رائے بطور مسلمان چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کا اصل امتحان تب شروع ہوا جب وہ خم ٹھونک کر اہل غزہ کی حمایت میں میدان میں آگئے اور برطانیہ کی حکومت کو جنگ بند کرنے، اہل فلسطین کو اسکاٹ لینڈ لانے، ان کے علاج و معالجے کی سرکاری پیشکش کرنے لگے۔

اس سے تو برطانیہ کی سیاست میں طوفان کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں اسکاٹش نیشنل پارٹی کی طرف سے جنگ بندی بل پیش کروادیا جس سے حکومت برطانیہ دہل گئی کیوں کہ وہ اب تک آنکھ بند کرکے اسرائیل کی حمایت کئے جارہی تھی لیکن حمزہ یوسف نے ان سبھی کو نہ صرف آئینہ دکھادیا بلکہ انہیں پوری دنیا میں رسوا بھی کردیا اور یہ بتایا کہ اسرائیل کی حمایت کرکے برطانیہ کتنی بڑی غلطی کررہا ہے۔ شاید یہ برطانوی پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ بل پر ووٹنگ کے بجائے اسپیکر خود واک آؤٹ کر گئے بعد ازاں واپس آئے اور ایک طویل اورصبر آزما جدوجہد کے بعد یہ قرارداد منظور ہوئی۔ یہ تاریخ ساز کارنامہ حمزہ یوسف اور ان کے پارٹی کا مرہون منت ہے۔ اس کے بعد سے یہ بات طے شدہ تھی کہ حمزہ یوسف کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بالآخر اسکاٹ لینڈ کی مخلوط حکومت میں شامل اسکاٹش گرین پارٹی نے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کردیا۔ واضح رہے کہ حمزہ یوسف کی جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے لئے محض ایک ووٹ کی ضرورت تھی، جس کہ وجہ سے حکومت سازی کیلئے اسکاٹش گرین پارٹی سے معاہدہ کیا گیا اور مخلوط حکومت وجود میں آئی۔ گزشتہ دنوں حمزہ یوسف نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ حالانکہ ان کی پارٹی کی حکومت بچ گئی۔ اسے تحریک عدم اعتماد میں ۵۸؍ کے مقابلے ۷۰؍ ووٹ ملے لیکن حمزہ یوسف نے یہ مان لیا کہ انہیں عہدہ سے ہٹانے کے لئے ہی یہ تحریک لائی گئی تھی، اسی لئے انہوں نے اپنے اصولوں سے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر اور کوئی جوڑ توڑ کئے بغیر استعفیٰ دے دیا۔ ہر چند کہ ان کی حکومت بچ گئی لیکن ان کے مخالفین کا وہ مقصد پورا ہو گیا جو وہ چاہتے تھے۔ حمزہ یوسف نے اپنے اصولوں سے کوئی سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے عہدہ کی قربانی دینا مناسب سمجھا۔ مستعفی ہونے کے بعد پہلے دن انہوں نے ایکس پر اپنی بیٹی کے ساتھ تصویر شیئر کی اور اس پر بھی اللہ کاشکر ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میں جس عہدہ تک پہنچا وہاں تک پہنچنے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن اللہ نے مجھے وہ دن بھی دکھایا اور جب میں نے فلسطین کی حمایت میں بیان دئیے اور قرار داد پیش وہ کام بھی مجھ سے اللہ نے ہی لیا۔ میں اپنے معبود کی منشاء و مرضی کے مطابق کوئی ادنیٰ سا کارنامہ انجام دے کر بھی خوش ہوں۔ مجھے عہدہ کے چھوٹ جانے کا کوئی غم نہیں ہے۔ ‘‘واضح رہے کہ اسکاٹ لینڈ، انگلینڈ یا امریکہ کی طرح جدت پسند سوسائٹی یا کلچر والا ملک نہیں ہے۔ یہ بہت روایتی تہذیب اور قدامت پرستی کو پسند کرنے والا ملک ہے۔ اس کے باوجود یہاں حمزہ یوسف جیسی شخصیت کا ملک کے سب سے بڑے عہدہ تک پہنچ جانا بڑی بات ہے اور وہاں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمان ہونے کے تئیں اپنی شناخت کو مخفی نہ رکھنا بلکہ ببانگ دہل اپنی شناخت کے ساتھ سیاست میں حصہ لینے کیلئے بہت ہمت درکار ہوتی ہے اور حمزہ یوسف نے وہ کردکھایا ہے۔

Author