پنجاب نے دو مرزا پیدا کیئے ایک مرزا تھے قادیان والے غلام احمد اور دوسرے مرزا ہیں جہلم والے انجینئر محمد علی۔
جو قادیان والے بڑے مرزا صاحب کی نسبت خاصے ہوشیار نکلے ۔۔۔۔انھوں نے خود کو تحفظ ختم نبوت والے گینگ کا رزق نہیں بننے دیا اور نہ ہی اپنا حال سرسید کی طرح کروا کر کھڈے لائن لگے۔۔۔۔وہ مولویوں کو انہی کے سٹائل میں ٹکرے۔۔۔۔اور ایسا ٹکرے کہ ٹھیک ٹھاک ان کی چیخیں نکلوا دیں۔
یہ بات تو بہر حال ماننی پڑے گی کہ فرقہ واریت اور روایتی مذہبی طبقے سے متنفر نوجوانوں کو مرزا صاحب کی دعوت نے خوب متاثر کیا۔۔۔۔۔اپنی غیر فرقہ وارانہ دعوت سے۔
بریلوی پس منظر رکھنے والے مرزا صاحب نے بعدازاں بریلویت سے اہلحدیث کی طرف چھلانگ لگائی ۔۔۔شیخ زبیر علی زئی حضرو والے سے متاثر ہوئے اور ان کے کے کافی قریب بھی رہے۔۔۔۔مگر پھر مسلک اہلحدیث سے بھی سائیڈ ہو گئے ۔۔۔۔میں اکثر کہتا ہوں کہ بگڑا ہوا سلفی بڑا خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
انجینئر صاحب بعدازاں مولانا اسحاق جھالوی سے متاثر ہوئے۔ مولانا اسحاق اہلحدیث کے باغی مولوی تھے۔ بڑے حسینی تھے۔۔۔ بنو امیہ کو خوب رگڑا لگاتے اپنے بیانات میں یہ بات اکثر سلفیوں سے ہضم نہیں ہوتی ۔۔۔۔ بہر حال اسحاق صاحب بڑے کمال کے مولوی تھے۔
بات انجینئر صاحب کی ہو رہی تھی۔۔۔۔انجئیر فرقہ پرست مولویوں کے لیئے خاصے اچھے تریاق ثابت ہوئے ہیں۔۔۔۔۔  یہ کام ڈاکٹر اسرار احمد یا جاوید غامدی صاحب جیسے شریف قسم کے ہومیو پیتھک مبلغین کے بس کا نہ تھا اس کے لیئے مرزا صاحب جیسا کھڑ پینچ چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔
مرزا جہاں   فرقے کی اچھی باتوں کی تحسین بھی کرتے ہیں۔۔۔ اسی لیئے ان کے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان کے معتقدین کا ایک بڑا حلقہ پیدا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ وہیں وہ ہر فرقے کے ساتھ سینگ بھی پھنسائی رکھتے ہیں۔۔۔ اس کے لیئے کافی ہھتکنڈے ہیں  ان کے پاس ۔۔
اہلحدیث سے کھرک  کرنے کے لیئے وہ صحاح ستہ سے بنو امیہ کے “کارنامے” کھولنا شروع کر دیتے ہیں جو اہلحدیث کی نازک رگ ہے۔۔۔۔
اہلحدیث بھڑک تو اٹھتے ہیں مگر وہ کر کچھ نہیں پاتے کیونکہ حوالہ انہی کی بخآری اور مسلم سے دیتے ہیں۔۔۔۔۔اس لیئے بے چارے بس رافضی کہہ کہہ کر ہار مان جاتے ہیں۔۔۔
دیوبند سے انگشت زنی کے لیئے ان کی زنبیل میں مھند علی المفنہد نامی کتاب ہے۔۔۔۔۔ اس کے چند جملے پکڑ کر انھیں اکثر رگڑتے رہتے ہیں۔۔۔ اشرف علی تھانوی کا ایک متنازعہ واقعہ جس میں ان کے مرید انھیں اشرف علی رسول اللہ کہہ دیا تھا۔۔۔اس بات کو بھی  لیے بیٹھے ہیں۔۔
بریلویوں سے پنگا لینے کے لئے ان کے پاس خاصا وسیع سٹاک ہے۔۔۔۔۔اعلی حضرت کی حسام الحرمین ہے۔۔۔۔ ان کے فتوے ہیں۔۔۔۔معین الدین چشتی سے منسوب کتاب ہشت بہشت مرزا صاحب کی مرغوب غذا ہے ۔۔۔۔اس کتاب میں چشتی صاحب سے منسوب ایک واقعہ ہے کہ انھوں نے اپنے مرید سے ۔۔۔۔۔اپنے نام کا کلمہ یعنی چشتی رسول اللہ پڑھوا دیا تھا۔۔۔۔ہشت بہشت کا یہ انتساب بریلوی مولویوں کے حلق کا کانٹا تو ہے مگر وہ لاکھ کوشش کے باوجود انجینئر صاحب کو نکیل نہیں ڈال سکتے ۔۔۔۔۔صوفیا کی غیر یقینی کرامات بھی ان کی مرغوب ہیں ۔۔۔۔۔
جیسے بزرگوں کے بارے میں آتا ہے ۔۔۔کوئی بزرگ فجر کی نماز مکہ ۔۔۔۔اور ظہر کی فلسطین میں پڑھتے تھے۔۔۔یا کوئی بزرگ نگاہ مار کر سات زمینوں تلے کے خزانے دیکھ لیتے تھے ۔۔۔۔انجینئر صاحب اس کرامت پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔۔اگر صدیوں پہلے کے بزرگ سات زمینوں تلے کے خزانے دیکھ لیتے تو پھر پیٹرول تو اٹھارویں صدی کے فرنگی بزرگان سائنس نے دریافت کیوں کیا ہمارے والے بزرگ کیوں نہ کرسکے ۔۔۔۔شاید ان کی نگاہ اتنی طاقتور تھی کہ پیٹرول بھی کراس کر گئی تھی ۔
بہر حال انجینئر صاحب پر اصل تنقید ان کے اہلبیت والے نظریے کی وجہ سے ہوتی ہے۔۔۔۔مرزا صاحب اہل بیت کی تاریخ کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان کے مخالفین کو دین کا دشمن ۔۔۔۔۔اس سلسلے میں وہ بنو امیہ کی بہت سی ایسی ہستیوں سے پردہ سرکا دیتے ہیں کہ خاص کر سلفی اور دیوبندی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر مرزا صاحب کا ایک واقعہ کربلا کے نام سے ایک خاصا متنازعہ ریسرچ پیپر بھی شائع ہو چکا ہے۔۔۔۔۔میں اکثر کہتا ہوں کہ بنو کا سب سے کمزور پہلو یہ تھا کہ وہ تاریخ سازی پر  عباسی خلافت کی طرح توجہ نہ دے پائے ۔۔۔ورنہ مززا صاحب بھی یزید کو رحمتہ اللہ کہہ رہے ہوتے ۔۔
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ کتابی ہیں بابی نہیں اور انھوں نے اپنی دینی مہم ان بابیوں کے خلاف لانچ کی جو رسول کو چھوڑ کر بابوں کے پیچھے لگ گئے مگر حقیقتاً مرزا صاحب خود بہت بڑے بابی ہیں۔۔۔باقیوں کا بابا تو کوئی ایک ایک ہی بو گا ۔۔۔انجینئر کے تو صحاح ستہ والے چھ  بابے ہیں۔۔۔جن کی لکھی کتابوں کو وہ دین کہتے ہیں۔۔۔۔امام بخآری سے لے کر امام داؤد تک کوئی  بھی نبی تو نہیں تھا۔۔۔یہ سب بھی بابے ہی تھے۔۔۔۔
مرزا صاحب  کافی شرارتی طبیعت کے مالک ہیں اس لیئے کافی کھلی ڈھلی زبان استعمال کر کے مخالفین کی منجی ٹھوکتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔خطاب کریں تو یوں گمان ہوتا ہے مناظرے میں بیٹھے ہوں مگر مولویوں سے ٹکرنے کے لیے ایسا ہی بندہ چائیے تھا ان کی بھاشا میں ان سے ٹکر لے سکے ۔۔۔
اکثر مناظروں کا چیلنچ دے بیٹھتے ہیں۔۔۔۔جب کوئی مناظرہ کرنے پہنچ جائے تو وہ بے چارہ مفتی طارق مسعود یا مفتی حنیف قریشی کی طرح جہلم کی سڑکوں پر خوار ہوتا رہ جاتا ہے اور انجنئیر مناظرے سے کھسک جاتے ہیں۔۔۔۔
بہر حال جو بھی ہو مرزا صاحب کی دعوت نے بڑے وسیع پیمانے پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو خوب متاثر کیا ہے۔۔۔اور مولویوں کی روایتی راسخ العقیدگی پر خوب ضرب  لگائی ہے۔۔۔
زبیریات

Author

  • زبیر حفیظ

    صاحب تحریر ہریپور ہزارہ سے ہیں، بی ایس پولیٹیکل سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں. مطالعہ سے شعف ہے۔ چار سال سے سوشل میڈیا پر سماج ،مذہب اور تاریخ پر لکھ رہے ہیں

    View all posts