غزہ میں کئی ماہ سے جاری اسرائیلی بربریت کے مقابلے کے لیے ہمارے ہاں کچھ مشروبات اور خورد و نوش کی کڑیوں( chains) کے خلاف مہم چل رہی ہے، انہیں یہودی مصنوعات قرار دینے کی بنیاد پر ایسا کیا جا رہا ہے، میں ذاتی طور کسی بھی قسم کی مشروبات کا عادی نہیں ہوں بلکہ انہیں مضر صحت جان کر کئی سالوں سے اپنے عزیز واقارب اور دوست احباب کو ان سے پرہیز کی گزارش کرتا رہا ہوں، اسی طرح کے ایف سی یا اس قسم کے کوئی اور فوڈ چینز سے بھی مجھے کچھ لینا دینا نہیں کیونکہ ان مڈل کلاسیوں کے خوابوں کی تعبیر کے مراکز ہیں جنہیں اپنے آپ کو اپر کلاس میں گھسنے کی جلدی ہے۔ میرا سیاسی معاشیات کا علم انتہائی محدود سطح کا حامل ہے اس لیے میرے ذہن میں الجھاؤ پیدا ہوتا ہے وہ کون کون سے اقدامات ہیں جنہیں ہم اختیار کرکے اسرائیل اور اس کے سرپرست کے لیے معاشی رکاوٹیں حائل کرکے اسے فلسطین یا دنیا کے کسی بھی مظلوم خطہ پر بربریت سے باز رکھ سکیں۔ میں نے سیاسی گپ شپ کی بیٹھکوں میں کئی عشرے پہلے سے سن رکھا ہے کہ امریکی معیشت پر یہودی لابی کا بڑا ہی اثر و رسوخ ہے، یقینا” اس امریکی معیشت میں امریکی جنگی صنعت کا بھی بڑا حصہ ہوگا اور پاکستان امریکی جنگی صنعت کی کھپت کی ایک بڑی منڈی ہے، کیا یہ خرید و فروخت یہودی آمدن اور بالآخر اسرائیلی تقویت کا سبب نہیں بنتی؟
دوسرا اہم معاشی عمل آئی ایم ایف کے قرضے ہیں۔ میں نے ایسی ہی گپ شپ کی محفلوں میں سن رکھا ہے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف امریکی اشاروں کے مرہون منت ہیں۔ ان اداروں کی کمائی امریکہ کی کمائی اور بالآخر اسرائیلی تقویت کا سبب ہوتی ہوگی یا نہیں؟
جن سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز ، آئی ٹی ٹیکنالوجی اور موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کو استعمال کرکے ہم یہ بائیکاٹ مہم چلاتے ہیں اس میں بھی امریکی اور اسرائیلی معاشی حاصلات ضرور پوشیدہ ہوں گے۔
میرا اندازہ یہ بنتا ہے کہ ہم اپنی بقا کے لیے لمحہ بہ لمحہ جن معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں ان سب میں امریکی اور اسرائیلی معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ یہ درست اندیشہ ہے یا غلط مجھے رہنمائی درکار ہے۔
اگر یہ درست ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟
میری خیال یہ محرومی اور غیروں پر انحصار کی یہ کیفیت کوئی چار دنوں کی بات نہیں یہ صدیوں پہلے پیدا ہونے والا خلا مسلسل جاری ہے اور درست سمت میں طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد ہی یہ خلا پر کیا جا سکتا ہے، یہ سفر سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کا سفر ہے، یہ سفر معیشت میں خود انحصاری کی طرف جانے والے راستے پر شروع کیے جانے کی ابھی فرصت ہمیں نہیں ملی، معاشی خود انحصاری اور سیاسی خود انحصاری باہم منسلک عوامل ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ابھی ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش میں مصروف ہیں، 5 اگست 2019ء کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا تو ہم نے وادی کشمیر پر ایمرجنسی کے دن گننے شروع کیے اور رفتہ رفتہ وہ گنتی کرنا بھی بھول گئے۔ ابھی ہمیں فلسطین کا غم کھائے جا رہا ہے وہ کتنا حقیقی ہے اور کتنا سطحی، عارضی اور مصنوعی ہے ؟

Author

  • ارشد نعیم

    ضلع کوٹلی آزادکشمیر میں مقیم ارشد نعیم ایم ایس سی ایم ایڈ ہیں اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں. سیاسی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں. سیاسی ایشوز پر کئی سالوں سے لکھ رہے ہیں. سیاسی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔

    View all posts