مارکس اور مارکسزم روز جنم لیتا ہے ،اس کی تعلیمات جامد نہیں ہیں ،کیونکہ وہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اس نے جو سوچا ،کہا،اور لکھا وہ مختتم ہے۔
وہ اس لٸے روز جنم لیتا ہے کہ محنت کا استحصال ،نجی ملکیت اور طبقات اب بھی موجود ہیں ۔اگرچہ اس کے دشمن روز اس کو مارنے کا نہ صرف ڈھنڈورا پیٹتے ہیں بلکہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ،اور خود ہم مارکس وادی بھی مان لیتے ہیں کہ واقعی اس بار تو کوٸی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ہم ( سویت یونین کا خاتمہ) خود ان کو دفن کرکے آئے ہیں ۔
تاریخ کے خاتمے کا بھی اعلان ہوچکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی محنت اور محنت کش طبقے کے دشمن جو مارکس فوبیا کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں انکے ذہنوں پر سے مارکسزم کے بھوت کا خوف نہیں اترتا ،اگرچہ ایکطرف یہ مارکسزم سے انکاری ہیں اور اس کو اپنا جانی دشمن سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف میں یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ جب بھی ان کو اپنی بیماری لاعلاج لگنے لگتی ہے تو یہ مارکسزم کے (شفا خانہ) کلینک “ داس کیپیٹل“ کا رخ کرنے لگتے ہیں اور وہیں سے کوٸی کارگر نسخہ ڈھونڈنے اور طلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو انکو مل ہی جاتا ہے ۔
اور کیوں نہ ملے سرمایہ داری کے باوا آدم، آدم سمتھ کے چیلے کو تو ان سے زیادہ ڈاکٹر مارکس ہی سپیشلسٹ اور انکے نسخے کار آمد لگتے ہیں ۔آخر اس بات میں کیا راز ہے کہ انسان جس صدی میں رہتا ہے انکو مارکس اور مارکسزم اسی صدی کا فلاسفر ،نبض شناس اور انکی تعلیمات میں اس دور کے تضادات اور مسائل کا حل نظر آتا ہے، مارکس 206 سال کا ہوگیا ہے، ان تمام مارکس وادیوں ،دنیا کے تمام محنت کشوں اور آج کی نوجوان نسل کو انکی ایکیسویں صدی کا جنم دن مبارک ہو، جو آج بھی مارکسی نظریات کا عٙلم تھامے ،نجی ملکیت کے خاتمے ،محنت کی بالا دستی اور ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام اور تعمیر کے لٸے بر سر پیکار ہیں، ناقابل حل سرمایہ دارانہ تضادات اور بیماریوں کا حل صرف مارکسی نظریات اور ایکیسویں صدی کے سوشل ازم میں پوشیدہ ہے ۔
میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Author