بنگلور، انڈیا میں کی گئی ایک تحقیق میں، محققین یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک ایسی جگہ جہاں پبلک سیکٹر کرپشن اور رشوت خوری کے لیے بدنام ہے، وہاں کس قسم کے لوگ سرکاری کیریئر کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی سول سروس نے ایک اچھا آزمائشی میدان فراہم کیا، کیونکہ یہ بدعنوانی کے لیے بدنام ہے۔ سب جانتے ہیں کہ، سرکاری افسر بننے سے تنخواہ کے علاوہ، اوپر کی کمائی کے مواقع بھی فراہم ہوتے ہیں۔ اس تجربے میں، جسے دو ماہرین اقتصادیات نے ڈیزائن کیا تھا، یونیورسٹی کے سیکڑوں طلباء کو بیالیس بار پانسہ پھینکنے اور از خود نتائج ریکارڈ کرنے کو کہا گیاتھا۔ پانسہ پھینکنے سے کونسا نمبر سامنے آئے گا اس کا انحصار تو قسمت پر ہے؛ تاہم، اس سے پہلے کہ وہ ڈائس رول کریں، طالب علموں کو بتایا گیا کہ اگر ان کی خوش قسمتی ہوتی ہے اور زیادہ نمبر آتے ہیں تو انہیں زیادہ معاوضہ دیا جائے گا۔ زیادہ چوکے، پنجے اور چھکے زیادہ نقد رقم کا باعث بنیں گے۔
لیکن چونکہ ہر امیدوار نے اپنے نتائج خود رپورٹ کرنے تھے، اس لیے طلبہ اپنے ڈائس رولز کے بارے میں جھوٹ بول سکتے تھے۔ اور بہت لوگوں نے اپنے نتائج میں جھوٹ سے کام لیا۔ چھکے کو 25 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جب کہ نمبر اِکـا صرف 10 فیصد ہی ریکارڈ کیا گیا۔ شماریاتی تجزیہ کے ساتھ، محققین اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ اس طرح کے ترچھے نتائج ممکنہ طور پر موقع کی وجہ سے نہیں ہو سکتے تھے۔ چند طالب علم تو اتنے ڈھیٹ تھے جنہوں نے دعویٰ کیا انہیں تو لگاتار بیالیس مرتبہ چھکے ہی لگے تھے۔
لیکن اعداد و شمار میں ایک موڑ تھا: تجربہ میں دھوکہ دینے والے طلباء کی کیریئر کی خواہشات ان اوسط لوگوں سے مختلف تھیں جنہوں نے ایمانداری سے اسکور کی اطلاع دی تھی۔ جنہوں نے اوسط طالب علموں کے مقابلے میں بوگس نتیجہ رپورٹ کیا تھا اُن میں ہندوستان کی بدعنوان سول سروس میں شامل ہونے کی خواہش شدید تھی۔
لیکن، جب محققین کی ایک اور ٹیم نے، ڈنمارک ایک ایسا ملک جہاں سول سروس صاف اور شفاف ہے میں یہی تجربہ کیا – تو بنگلور کی نسبت نتائج اُلٹ تھے۔
وہ طلباء جنہوں نے ایمانداری سے اپنے اسکور کی خود اطلاع دی وہ سرکاری ملازم بننے کے خواہشمند تھے؛ جبکہ جھوٹ بولنے والے وہ طالب علم تھے جو اُن پیشوں کی تلاش میں تھے جو انہیں جلدی “فلتھی رِچ” بنا سکتے تھے۔
کرپٹ نظام نے بدعنوان طلباء کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور ایک شفاف نظام نے ایماندار طلباء کو اپنی جانب راغب کیا تھا۔ شاید، طاقت لوگوں کو اس قدر نہیں بدلتی جس قدر ماحول انہیں تبدیل کر ڈالتا ہے۔
ایک اچھا نظام اخلاقی طاقت کے متلاشیوں کا ایک نیک دائرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ایک خراب نظام، لوگوں کو ایک شیطانی چکر میں مبتلا رکھ سکتا ہے جب تک وہ جھوٹ، دھوکہ اور چوری سے چوٹی تک نہ پہنچ جائیں۔
اگر ایسا ہے، تو پھر ہماری توجہ طاقتور افراد پر نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے نظام کو ٹھیک کرنے پر ہونی چاہئیے۔
عالمی سیاسیات کے جواں سال ماہر, برائن کلاس کی کتاب ” کرپٹیبل: اقتدار کون پاتا ہے اور یہ ہمیں کیسے بدلتا ہے” سے اقتباس

Author

  • خالد محمود

    خالد محمود کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ ماضی میں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی ادبی علمی سرگرمیوں میں فعال کردار کے حامل ہیں۔ انہوں نے بیسویوں ادبی مضامین کا ترجمہ اورانگریزی ادب کی متعدد کتب پر ریویو اور ادب و سماجی مسائل پر تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔

    View all posts