انسانی کھال سے کتابوں کی جلد سازی۔

 میگن روزین بلوم کی  کتاب `ڈارک آرکائیوز` میں انسانی جلد سے انسانی جلد سے کتابوں پر جفت سازی کے انکشاف نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔

کتابوں کے تمام شوقین ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کو فکشن کی کتابوں کا شوق ہوتا ہے، کسی کو نان فکشن کتابوں کا۔ کوئی صرف بایوگرافیز میں دلچسپی رکھتا ہے اور کوئی فقط کرکٹ کی کتابوں میں۔ میگن روزین بلوم کا کام سب سے مختلف ہے۔
انھوں نے بڑی تحقیق اور محنت کے بعد چار سال پہلے ایک کتاب ڈارک آرکائیوز یعنی تاریک ذخائر لکھی تو بڑے بڑے محقق حیران رہ گئے۔ یہ کتاب اینتھروپوڈرمک ببلیوپیجی کے بارے میں ہے۔ میں شرط لگاسکتا ہوں کہ فیس بک پر میرے 1200 دوستوں اور 98 ہزار فالوورز میں سے کسی ایک کو بھی اس کا مطلب معلوم نہیں ہوگا۔
مجھے بھی معلوم نہیں تھا۔
اس کا مطلب ہے، انسانی جلد سے کتابوں کی جلد سازی۔
آج نیویارک ٹائمز نے اس بارے میں رپورٹ چھاپی تو مجھے کتاب بھی ڈھونڈنا پڑی اور ان کتابوں کے بارے میں بھی پڑھا جن کی جلدسازی انسانی کھال سے کی گئی۔
 نیویارک ٹائمز نے خبر اس لیے چھاپی کہ اپریل میں نیویارک میں نایاب کتابوں کا میلہ لگتا ہے۔ اس میں انسانی جلد والی ایک کتاب پیش کی گئی جس کی قیمت 45 ہزار ڈالر تھی۔ اس کے مالک نے بتایا کہ 1682 میں ایک اطالوی ڈاکٹر ایک ایسی لاش کا معائنہ کررہا تھا جو طب کے طلبہ کے تجربات کے لیے آئی تھی۔ اتفاق سے وہ لاش ایک اداکارہ کی تھی جسے اس ڈاکٹر نے ایک اسٹیج ڈرامے میں دیکھا تھا۔ ڈاکٹر نے اس اداکارہ کی کھال کا ایک ٹکڑا محفوظ کرلیا اور اسی ڈرامے کی کتاب پر منڈھ دیا۔
ساڑھے تین سو سال وہ کتاب اس خاندان میں محفوظ تھی اور اب فروخت کے لیے پیش کی گئی۔
امریکا اور دوسرے ملکوں میں اس پر بہت لے دے ہورہی ہے کہ انسانی جلد والی کتابیں مرے ہوئے انسانوں کی بے توقیری ہیں۔ لیکن متعدد ماہرین چاہتے ہیں کہ ایسی کتابوں کو ضائع نہ کیا جائے کیونکہ اکیسویں صدی کی اخلاقیات کا اطلاق ماضی کے اثاثوں پر نہیں کرنا چاہیے۔ ان کتابوں کو اسی طرح محفوظ رکھنا چاہیے، جیسی وہ ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے، ایسی کتنی کتابیں ہوں گی؟
بہت زیادہ نہیں ہیں۔ اور ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں جھوٹ بولا جاتا رہا۔ 1857 میں انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کا محل لوٹا تو انھیں ایک کتاب کے بارے میں یہی بتایا گیا۔ حال میں سائنسی تحقیق سے پتا چلا کہ وہ کسی انسان کی نہیں، کسی جانور کی کھال تھی۔
میگن ایک ایسے پروجیکٹ کا حصہ ہیں جو ان تمام کتابوں کا ماڈرن سائنسی طریقے سے معائنہ کرتا ہے جن کے بارے میں دعوی ہے کہ ان کی جلدسازی میں انسانی کھال استعمال کی گئی تھی۔ وہ اب تک 32 کتابوں کو جانچ چکی ہیں جن میں سے 18 صحیح اور 14 جعلی نکلی ہیں۔ 18 کے دعوے کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ لیکن خیال ہے کہ پرائیویٹ کلیکشنز میں مزید درجنوں کتابیں ہوں گی۔

Author

  • مبشر زیدی

    مبشر زیدی صحافت کو نئے رجحانات لانے والے صحافی ہیں ، `جنگ ` میں `سو لفظوں کی کہانی ` سے شہرت حاصل کرنے والے دبنگ لکھاری ان دنوں دیار غیر میں مقیم ہیں ان کا شمار آج بھی پاکستان ترین صحافیوں میں ہوتا ہے

    View all posts