جراثیم ۔زندگی اور موت کے ساتھی۔

 کتاب کو ایک مرتبہ آپ پڑھنا شروع کر دیں تو ختم کئے بغیر چین نہیں آئے گا

تحریر: پروفیسر نظام دامانی، ترجمہ: ڈاکٹر شیر شاہ سید، تبصرہ: مہ ناز رحمن
 ڈاکٹر شیر شاہ سید صحت و طب کے حوالے سے بہت سے سماجی مسائل پر قلم اٹھاتے رہے ہیں۔اس مرتبہ انہوں نے پروفیسر نظام دامانی کی انگریزی کتاب ” جرثومے بالمقابل بنی نوع انسان ” کا اردو میں ترجمہ کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔آپ یقینا” سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی خشک اور دقیق سی کتاب ہو گی لیکن یقین کیجئے یہ اتنی دلچسپ کتاب ہے کہ آپ اسے مزے لے لے کے پڑھیں گے۔ذرا دیکھئیے پروفیسر صاحب نے اپنی پیدائش کا ذکر کیسے کیا ہے ” سوموار 3 اگست 1953 آٹھ بجکر دس منٹ پر میں اپنی والدہ کی آرام دہ نرم و گرم کوکھ سے اس عالم نا تمام میں دھکیل دیا گیا۔” ۔یہ ایک ڈاکٹر کی آپ بیتی اور جراثیم کے ساتھ اس کے سفر کی کہانی ہے۔یہ ڈاکٹر نظام دانی کے تجربات ہیں جو آپ کی اور میری طرح ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جہاں نہ صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی سیوریج کا کوئی مناسب انتظام ہے۔اسی لئے ان کے خاندان کے افراد مختلف متعدی امراض کا شکار رہے۔ڈاکٹر بننے کے بعد انہوں نے جراثیم سے متاثر ہونے والے بے شمار مریضوں کا علاج کیا لیکن آج بھی انہیں یہ لگتا ہے کہ جراثیم سے ہونے والی جنگ ہم کبھی بھی نہیں جیت سکیں گے۔1860 میں پہلی دفعہ جراثیم کی حقیقت سے دنیا کو روشناس کرانے والےلوئیس پاسچر نے کہا تھا ” آخر میں تو صرف جراثیم ہی رہ جائیں گے “۔چھ ماہ کی عمر میں ڈاکٹر صاحب کو ہیضہ ہوا اور وہ مرتے مرتے بچے ۔چنانچہ کتاب کا ایک ابتدائی باب ہیضہ کے بارے میں ہے۔” محبت میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو ہیضے کی بیماری میں ہوتا ہے۔”۔یہ ہزاروں سال پرانی وبا ہے۔جو انیسویں صدی میں ہندوستان آئی جہاں اولا دیوی کو ہیضے کی دیوی مانا گیا۔جب تک اینٹی بائیوٹک ایجاد نہیں ہوئی تھی اس مرض کا علاج جونک کے ذریعے جسم سے خون نکال کر کیا جاتا تھا۔ تب چیچک کی وبا بھی عام تھی ، ڈاکٹر صاحب کی والدہ بھی آٹھ سال کی عمر میں اس کا نشانہ بنی تھیں۔ان کے گائوں میں جب کوئی اس بیماری کا شکار ہوتا تو اس گھر کے دروازے پر نیم کی ٹہنی لٹکا دی جاتی تھی جس کا مقصد سیتلا دیوی کو خوش کرنا ہوتا تھا۔لیکن وہ اپنی ماں سے زیادہ خوش نصیب تھے کیونکہ انہیں چیچک سے بچائے کا ٹیکہ لگایا گیا تھا۔ اپنے بچپن کا حال سناتے ہوئے وہ عید ا لفطر کو اپنی زندگی کا بہترین دن قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کے بہترین اور خوشی کے دن وہ تھے جب ان کے پاس پیسہ نہیں تھا یا بہت کم تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غربت کے زمانے کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی خوشی تلاش کر لیتے تھے۔ مدرسے اور اسکول کا ابتدائی تجربہ ان کے لئے اتنا ہی تکلیف دہ ثابت ہوا جتنا ایک غریب بچے کے لئے ہو سکتا ہے مگر پھر انہوں نے امریکن قونصل خانے کی لائبریری کی کتابوں میں پناہ ڈھونڈی۔اوراسی طرح نو عمری میں ایک مذہبی جماعت سے مسترد ہونے کے بعد وہ اسکائوٹ بن گئے۔اسکائوٹنگ نے انہیں انسانیت سکھائی جو رنگ، نسل اور ذات سے بالا تر تھی۔ نو عمری میں ہی مذہبی، مغربی اور نفسیاتی کتابوں نے انہیں ہیجان میں مبتلا کر دیا بالآخر انہوںنے یہ تسلیم کر لیا کہ زندگی کا سفر ایک دشوار اور مشکل سفر ہے جس میں انسان کبھی بلندیوں پر ہوتا ہے اور کبھی نیچے گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔ تیرہ سال کی عمر میں وہ ڈیپتھیریا کا شکار ہوئے۔ کتاب میں پورا ایک باب اس گلا گھونٹنے والے عجب مرض کے بارے میں ہے۔ اسکول کی تعلیم ختم ہونے کے بعد انہوں نے کالج میں داخلہ لیا اور اس قدر جی لگا کر پڑھائی کی کہ چار مضامین میں ڈسٹنکشن لی اور ان کا داخلہ ڈائو میڈیکل کالج میں ہوگیا۔جہاں وہ سوشلسٹ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل ہو گئے۔جس کی سیاسی سرگرمیوں سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔اور مسائل کوسمجھنے اور خراب حالات میں ان سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔1976 میں میڈیکل کالج میں ان کی ڈیوٹی عورتوں کے وارڈ میں لیبر روم میں لگی تو لوگوں کی غربت کی تکلیف دہ کہانیاں سامنے آئیں۔جس کے نتیجے میں طلبہ نے پیشنٹ ویلفیئر فنڈ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ یہ بات عام لوگوں کے مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ ہمارے ہاں آپریشن تو کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور مریض کو کوئی نہ کوئی انفیکشن ہو جاتا ہے۔اس کتاب میں اس کے لئے پورا ایک باب ” ہاتھوں کی صفائی۔سیمی لیوس کی افسوسناک کہانی ” کے نام سے ملے گا۔جونیئر ڈاکٹروں کو ہاتھ صاف رکھنے کی اہمیت کا پتا ہی نہیں ہوتا اور وہ اسپتالوں میں انفیکشن پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ بیتی کے حوالے سے سب سے دلچسپ حصہ ضیا دور میں ڈاکٹروں کے لئے لازمی فوجی خدمت سے انکار اور عازم افریقہ ہونا ہے۔نہ نوکری ،نہ رہنے کا ٹھکانہ ،بس چل پڑے اللہ توکل۔جب مایوس ہو کر نیروبی سے پاکستان واپس آنے کا سوچ رہے تھے تو اسپتال میں تنخواہ کے ساتھ ہاوس جاب مل گئی۔ پروفیسر صاحب کوفی عنان سے پوری طرح متفق ہیں کہ ترقی پذیر دنیا میں ہم کسی بھی متعدی بیماری کا خاتمہ اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک ان ملکوں میں صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی اور صحت کی بنیادی دیکھ بھال کے انتظام اور غربت کے خاتمے کی جنگ نہ جیت لیں۔ افریقہ میں لڑکیوں کے ختنے کی رسم عام ہے، پروفیسر صاحب نے اس کے اور سرجری کی اذیت کے زمانے اور بربادیوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ ایچ آئی وی /ایڈز اور ٹی بی کے بارے میں بھی تفصیل سے معلومات فراہم کی ہیں۔ پوری کتاب ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات اور طبی معلومات کا بیش قیمت خزانہ ہے۔ ایک مرتبہ آپ پڑھنا شروع کر دیں تو ختم کئے بغیر چین نہیں آئے گا۔

 پروفائل مترجم  
مہناز رحمان عورت فاؤنڈیشن میں بطور ریذیڈنٹ ڈائریکٹر .2010 سے کراچی میں  خواتین کے حقوق کی باز یابی  اورسماجی سیاسی مسائل کے خاتمہ کے لیے خدمات انجام دے رہی  ہیں ،عملی  صحافتی پس منظرکی حامل ہونے کی بنا پر  وسیح  نیٹ ورکنگ و روابط  سے میڈیا، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اورارکان پارلیمنٹ  تک ایک معتبر و موثر آواز بن کرخواتین اور انسانی حقوق کی سر بلندی کا فریضہ ادا کر رہی ہیں یونیورسٹی اور چرچ ورلڈ سروس نے مطلوبہ مہارتوں میں کاملیت کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

محترمہ مہناز بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت میں حاصل کردہ  مشاہدات کی بنا پر وسیع بین الاقوامی ویژن  رکھتی ہیں
کنونشنزاور انسانی حقوق کی وکالت کے لیے  متعدد ممالک کا دورہ کر چکی ہیں جن میں بنکاک، برسلز، نیویارک، ہیگ، افغانستان، سری لنکا،  ایسٹرن مینونائٹ یونیورسٹی،
ہیریسنبرگ، امریکہ نمایاں ہیں .  انہوں نے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے دوران اعلیٰ سطحی اعزازات بھی حاصل کیے۔
 صحافتی ٹریڈ یونین میں یونین کی پہلی خاتون صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں جبکہ 1983-84 میں دو بار کے یو جے (کراچی یونین آف جرنلسٹ) کی  سیکرٹری منتخب ہوئی تھیں .
عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم (لی پینگ) نے 1991 میں  پاکستان اور چین میں باہمی دوستی کو فروغ دینے پر ایوارڈ دے چکے ہیں .حکومت سندھ کے کمیشن برائے خواتین کی طرف سے  2020 میں لائف ٹائم اچیومنٹ  ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں .

Author