گرمی کی لہر …..کیا ابھی مزید بدتر کا انتظار کرنا ہے ؟

آج کل ہم سب جی ہاں ! ہم سب جس چیز کا لطف کم یا زیادہ یا بہت زیادہ لے رہے ہیں . وہ ہے گرم موسم کی سختی ،کوئی غریب ہے تو وہ براہ راست تیز دھوپ میں مر رہا اور کوئی اگر اس نا معلوم کتنی مہنگی بجلی کا بل ادا کر سکتا ہے تو وہ گرم سرد ہو کر بے حال ہوتا ہے ۔ یہ مسئلہ صرف ملتان یا لاہور تک محدود نہیں بلکہ ابھی گذشتہ دنوں ہی حرمین شرفین میں بھی اس جان لیواہ گرمی نے دو چار نہیں بلکہ 1000 سے 1500 کے درمیان حجاج کو اپنا شکار کر لیا ۔ مسئلہ کی شدت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حج کے موقع پر جیسا کہ ہم سب جانتے کہ بلا شبہ گرمی سے بچاؤ کا بہترین انتظام ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں گرمی سے حجاج کا انتقال اس بات کا ثبوت ہے کہ اب اس عالمی درجہ حرارت کا اضافہ.. جس کا ذکر ہم بڑے ہوٹلوں کی تقریبات میں سناتے تھے یا ایلیٹ رسائلوں کے اندر کچھ خاص لکھاری ۔ جن کا تعارف ہی ماحولیاتی ماہرین کے طور پر ہوتا تھا ۔ وہ کرتے تھے ۔ اب ہماری زندگیوں کی بد قسمتی سے حقیقت بن چکا ہے۔ عام طور پر سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ درجہ حرارت کو بتانے کے دو طریقے بن چکے ہیں۔ اک تو وہ جو کہ ہے ۔ لیکن زیادہ اہم جو کہ محسوس ہو رہا ۔ یعنی کہ Feels Like – پاکستان کے کئی علاقے صدیوں سے گرم موسم دیکھتے آ رہے ہیں ۔ جیسا کہ ملتان ، جیکب آباد ، سبی .

قدرتی طور پر ان علاقوں کے لوگوں میں گرمی کی برداشت بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کتنی برداشت ؟؟ وقت کے ساتھ ساتھ جو غیر سنجیدہ روبہ ہم نے باحیثیت مجموعی ماحولیاتی مسئلہ کے ساتھ رکھا ۔ اس کا نتیجہ اب یہ ہے کہ ایک تو پہلے ہی گرم علاقے تھے اور اب اس میں انسانی کردار اور نتیجہ اب جون کے ماہ میں ہم نے پاکستان کے اکثریتی علاقوں میں یہ گرمی کی لہر دیکھی ۔ جس میں لاہور اور اطراف میں 53 درجہ حرارت کی گرمی محسوس کی گئی ملتان اور سندھ میں یہ 55 درجہ حرارت یا اس سے بھی کچھ آگے تھی ۔ گرمی کی لہر کا ذمہ دار کون یہ اک ایسا سوال ہے ۔ جو کہ آج ہر اک کے دماغ میں ہے ۔ یقینی طور پر اس 55 یا 53 درجہ کی گرمی نے بے شمار انسانوں اور چرند پرند پر اپنا اثر ڈالا ۔ بڑی تعداد میں وہ مارے بھی ہونگے ۔ لیکن میڈیا پر ان کی خبر نہ لگی ۔ کیونکہ اس کی کوئی کمرشل ویلیو نہ تھی ۔ مجھے آپ ذرا سا ماضی میں جانے کی اجازت دیں ۔ شاید ایک دہائی یعنی کہ موجودہ بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی کچھ 15 سال قبل جب صدی کا پہلا عشرہ میں اس مسئلہ نے خاص دائرہ میں رجسٹرڈ ہونا شروع ہوا اور یم نے Global Warming Climate Action اور Climate Change کی اصلاحات کو عالمی جرائد میں پڑھنا شروع کیا اور جیسا کہ عام رواج ہے ۔ انٹر نیشنل میڈیا میں جب کوئی خبر خاص آتی ہے تو ہمارے مقامی دانشوار و مدیر اس کو اپنی سازشی عینک سے دیکھتے ہیں کہ یہ ہو نہ ہو۔ کوئی نئی چکر بازی ہے ۔ جس میں بین القومی میڈیا اور ان کے سپانسر کارپوریٹ طبقہ کا کوئی نہ کوئی مفاد ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے پاکستان میں بڑے شہروں میں موجود میڈیا کے دوستوں نے اس کو ایک ایسی چیز کے طور پر لیا ۔ جس پر اسے توجہ کی کوئی خاص ضرورت نہ ہے ۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کے حوالے سے کچھ مقامی این جی اوز نے بات کرنی شروع کی۔ Climate Action & Global Warming پر ـ مجھے یاد ہے کہ میں نے جب 2013 / 2014 میں شہر میں دوبارہ سائیکل پر سفر شروع کیا اور گروپ بنائے تو اس کو بھی عام آبادی نے امیر لوگوں کا مشغلہ یا چھٹی کا دن گزارنے کا بہانہ ہی کہا۔ لیکن دنیا بھر میں اس وقت Move without آئل پر یا Renewable پر بات شروع ہو رہی تھی ۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ 2005 سے 2020 کے پندرہ سالوں میں پاکستانی شہروں ملتان – لاہور – فیصل آباد – روال پنڈی – اسلام آباد نے ملک کے چھوٹے شہروں اور گاؤں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھی ۔ جس کی وجہ سے ان شہروں میں کنکریٹ کا جنگل پھیلا اور گرین ایریا کم ہوا۔ نتیجہ یہ ایک سے زائد عوامل اک ہی وقت میں ہو رہے تھے ۔ اس دوران یہ تھیوری بھی مارکیٹ میں آئی کہ دھواں کا مطلب ہے کارخانے کا چلنا یعنی روز گار کا ملنا ۔ تو یہ تو اک مثبت بات ہے ـ

جتنا زیادہ کاربن اتنا زیادہ منافع یہ اک بالکل مثبت بات ہے۔ یعنی کہ اک نئی چیز آئی ۔ جس نے پہلے سے ہی شک میں مبتلا دوستوں کو اک نیا جواز فراہم کیا کہ وہ اس سب کا اک نیا طریقہ سے بھی جائزہ ہیں ۔ یار لوگوں نے تو آبادی اور عالمی کاربن میں حصہ کا فارمولا بھی بنا ڈالا ۔ یعنی کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں کاربن میں حصہ غالباً پہلے 0.7 فیصد بتایا گیا جس کو بعد میں جب زیادہ اچھی طرح جائزہ لیا گیا تو 1 سے گیا ۔ جبکہ آبادی کا اندازہ تقریباً 4 فیصد یعنی کہ پاکستانی کا شمار بڑے آبادی والے ملکوں میں شاید واحد ملک ہے ۔ جس کا کاربن کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تو قصہ یہ کہ پاکستان میں Zero Carbon اور Climate Action ضرورت نہ ہے ۔ یہ تھا اک مجموعی رویہ – اور اس کے بعد ہر اک چیز جس سے عالمی حدت میں اضافہ کی وجہ سے روکا گیا ۔ وہ سرکاری و عوامی سطح پر پاکستان میں جی بھر کر کی گئی۔ نتیجہ آج یہ ہے کہ کراچی ہیٹ ویوز کا باقاعدہ شکار ہوتا ہے ۔ ملتان کی گرمی جو کہ و یسے ہی صدی سے محاوره و زندگی میں تھی وہ بھی اب جان لیوا ہو چکی ہے ۔ اندرون سندھ میں محسوس ہونے والا درج 55 سے کر اس کر چکا ۔ لاہور میں گرمی کی وہ حرارت کہ لوگ نہر پر بے ہوش ہوتے ہیں ۔ اسلام آباد میں عام جملہ اب یہ ہے ملتان کے برابر گرمی رہی۔ تو سوال یہ ہے کیا ابھی مزید بدتر کا انتظار کرنا ہے یا گرمی کے خلاف شجر کاری و دیگر ذرائع سے اپنی سی کوشش کرنی ہے ،  ذرا سوچیئے ۔ ؟؟

Author

  • وقار مصطفی سپرا

    پاکستان کے شہری منظر نامے میں سول سوسائٹی کی ایک نمایاں آواز ہیں ،گزشتہ ایک دہائی سے صحافت اور سول سوسائٹی کے ساتھ متحرک ہیں ، لاہور بچاؤ تحریک /لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے بورڈ 2022-2026کے منتخب ممبر بھی ہیں وہ اردو اور پنجابی کی چھ کتابوں کے مصنف ہیں.ان کی کتابوں میں افسانہ ناول اور تاریخ اور لاہور پہ کتاب شامل ہے ان کی اردو کتب ریختہ نئی دہلی و دیگر پر موجود ہیں۔ ان کی تحریریں ایم فل و ڈاکٹریٹ مقاله جات کے لئے استعمال ہوچکی ہیں ـ اس کے علاوہ ان کے 25 سے زائد ریسرچ پیپر مختلف بین الاقوامی کانفرنسز میں پاکستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں کے اندر گزشتہ ایک دہائی میں منظور ہو چکے ہیں ماضی میں پبلک پالیسی کے حوالے سے وہ وفاقی حکومت اور کے پی حکومت کے ساتھ پروجیکٹس پہ کام کر چکے ہیں.مختلف اخبارات و ویب سائٹس کے لیے کرنٹ ایشوز پر لکھتے رہتے ہیں

    View all posts