ماضی اور آج کا سنیما و ادب

موجود سنیما، سو برس پرانے سینما سے یک سر مختلف ہے۔ یہ وہ سنیما نہیں، جس پر 1915 میں ڈی ڈبلیو گریفن کی “دی برتھ آف اے نیشن” ریلیز ہوئی تھی، وہ بھی نہیں، جس پر 1960 میں ہچکاک کی “سائیکو” ریلیز ہوئی تھی، یہاں تک وہ بھی نہیں، جس پر اسٹینلے کیوبرک کی “2001: اسپیس اڈویسی” ریلیز ہوئی۔ یہ بے پناہ تبدیل ہوا ہے۔ پہلے مرحلے میں ٹیکنالوجی کے وسیلے۔ اس ٹیکنالوجی نے فلم کی شوٹنگ، ایڈیٹنگ، موسیقی، ریلیز؛ ہر شے کو موزوں اور مربوط کردیا ہے۔ اور تخلیقیت کو بھی تقویت دی۔ ایک پہلو اس سے جڑی معیشت بھی ہے، جس کے طفیل نہ صرف اسے نئے موضوعات ملے، بلکہ نئی مارکیٹیں بھی میسر آئیں۔ عالمی سنیما میں نئے کلچر در آئے۔ فن کاروں کا تبادلہ ہوا۔ پری پروڈکشن سے، پوسٹ پروڈکشن، ریلیز سے ری ریلیز تک، ہر جگہ نئی جہت متعارف ہوئی۔ ٹی وی کی اہمیت نے پہلے فلم کے سیٹلائٹ رائٹس کی اہمیت اجاگر کی، اور اب او او ٹی رائٹس کی۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج کا سنیما، گو اسی سنیما کا تسلسل ہے، جس کی بنیاد جارج ملیس کی “اے ٹرپ ٹو دی مون” یا ایڈون ایس پورٹر کی “دی گریٹ ٹرین روبری” نے رکھی تھی، مگر اس سے 180 درجے مختلف ہے۔ بہ طور فلم بین، میں جدید سنیما کا ناظر ہوں۔ کلاسیک فلمز میری ضرورت ہیں، میں ان کا معترف ہوں، مگر جس شے سے میں محظوظ ہوتا ہوں، وہ جدید سنیما ہے، وہ سنیما، جس میں مارٹن اسکورسیزی، اسٹیفن اسپیل برگ، جمیز کیمرون، رڈلی اسکاٹ، نولن، ٹرٹینو، ڈینس ویلینو یا پر Coen brothers نے حصہ ڈالا، یا ان کے ہم عصر دیگر نے۔ فکشن کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہمیں ہارڈی، ٹالسٹائی، ڈکنز، جین آسٹن، او ہنری کا فکشن بھی اتنا ہی بھاتا ہے، جتنا ہمیں مارکیز، ہوزے سارا ماگو، اسماعیل کادارے، پامک، گنتر گراس، مورا کامی، مویان کا فکشن پسند۔ اور لگ بھگ تمام قارئین ادب کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ فلم اور فکشن کے مابین اس فرق کی ایک وجہ ہے، اور وہ ہے، میڈم۔ فلم کا میڈم گزشتہ سوا برس میں کئی حیران تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔ اس کے برعکس فکشن کو وہی میڈم میسر ہے۔ کتاب کا وہی ڈھب، وہی کاغذ، وہی سیاہی، پڑھنے کا وہی عشروں پرانا انداز۔ کتاب کا مطالعہ کل طرح آج بھی وقت، تنہائی اور خاموشی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ای بک، آڈیو بک، ویڈیو گرافی، اور دیگر ٹیکنالوجیز کی وجہ سے کچھ تبدیلی ضرور واقع ہوئی ہے، مگر کوئی انقلابی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ پڑھنے کا عمل اب بھی لگ بھگ ویسا ہی ہے، جیسے دوستوفکسی کے دور میں تھا۔ فلم البتہ وہ نہیں رہی، جو سرجی آئزنٹائن بنایا کرتا تھا۔ یہ بہت اہم فرق ہے۔

Author

  • اقبال خورشید

    ااقبال خورشید فکشن نگار، انٹرویو کار، کالم نویس، ولاگر اور فلم مبصر کے طور پر شناخت رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ سفر میں وہ معتبر روزناموں اور میڈیا گروپس سے وابستہ رہے۔ ملکی و بین الاقوامی شخصیات کے آٹھ سو سے زاید انٹرویوز کر چکے ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو ناول ”تکون کی چوتھی جہت“ اور ”گرد کا طوفان“ شایع ہو کر ناقدین اور قارئین کی توجہ اور پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ”تکون کی چوتھی جہت“ ہندوستان سے بھی شایع ہوا۔ اِس کے ہندی ترجمے کی اشاعت جلد متوقع ہے۔نیز یہ فکشن کی کیٹیگری میں یو بی ایل ایوارڈ کے لیے بھی شارٹ لسٹ ہوا۔ اقبال خورشید معتبر ادبی جریدے ”اجرا“کے مدیر اور پاکستان میں صحافتی تحریک سے متعلق اہم تصنیف ”سب سے بڑی جنگ“ کے معاون مصنف ہیں۔ اُنھوں نے ”ون منٹ اسٹوری“ کے زیر عنوان صحافتی کہانیوں کا بھی تجربہ کیا۔ وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ماس کمیونیکشن، انگریزی اور آئی آر میں ماسٹرز کی اسناد حاصل کیں۔وہ اِس وقت کراچی میں مقیم ہیں۔

    View all posts