دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں ہتک عزت کا قانون نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت عموماً بے عزتی کرنے یا بلا وجہ الزام لگانے پر مدعی علیہ پر مقدمہ دائر کیاجاتا ہے جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ارباب اختیار اور قانون دانوں نے یہ قانون اس وجہ سے بنایا ہے تاکہ بد تہذیب افراد بے لگام نہ ہوجائیں اور باعزت لوگوں کی عزت تار تار نہ ہوتی رہے۔ اس حوالے سے جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن و حدیث میں جا بجا اس بات کی ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ ہم کسی کی عزت نہ اچھالیں اور کسی کی تحقیر نہ کریں۔ اس تعلق سے قرآن مجید کی یہ آیت بہت ہی جامع ہے:
’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں ) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں ) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں ) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں۔ ‘‘ (الحجرات:۱۱)
چونکہ اسلام میں کسی کی بے عزتی کرنا، کسی پر تہمت اور بہتان لگانا غلط اور سخت گناہ ہے۔ اس لئے اس عمل سے باز آنا انتہائی ضروری ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔ ‘‘ (کنزالعمال)
دنیاوی عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدموں کی کار روائی اور فیصلے میں سزا کی خبریں آئے دن ہم پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ اس تعلق سے احکم الحاکمین اللہ رب العزت کی عدالت میں جو فیصلہ ہوگا اور جوسزا ہوگی، اس کی ایک جھلک ہم ذیل کی کی حیث میں پا سکتے ہیں۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ’’جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا، تہمت، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں ) باز آ جائے (رک جائے، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)۔ ‘‘
دنیاوی عدالتوں میں ہتک عزت کے تعلق سے ایک عجیب حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاملوں میں صرف صاحب ثروت ہی اپنی بے عزتی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہیں جبکہ امیروں سے زیادہ غریبوں کی بے عزتی ہوتی رہتی ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ہم نے اس باب میں انصاف قائم نہیں کیا تو پھر ہمیں اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا ؛ کیونکہ وہ شخص جس کی بے عزتی ہوئی ہے اور جو ذلیل کیا گیا ہے اگر اس کو دنیاوی عدالتوں سے انصاف نہیں ملا اور اس نے زبان قال یا حال سے اللہ کے دربار میں شکایت کر دی تو ہماری پریشانی میں اضافہ طے ہے، جیسا کہ ذیل کی حدیث سے ہمیں یہ پیغام صاف مل رہا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مظلوم کی بد دعا سے بچو، یہ آگ کی چنگاریوں کی مانند آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔ “ (الحاکم)
مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم دوسروں کو عزت دینے یا بے عزت کرنے کے معاملے میں کہاں کھڑے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہم دنیاوی اعتبار سے کتنے مہذب ہیں اور مذہبی نقطۂ نظر سے کتنے متدین ہیں۔ اس باب میں منصفانہ تجزیہ کے بعد ہمارے لئے یہ ضروری ہوگا کہ اپنے آپ کو صحیح ڈگر پر ڈال دیں تاکہ دنیاوی عتاب سے بھی بچیں اور آخرت کے عذاب سے بھی۔

Author