کئی الفاظ، اصطلاحات اور نعرے اپنا مفہوم کھوتے تو نہیں، بدل ضرور لیتے ہیں۔ جدوجہد، مزاحمت، طبقاتی شعور وغیرہ بھی اِن الفاظ میں شامل ہیں۔ بیسویں صدی والے انداز میں اِن الفاظ کا استعمال اب شاید ممکن نہیں۔ دو تین ہفتے پہلے ایک ٹراٹسکی پسند سے ملاقات نے ذہن اُڑا کر رکھ دیا جو انقلاب، ہڑتال، جدوجہد وغیرہ کے تصورات کو 1910ء کے مفہوم میں استعمال کر رہا تھا، کیونکہ اُس نے بعد میں ہونے والی ڈویلپمنٹ کو جانا اور قبول ہی نہیں کیا تھا۔ کم ہی لوگ یہ ہمت کرتے ہیں۔
کارل مارکس نے کہا تھا کہ جو شعوری طور پر منظم نہیں وہ طبقہ نہیں۔ پاکستان میں بھی طبقات لغوی معنوں کی بجائے محض اصطلاحی معنوں میں موجود ہیں۔ ہمارے ہاں کلاسیکی مزدور بھی بہت کم ہیں۔ اُسے اوقاتِ کار کے لیے جدوجہد نہیں کرنا پڑی، اُس کے پاس گاؤں میں تھوڑی سی زمین بھی ہے، وہ دادا ابو کے سوئم اور چہلم پر بے تحاشا رقم خرچ کر دیتا ہے، وہ قسطوں پر سمارٹ فون بھی لیتا ہے، وہ چارپائی پر لیٹ کر دیپکا کا رقص دیکھتا ہے، ماہرہ خان کے سلیکون والے ہونٹ کا نظارہ بھی اُس کی دسترس میں ہے، وہ کسی نہ کسی طرح شادی پر بڑی گاڑی کا انتظام کر لیتا ہے اور ہنی مون کے لیے اپنی معدوم ہپس پر عجیب و غریب جینز چڑھا کر مری جا پہنچتا ہے، وہ گائے کی قربانی میں حصہ ڈالتا ہے، وہ فرقہ باز اور عمران خانی ہے۔
اِس سب کے باوجود وہ انسان ہے اور ساڈھے سات ارب میں ’ایک‘ ہے۔ اُس کی حرکات یا ترجیحات جو کچھ بھی ہوں، اُسے جینے کا حق کسی ٹام کروز جتنا ہی ہے۔ اِس حق کا شعور صرف کوئی ریاست کار ہی رکھ سکتا اور دِلا سکتا ہے۔ بڑی شخصیات نے ضروری نہیں کہ کوئی کرتب ہی کر کے دکھایا ہو، اُن کی محض موجودگی (لاکھ کوتاہیوں اور نقائص کے باوجود) ہی ایک آس دلاتی ہے، ایک خواب کی آبیاری کرتی ہے۔ بھٹو پر آپ اور ہم کئی اعتراضات کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان کا ہر سیاست دان پھانسی لینے کے سوا بھٹو ہی بننا چاہتا ہے۔ وہ قائد اعظم سے لے کر عمران خان تک کے بنجر میدان میں واحد ثمر آور درخت ’’تھا۔‘‘
یاد رکھنا چاہیے کہ جدوجہد کرنے والا شخص کبھی دوسرے گروہوں، اقوام اور طبقات کو گالی نہیں دیتا، جیسا کہ ہم نے گزشتہ دو روز میں دیکھا۔ وہ مخالف گروہوں کو بھی طبقاتی جدوجہد اور شعور پروری کا جزو سمجھتا ہے۔ اگر میں قوم پرست ہوں تو سرائیکی یا کشمیری قوم پرست میرا دشمن نہیں دوست ہے، بشرطیکہ وہ قوم پرست ہو، نہ کہ مفاد پرست اور موقع پرست۔ عابد ساقی کی مجھے یہی بات اچھی لگتی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے طویل اور عمر بھر کا تعلق رکھتے ہوئے طبقات اور شعوری ترقی کی بات کرتے ہیں۔ مین سٹریم پاور پالیٹکس میں پیپلز پارٹی اُس جیسوں کی واحد جائے پناہ ہے جو نظریاتی بیانیہ لے کر چلتے ہیں، نہ کہ میمز والی جگتیں۔
اب جو بھی سیاسی جدوجہد اور شعور کی بات ہو گی، اُس میں سے بھٹو کو منفی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ اور بے نظیر (درجنوں مجبوریوں اور مفاہمتوں کے باوجود) گزشتہ چالیس سال کی سیاست میں چھائے ہوئے ہیں۔ آپ اُسے پسند نہیں کرتے تو اُس کی غلطیوں کے اُلٹ کر لیں۔ وہ پھر بھی ریلیوینٹ ہے۔ بہرحال ہم جانچنے کے لیے زبان استعمال نہیں کرتے، بلکہ زبان کے مطابق جانچتے ہیں۔ چونکہ ہماری زبان حالیہ عشرے میں برباد ہو گئی ہے، لہٰذا عابد ساقی کو جانچتے وقت احتیاط کریں

Author

  • یاسر جواد

    انگریزی سے اردو، پنجابی اور ہندی زبانوں کےعالمی سطح پر جانے مانے مترجم اور گلوبل اردو انسائیکلوپیڈیا کے ایڈیٹرہیں . فلسفہ، نفسیات، بشریات، تاریخ، مذاہب، طبیعیات، مابعد الطبیعاتی علوم ، کلٹس اور سماجی رسم و رواج و کلاسیکی، کمپیوٹر جیسے مضامین سے متعلقہ 130کتب کا انگریزی ، گرمکھی و شاہ مکھی پنجابی اور ہندی زبانوں میں تراجم کر چکے ہیں . ان دنوں سوشل میڈیا اور ادبی و سماجی تقریبات میں اپنے سائنٹفک و مدلل فکری تناظر کو گاہے بگاہے پیش کرتے رہتے ہیں

    View all posts