نوجوان فلم مبصرین کے نام ایک پیغام 

 شو بز جرنلزم کو سطحی صحافت کہا جاتا تھا مگر سوشل میڈیا نےفلم ناقدین کا صحافتی مقام بلند کیا ہے 
 
صاحبو، اردو میں فلموں پر تبصرے کے چلن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔ ۔ ۔ اس چلن نے کئی ایسے ناظرین کو،  جو لکھاری نہیں، لکھنے کی تحریک دی۔ ساتھ ہی کئی سنجیدہ قلم کاروں کو بھی فلم ریویوز کی سمت متوجہ کیا، ورنہ شوبز جرنلزم کو ہمارے ہاں تیسرے درجے کا جرنلزم سمجھا جاتا تھا۔ اور  پختہ قلم کار فلم  اس پر لکھنے سے کتراتے تھے۔
اس ضمن میں فلموں سے متعلق بننے والے اردو فیس بک پیجز کا کردار کلیدی رہا۔ مووی پلینٹ، مووی نیٹ ورک،  شو مست ہے،  فلم والا، اور دیگر کئی  کوششیں قابل توجہ ہیں۔
مجموعی طور پر یہ سلسلہ خوش آیند ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری  آئے گی۔ نئے لکھنے والوں کے سامنے ذوالفقار علی زلفی اور  خرم سہیل سمیت کئی اچھی مثالیں موجود ہیں۔ عامر ہاشم خاکوانی سے سید کاشف رضا تک ، کئی صحافی اور قلم کار بھی فلموں پر اپنی رائے ہم سے بانٹتے رہتے ہیں۔ مکرم نیاز صاحب کا اس میدان کا وسیع تجربہ ہے۔ برادرم حسنین جمیل ہیں۔ ہمارے ہر دل عزیز کاشف گرامی ہیں۔
خیر، بات ہورہی تھی  نئے فلم مبصرین کی۔ عزیزو، گزشتہ دو عشروں میں فلم انڈسٹری میں کئی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جیسے او ٹی ٹی کی آمد،  اس کی رسائی، ٹیکنالوجی کا بڑھتا استعمال ۔ ۔ ۔  ساتھ ہی کورونا جیسا سانحہ بھی رونما ہوا، جس سے جنم لینے والی تالا بندی میں سنیما کی موت کے اعلانات بھی سنائے دیے، مگر سنیما اس قوت کے ساتھ لوٹا کہ سب انگشت بہ دنداں رہ گئے۔
اچھا، نئے اور پرانے فلمی مبصرین،  ہر دو اپنی پسند ناپسند کے اظہار اور انداز بیان کے انتخاب کے لیے آزاد ہیں۔ البتہ اگر چند باتوں کو پیش نظر رکھا جائے، تو ان تبصروں کی افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تبصروں کے لیے اپنی تحریر کا ایک اسٹرکچر ضرور متعین کریں۔ ایک تکنیک وضع کیجیے، ایک اسلوب اختیار کیجیے۔
جی ہاں، اس سے آپ کے تجزیے میں توازن بھی جنم لے گا اور تسلسل بھی در آئے گا۔ ساتھ ہی پڑھنے والا آپ کے انداز بیان کو بھی شناخت کرنے لگے گا، اور آپ کے سگنیچر کو پہچان لے گا۔

فن ایک سیال تصور ہے، البتہ ہدایت کاری، ادا کاری، پلاٹ، اسکرین پلے، میوزک، بجٹ، فلم کی ایڈیٹنگ، ڈسٹری بیوشن، ریلیز، باکس آفس؛ یہ سب کسی نہ کسی حد تک ٹھوس اور گرفت میں آنے والے عوامل ہیں، اور تبصرے میں ان کا تذکرہ تحریر کو موثر بنانے میں معاون ہوسکتا ہے۔ بلکہ،   مجھے کہنے دیجیے، ضروری بھی ہے۔

اپنے تبصروں میں دیگر مبصرین، مخص کسی اداکار کے فین کلب یا الگ نظریہ رکھنے والے مبصرین کی تضحیک سے اجتناب کریں۔ مزاح کے لیے اس کی گنجایش ہے، مگر لکیر کب عبور ہو اور مزاح کب تضحیک میں بدل جائے، خبر نہیں ہوتی۔

 انتہائی موقف اختیار ضرور کریں، مگر دلیل کے ساتھ۔ میں ایک  عرصے سے سائوتھ سنیما کے عروج اور ہندی انڈسٹری پر اس کے غلبے کا تذکرہ کر رہا ہوں۔ اس کی دلیل  ساوتھ انڈین فلموں کی کام یابی، ہندی سنیما پر ان  کے اسٹائل کے اثرات اور ان کی بین الاقوامی انڈسٹری میں بننے والی نئی شناخت ہے ۔ ۔ ۔ راجا مولی جیسے ہدایت کاروں کا کام آسکر اور گولڈن گلوب تک پہنچا۔ اور اب سبھاش گھئی جیسے ہدایت کار بھی اس کا واضح اعتراف کر رہے ہیں۔ الغرض اگر انتہائی رائے اختیار کی جائے،  تو اس کی بنیاد زمینی حقائق ہوں۔ اعدادوشمار ہوں۔

 اچھا، یہ اہم نکتہ ہے۔ اکثر ایک سی دکھائی  دینے والے فلمز اپنی اساس میں یک سر مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس اختلاف کو پیش نظر رکھتے ہوئے تبصرہ کرنا ایک  سودمند مشق ہے۔  براہ راست او ٹی ٹی پر ریلیز ہونے والی فلموں کا موازنہ سنیما پر ریلیز ہونے والی فلمز سے نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں کے مطالبات اور سروکار یک سر الگ ہیں۔ ایک لگ بھگ مفت میں ناظر کو دست یاب ہے،  جب کہ دوسرے کے لیے نہ صرف سفر کی اذیت برداشت کرنی ہے، بلکہ ٹھیک ٹھاک پیسے بھی خرچ کرنے ہیں۔
اسی طرح شارٹ فلم کی کیٹیگری الگ ہے، اینی میٹڈ فلم کی الگ۔ بھاری بجٹ اور کم بجٹ کی فلموں کی ٹریٹمنٹ یک سر مختلف ہوتی ہے۔

 یاد رکھیں کہ سنیما آرٹ ضرور ہے، مگر یہ بزنس بھی ہے۔  یہاں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس کی ری کوری اور مزید منافعے کا حصول ہی اس مہنگے تصور فن  کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کی تخلیقیت، غزل گو کی تخلیقیت سے مختلف ہے، جہاں اصل سرمایہ کاری ذہنی ہوتی ہے، اور اظہار کے لیے آپ کو محض کاغذ و قلم درکار ہے۔ سرمایہ کی حقیقت کو سمجھ کر ہی سنیما یا فلم سازی کو سمجھا جاسکتا ہے۔
مترو، یہ چند بنیادی تجاویز ہیں۔ آپ احباب اپنے علم کے مطابق اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

Author

  • اقبال خورشید

    ااقبال خورشید فکشن نگار، انٹرویو کار، کالم نویس، ولاگر اور فلم مبصر کے طور پر شناخت رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ سفر میں وہ معتبر روزناموں اور میڈیا گروپس سے وابستہ رہے۔ ملکی و بین الاقوامی شخصیات کے آٹھ سو سے زاید انٹرویوز کر چکے ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو ناول ”تکون کی چوتھی جہت“ اور ”گرد کا طوفان“ شایع ہو کر ناقدین اور قارئین کی توجہ اور پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ”تکون کی چوتھی جہت“ ہندوستان سے بھی شایع ہوا۔ اِس کے ہندی ترجمے کی اشاعت جلد متوقع ہے۔نیز یہ فکشن کی کیٹیگری میں یو بی ایل ایوارڈ کے لیے بھی شارٹ لسٹ ہوا۔ اقبال خورشید معتبر ادبی جریدے ”اجرا“کے مدیر اور پاکستان میں صحافتی تحریک سے متعلق اہم تصنیف ”سب سے بڑی جنگ“ کے معاون مصنف ہیں۔ اُنھوں نے ”ون منٹ اسٹوری“ کے زیر عنوان صحافتی کہانیوں کا بھی تجربہ کیا۔ وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ماس کمیونیکشن، انگریزی اور آئی آر میں ماسٹرز کی اسناد حاصل کیں۔وہ اِس وقت کراچی میں مقیم ہیں۔

    View all posts