تحریر:ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری
لاہور کے علاقے گلبرگ میں علی زیب روڈ پر فردوس مارکیٹ کے پاس ایک پرانا قبرستان واقع ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی بہت سی شخصیات مدفون ہیں۔
کچھ ناموں سے تو آپ یقیناً واقف ہوں گے لیکن ان میں بہت سے نام ایسے ہیں جو آج وقت کی گرد میں کہیں گم ہو چکے ہیں لیکن ان کی قبروں کا نشان اب بھی موجود ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ماضی کے ان فنکاروں اور ادیبوں کا تذکرہ کریں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔
آئیں ان شخصیات سے آپ کا تعارف کرواتا ہوں۔
وحید مراد بات کی جائے اگر پاکستان فلم انڈسٹری کی اور وحید مراد کا نام نہ آئے، یہ ممکن ہی نہیں۔ لالی وڈ کا یہ چاکلیٹی ہیرو 2 اکتوبر 1938 کو کراچی میں پیدا ہوا۔ آپ کے والد نثار مراد فلم ڈسٹری بیوٹر تھے اور آپ ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ اداکار شان کی طرح آپ کی والدہ بھی پہلے عیسائی تھیں۔ بچپن میں وحید گردن پر گٹار لٹکائے رہتے۔ وہ اپنے دوستوں میں ایک اچھے ڈانسر کے طور پر مشہور تھے۔
وحید مراد نے کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایس ایم آرٹس سے گریجویشن کیا اور اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ کہتے ہیں کہ انہیں عربی زبان پر عبور حاصل تھا اور جب فروری 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تو انہیں ٹرانسلیٹر بھی مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان کے پہلے ہیرو تھے جنہوں نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی تھی۔
اسکول کے دنوں میں آپ نے کئی ڈراموں میں حصہ لیا جس نے انہیں بچپن میں مزید شہرت دی۔
پروڈیوسر کے طور پر وحید مراد نے اپنے والد کے قائم شدہ ادارے کے تحت فلم ”انسان بدلتا ہے” سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اداکارہ زیبا اور اپنے قریبی دوست پرویز ملک صاحب کی تجویز پر انہوں نے بھی اداکاری کے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور 1962 کی فلم ”اولاد” میں ایک میں ثانوی کردار ادا کیا۔ اس فلم کو ناقدین نے بہت سراہا اور سال کی سب سے بہترین فلم کا نگار ایوارڈ بھی دیا۔ ہیرا اور پتھر، ہیرو کے طور پر ان کی پہلی فلم تھی۔ انہیں اسی فلم کے لیے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ ملا۔
اس کے بعد آئی فلم ”ارمان”، جس نے انہیں راتوں رات سپر اسٹار بنا دیا۔ اس فلم کے گانے بچے بڑے سب کی زبان پر تھے۔ خاص طور پر احمد رشدی کے گائے ہوئے کوکو کورینا، اکیلے نہ جانا اور بے تاب ہو ادھر تم، جیسے گانے آج تک مقبول ہیں۔ اس فلم کے لیے انہیں دو نگار ایوارڈ ملے، بہترین پروڈیوسر اور بہترین اداکار کے طور پر۔
ان کی دیگر سپر ہٹ فلموں میں جاگ اٹھا انسان، دوراہا، انسانیت، دیور بھابھی، ماں باپ، عندلیب، انجمن، مستانہ ماہی، نصیب اپنا اپنا و دیگر شامل ہیں۔ وحید مراد، پرویز ملک، مسرور انور، سہیل رانا، احمد رشدی اور زیبا کی کام یاب ٹیم نے ایک بڑی تعداد میں بہترین فلمیں بنائیں۔ کہا جاتا ہے کہ گلوکار احمد رشدی کا وحید مراد کی کامیابی میں اہم کردار تھا اور رشدی کی آواز خاص انہیں کے لیے بنائی گئی تھی۔
دلیپ کمار کے بعد وحید مراد وہ دوسرے ہیرو تھے جن کا ہیئراسٹائل اور لباس نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوا اتنا کہ یہ ایک ضرب المثل بن گیا۔ نیز گیت پکچرائز کروانے کا ان کا انداز آج تک منفردودل کش سمجھا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ہر عروج کو زوال بھی ہے۔ یہی کچھ وحیدمراد کے ساتھ بھی ہوا جب ایک خاص لابی کی اجارہ داری نے وحید مراد کو ثانوی حیثیت کے کرداروں تک محدود کر دیا۔ وہ محمد علی اور ندیم کے ساتھ معاون کردار کرتے نظر آئے۔ یہ ان کے کیریئر کے لیے زبردست دھچکا تھا لیکن وہ اتنے خوددار تھے کہ کسی دوست سے بھی مدد نہیں مانگی۔ ان کی یہ ناکامی ان کے ٹیلنٹ کہ وجہ سے نہیں بلکہ سازشوں اور اپنوں کے دھوکوں کی وجہ سے تھی۔
”ہیرو” ان کے قریبی دوست اقبال یوسف کی طرف سے ہدایت کردہ وحید کی زندگی کی آخری فلم تھی۔
23 نومبر 1983 کی صبح وحید مراد اپنے کمرے کے فرش پر مردہ پائے گئے۔ ان کے منہ میں دبے پان میں ‘کچھ’ پایا گیا تھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ دل کا دورہ تھا یا خودکشی۔
کہا جاتا ہے کہ وحید کا عروج و زوال ایلوس پریسلے کی طرح ہے۔ بقول فلمی ناقدین کے دونوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں کام یابیوں کی انتہا کو چھوا، مگر پھر جب گرے تو بری طرح گرے اور ایک دم اچانک اموات ہوئیں۔
آپ کی بیٹی عالیہ کہتی ہیں: “اگر ابو جانتے کہ انہیں اتنا پسند کیا جاتا ہے تو وہ نہیں مرتے۔”
وحید مراد نے اپنے 25 سالہ کیریئر میں کل 124 فلموں میں کام کیا جن میں 38 بلیک اینڈ وائیٹ اور 86 رنگین فلموں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 6 فلموں میں بطور مہمان اداکار بھی شرکت کی۔ انہوں نے بہترین پروڈیوسر اور بطور بہترین اداکار کے طور پر 32 فلم ایوارڈز حاصل کیے۔ اس کے علاوہ انہیں 2010 میں صدارتی ایوارڈ ’ستارۂ امتیاز‘ سے بھی نوازا گیا جو ان کی بیوہ سلمیٰ مراد نے وصول کیا۔
وحید مراد گلبرگ قبرستان، علی زیب روڈ، لاہور میں اپنے والد کی قبر کے قریب دفن کیے گئے۔آپ کی قبر کا پرانا کتبہ انگریزی میں تھا جب کہ اب اردو میں لکھا کتبہ لگایا گیا ہے،جس پر ”عظیم سپراسٹار، چاکلیٹی ہیرو وحید مراد مرحوم ولد نثار مراد مرحوم” لکھا ہوا ہے۔
ڈاکٹر نصیر احمد ناصر
محترم نصیر احمد ناصر صاحب پاکستان کے مشہور اسلامی اسکالر و فلاسفر تھے جو 1916 میں امرتسر کے ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اصل نام نصیر احمد جب کہ ناصر تخلص تھا۔ آپ نے بی اے تک تعلیم ”ایم اے او ہائی سکول و کالج امرتسر” سے حاصل کی۔ اس کے بعد معاشیات میں ایم اے کیا اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ”ڈاکٹر آف لٹریچر” کی ڈگری بھی حاصل کی۔
آپ کو بیک وقت عربی، فارسی، اردو اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ تفسیر و تشریح، انشاء پردازی اور تالیف و تصنیف کے فنون بھی ماہرین سے باقاعدہ سیکھ رکھے تھے۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا شفیع محمد، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولوی محمد عالم امرتسری جیسے عالم فاضل ہیرے شامل تھے۔
یوں تو آپ کے کریڈٹ پر بے شمار اسلامی کتابیں ہیں لیکن سرورِ دو عالم حضرت محمدﷺ کی زندگی پر لکھی سوانح عمری، ”پیغمبر اعظم و آخرؐ” آپ کا سب سے بڑا علمی کارنامہ مانا جاتا ہے۔ قرآن کے اندر جمالیات اور اس کے اصولوں پر آپ کی تحقیقی کاوش ”جمالیات، قرآن حکیم کی روشنی میں” بھی اہمیت کی حامل ہے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد تیس سے زائد ہے جن میں تاریخِ جمالیات، حسنِ تفسیر، اقبال اور جمالیات، حسن انقلاب، فلسفہ رسالت، آرزوئے حسن، داستانِ اندلس، ارمغان خالد، شیطان کا جمالیاتی فریب، سوچ، سرگزشت فلسفہ، حریف آدم، تاریخ ہسپانیہ اور روداد سفر حجاز شامل ہیں۔آپ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر بھی رہے۔آپ کا انتقال اپریل 1997 میں ہوا۔ آپ کی قبر پر یہ الفاظ تحریر ہیں:
” یہ مرقد ہے نقیب و علم بردارِ توحید ڈاکٹر نصیر احمد ناصر کا، جو سچا تلمیذ القرآن اور مْفسرِ قْرآن عظیم تھا۔”
علاؤ الدین
مشہور فلم اداکار علاؤالدین جن کا پورا نام علاؤ الدین بٹ تھا، 2 فروری 1920 کو متحدہ ہندوستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ کشمیری بٹ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
علاؤ الدین شروع سے ہی ایک گلوکار بننا چاہتے تھے اور آپ نے موسیقی کی تربیت بھی لے رکھی تھی۔ لیکن پھر ان کی ملاقات لاہور کے مشہور ڈائریکٹر ”اے آر کاردار” سے ممبئی میں ہوئی جنہوں نے موصوف کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ فلمی ہستیوں سے ان کا تعارف بھی کروایا۔
پھر جب علاؤ الدین صاحب نے اداکاری شروع کی تو ان کا جھکاؤ زیادہ تر ولین اور مزاحیہ کرداروں کی طرف رہا۔ مرکزی ہیرو کے طور پہ آپ کم کم ہی نظر آ ئے۔ لالی وڈ میں آپ کا کیریئر 4 دہائیوں پر محیط ہے جن میں بے شمار مشہور فلمیں جیسے نئی دنیا، سنجوگ، میلا، دلا بھٹی، مکھڑا اور دیگر شامل ہیں۔ بطور معاون اداکار اب تک آپ کے حصے میں 7 نگار ایوارڈ آئے ہیں جب کہ فلم بدنام کے لیے آپ کو خصوصی نگار ایوارڈ دیا گیا تھا۔
13 مئی 1983 کو تریسٹھ سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کو گلبرگ کے فردوس مارکیٹ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی قبر پر ”آخری آرام گاہ عوامی اداکار علاؤالدین” کے الفاظ کندہ ہیں۔ آپ کی قبر کے پاس ہی آپ کے نوجوان بیٹے عالم یار بٹ شہید اور بیوی تاج عالم کی قبر بھی ہے۔
شمشاد بیگم عرف راگنی
1922 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والی شمشاد بیگم، پہلے ہندوستانی اور پھر پاکستانی فلم انڈسٹری کی نام ور اداکارہ تھیں جن کا 1940 کی دہائی میں ڈنکا بجتا تھا۔ ہرنی جیسی آنکھوں والی یہ اداکارہ راگنی کے نام سے مشہور ہوئیں۔
راگنی کی پہلی فلم ’’دُلا بھٹی‘‘ تھی جو 1940ء میں ریلیز ہوئی اور ریلیز ہوتے ہی کام یابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ اس فلم سے راگنی راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ اس کے بعد راگنی نے کئی ہندی اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سہتی مراد، نشانی، راوی پار ، پونجی اور کیسے کہوں شامل ہیں۔
1945 تک وہ بھارتی فلموں کی مہنگی ترین اداکارہ بن چکی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فلم ’’شاہ جہاں‘‘ میں ممتاز محل کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضہ وصول کیا۔ 1945ء میں ہی راگنی نے فلم ’’شیریں فرہاد‘‘ میں شیریں کا کردار ادا کیا جس نے ان کی شہرت کو دوام بخشا۔ اس فلم میں ان کے مقابل فرہاد کا کردار ادا کرنے والے آنجہانی بھارتی اداکار امجد خان (جنہوں نے فلم شعلے میں گبر کا کردار ادا کیا تھا) کے والد تھے۔
پاکستان آنے کے بعد راگنی نے جن فلموں میں کام کیا ان میں بے قرار، غلام، گمنام، انارکلی، گہرا داغ، تاج محل، اور سلطان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
کہتے ہیں کہ ان کی آواز بہت مدھر تھی جس کا سحر شائقین کو اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ وہ بڑی بے باک اور صاف گو تھیں اتنی کے ان کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا کہ وہ تکبر پسند ہیں۔
انہوں نے 1940ء کی دہائی میں ہی محمد اسلم نامی شخص سے شادی کی جو زیادہ دیر قائم نہ رہی۔ پھر پاکستانی اداکار و فلمساز ایس گل سے انہوں نے دوسری شادی کی۔
آپ کے آخری ایام کسمپرسی کے عالم میں گزرے، فلم والے حسب روایت انہیں بالکل فراموش کر چکے تھے۔27 فروری 2007ء کو فرشتۂ اجل آن پہنچا اور وہ 85 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئیں۔
غلام باری ملک
15 دسمبر 1924 کو پیدا ہونے والے غلام باری ملک، لاہور کی ملتان روڈ پر واقع مشہور فلم اسٹوڈیو ”باری اسٹوڈیو” کے مالک تھے جو ایک زمانے میں شہر کا سب سے بڑا فلم اسٹوڈیو تھا، جسے 1957 میں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر پنجابی فلم ”یکے والی” کی شان دار کام یابی کے بعد بنایا گیا تھا۔
آپ نے 1956 کی فلم ”ماہی منڈا” سے اپنے کیریئر کی ابتدا کی اور 1957 میں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر پنجابی فلم ”یکے والی” کی شان دار کام یابی کے بعد ملتان روڈ پر زمین لے کر باری اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔ یہ اسٹوڈیو اپنے وقت کا بہترین اسٹوڈیو تھا جس کے بڑے بڑے ہالز اور سرسبز میدانوں میں کئی کئی شفٹوں میں فلموں کی شوٹنگ جاری رہتی تھی۔
باری صاحب پاکستان کے وہ پہلے پروڈیوسر تھے جنہوں نے کسی بھی انڈین فلم کو درآمد کر کے پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا۔ سال تھا 1954 اور فلم تھی جال۔ جال کی نمائش نے ”جال تحریک” کو جنم دیا جس میں ان تمام فلمی ہستیوں کو گرفتار کر لیا گیا جو اس فلم کی نمائش کے خلاف تھیں۔ الطاف باجوہ کے مطابق اس کے پیچھے باری صاحب کا یہ مقصد تھا کہ ہماری مقامی مارکیٹ کو دیگر عالمی فلموں کے لیے کھولا جائے تاکہ پاکستان میں اس پیمانے اور اسٹائل کی فلم بندی شروع کی جا سکے۔
غلام باری ملک نے اپنے دور کی دو مشہور اداکاراؤں سے شادی کی، پہلی نجمہ اور دوسری زہرہ بیگم عرف سلونی سے۔
آپ کا انتقال 97 برس کی عمر میں دسمبر 2015 میں ہوا اور آپ کو فردوس مارکیٹ قبرستان میں اپنی بیوی زہرہ بیگم کے ساتھ دفن کیا گیا۔
الیاس کاشمیری
25 دسمبر 1928 کو محلہ داراشکوہ لاہور میں پیدا ہونے والے محمد الیاس کاشمیری، اپنے دور کے مشہور پاکستانی فلم اداکار گزرے ہیں جنہوں نے بمبئی سے اپنے فلمی کیریئر کی ابتدا کی تھی۔
بمبئی میں رہنے کے دوران ”ملکہ” وہ پہلی فلم تھی جس میں الیاس بطور ہیرو جلوہ گر ہوئے۔ 1947 کے بعد آپ پاکستان چلے آئے اور 1949 کی پنجابی فلم ”مندری” میں کام کیا۔ الیاس کاشمیری پاکستان کے ان اداکاروں میں گنے جاتے ہیں جن کی اداکاری کا کینوس بہت وسیع تھا۔ آپ نے بطور ہیرو کام کرنے کے علاوہ مزاحیہ اداکار، ڈراما آرٹسٹ اور ولین کے طور پر بھی اپنے آپ کو منوایا۔
ایک اندازے کے مطابق آپ نے تقریباً 600 اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا جن میں چاچا جی، بشیرا، سلطان، بنارسی ٹھگ، استاد شاگرد، عشق پر زور نہیں، یکے والی، وعدہ اور شہرت قابل ذکر ہیں۔
آپ کا انتقال 81 سال کی عمر میں، 12 دسمبر 2007 کو ہوا۔ آپ کا مدفن لاہور کے فردوس مارکیٹ قبرستان میں ہے۔ پہلو میں آپ کی زوجہ پروین الیاس آسودہ خاک ہیں جن کا انتقال اپریل 1997 میں ہوا۔
زہرہ بیگم عرف سلونی
سلونی، جن کا اصل نام ”زہرہ بیگم” تھا اپریل 1950 میں سندھ کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ آپ 1960 کے آخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل کی ایک مشہور پاکستانی فلمی اداکارہ تھیں جنہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’’ غدار‘‘ سے کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ محمد علی اور سدھیر نے اداکاری کی تھی۔
انہوں نے پنجابی اور اردو دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کی۔ چن مکھنا، دل دا جانی، ساجن پیارا اور پھنے خان ان کی مقبول فلموں میں شامل تھیں۔1970 کے آغاز میں انہوں نے باری اسٹوڈیوز کے مالک باری ملک سے شادی کی، یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں وحیدمراد، یوسف خان، اعجازدرانی اور اکمل خان جیسے نام ور ہیروز کے ساتھ ہٹ فلمیں دیں۔ ان کی آخری فلم 1979 کی “امیر تے غریب” تھی۔
اپنی شادی کے کچھ سال بعد سلونی نے فلموں سے سبک دوشی کا اعلان کردیا اور 1979 میں فلمی صنعت چھوڑ دی۔ آپ کی وفات جگر کی خرابی کی وجہ سے 15 اکتوبر 2010 کو ہوئی اور آپ کو گلبرگ میں علی زیب روڈ پر واقع فردوس مارکیٹ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 2015 میں جب باری ملک کی وفات ہوئی تو انہیں بھی سلونی کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا۔
سمن
اس قبرستان میں 22 سال کی ایک لڑکی سَمن کی قبر بھی واقع ہے جس پر لواحقین نے ایک شش پہلو مقبرہ تعمیر کرایا ہے جس کی خوب صورت چھت پر شیشے کا کام کیا گیا ہے۔ سمن کے متعلق گورکن کا کہنا تھا کہ یہ بچی کسی حادثے میں فوت ہوگئی تھی جس کے نام پر فردوس مارکیٹ کا مشہور کمرشل سینٹر و پلازہ ”سمن آرکیڈ” ہے۔ کتبے پر تاریخِ وفات دسمبر 1983 درج ہے جب کہ قبر کے تعویز پر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔
والدہ محمد علی
مشہور اداکار محمد علی کی والدہ، سرداری بیگم کی قبر بھی اسی قبرستان کے کونے میں واقع ہے جو 22 جنوری 1988 بروز جمعہ فوت ہوئی تھیں۔ یہ قبر ترچھی بنی ہوئی ہے۔
گورکن نے بتایا کہ محمد علی نے اپنی تدفین کی جگہ بھی والدہ کے پہلو میں رکھی تھی لیکن ان کی وفات کے بعد اُن کے مرشد کے حکم پر انہیں میاں میر قبرستان مین دفن کیا گیا۔
یہ اکیلی بڑی سی قبر ایک کونے میں گندگی کے ڈھیر کے ساتھ واقع ہے۔ اس جگہ کو دیکھ کہ بہت دل دُکھا کہ اتنے عظیم انسان کی والدہ کی قبر پر صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
آپ کی قبر پر ”سرداری بیگم زوجہ عظیم خان والدہ علی زیب” تحریر ہے جو مٹنے کے قریب ہے۔
میرے ناقص علم میں تو یہ وہ ہستیاں ہیں جو اس قبرستان میں آرام کر رہی ہیں۔ اگر قارئین ایسی کسی اور مشہور شخصیت کے بارے میں جانتے ہیں تو مجھے اس بارے میں ضرور مطلع کیجیے گا۔

Author

  • ذیشان ہاشمی

    صاحب تحریر پینتیس برس سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں. زمانہ طالب علمی سے تحقیق کا سلسلہ جاری رکھے ہوے ہیں . معاشیات، اسلامیات ، کمپیوٹر سائس۔ ابلاغیات اور سیاسیات جیسے اہم مضامین میں ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں. لاہوریات پر ریسرچ میں نمایاں خدمات انجام دے رہے اس ضمن میں لکھی گئی ان کی منفرد تحریروں کو قارئین کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے۔

    View all posts