ہماری زندگی اور سوشل میڈیا

پہلے لوگ سونے سے قبل گیٹ، صحن اور چھت کا چکر لگاتے تھے اب فیس بک،واٹس اپ اور انسٹاگرام کا چکر لگاتےہیں۔ یہی حال اب ہم سب کی زندگیوں کا ہو گیا ہے، سوشل میڈیا ایک ایسی دکان ہے، جہاں آپ کو اچھا، برا ، سستا، مہنگا ہر قسم کا سامان ملتا ہے اب یہ ہمارے اُوپر منحصر ہے کہ ہم کس قسم کا سامان اٹھاتے ہیں، اچھا سامان تو خیراچھا ہوتا ہی ہے،مگر برے سامان کی چمک بھی ہم کو   اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے اور ہم خوشی خوشی اسے لے لیتے ہیں جس کا اندازہ ہم کو بعد میں ہوتا ہے، کوئی بھی چیز تب تک بری نہیں ہوتی جب تک وہ حد سے نہ بڑھے، کسی بھی قسم کی زیادتی نقصاندہ ثابت ہوتی ہے، ہم لوگوں کو سوشل میڈیا سے ضرور جڑے رہنا چاہیے مگر اس صورت میں کہ اس پر کوئی ایسی تحریر ڈالی جائے جو پڑھ کر، سن کر یا دیکھ کر سامنے والے کو متاثر کرے ہماری سوچ کو بدلے،ہمارے مزاج پر اچھا اثر ڈالے۔
کچھ ہلکی پھلکی شاعری ہو، کچھ مزاحیہ قسم شاعری ہو
نہ جانے کس بات پر اُسنے مُجھے چھوڑ دیا ہے فراز
وہ شخص تو پانچ روپیہ نہیں چھوڑتا
میں بھی”سوشل میڈیا” کے دو تین گروپ میں شامل ہوں،ان گروپس میں بہت سی باتیں ساجھا ہوتی ہیں جو کہیں نہ کہیں نئے دور میں گم ہوگئیں ہیں۔ کچھ لوگوں کی باتیں بہت اثر انداز ہوتی ہیں سوشل میڈیا” کے ذریعے ہم لوگ بار بار اپنے بچپن کی یادوں کے سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں،اور پھر سے جی اٹھتے ہیں۔
بہت سے ایسے رشتے دار اور جاننے والے ہیں جن سے ہم مدتوں سے نہیں ملے مگر اس کے ذریعہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جدید دور کی نسل کے ساتھ شانا بہ شانا ہم اسی لئے ہیں،کہ روز بہ روز ہو رہی تبدیلیوں سے اسی کے ذریعہ آگاہ ہیں۔ ہر تکنیک کو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں، ہر مسئلے کا حل جدّو جہد کئے بغیر مل جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو آج کے دور کی یہ بہت بڑی نعمت ہے۔
لیکن کچھ لوگوں نے اس کا اتنا غلط استعمال کیا کہ اس کو اعتبار لائق نہیں چھوڑا۔ آج کل لوگوں کو “لائکس” اور”کمنٹس”حاصل کرنے کا جیسے ایک جنون سوار ہوگیا ہے، اپنے”فالوورز”بڑھانے کے لئے ہر ایک کو “فرینڈز لسٹ” میں شامل کر لیتے ہیں چاہے کسی کو جانتے ہوں یا نا جانتے ہوں۔ ہر قسم کی الٹی سیدھی “پوسٹ” ڈال دیتے ہیں، چاہے اس کا مطلب سمجھ میں آئے یا نہ آئے، یہ سوچے بغیر کہ کتنے لوگ اس کو دیکھ رہے ہوں گے۔ کوئی کوئی ریل تو اتنی فالتو کی ہوتی ہے کہ یا تو دیکھ کر غُصہ آجاتا ہے یا کبھی کبھی شرم آتی ہے لوگوں کی گندی سوچ پر، کسی چیز کی پردہ پوشی ہی نہیں رہ گئ ہے معاشرے میں۔ اللّٰہ سب کو نیک ہدایت دے آمین۔
فوٹوز ہی کا کتنا زور ہوگیا ہے جو ہے بس “سیلفی” کے پیچھے دیوانہ ہوا جارہا ہے، لوگ ہرجگہ کھڑے سیلفی لیتے نظر آتے ہیں، خواہ کیسی جگہ ہو، آس پاس کیسے لوگ ہوں،سڑک کا کنارا ہو، بھلے سے خداناخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے مگرسیلفی ضرور لےلی جائے۔  حتٰی کہ لوگوں نے شاپنگ مالز اور سینما گھروں کے بیت الخلا کو بھی نہیں چھوڑا سیلفی لینے کے لئے۔
کیا اور کہاں کھارہے ہیں اس کی اطلاع تو سوشل میڈیا کو دینا بہت ضروری ہے۔ ورنہ لوگوں کو ہمارا میعار کیا ہے، یہ تو پتہ ہی نہیں چلیں گا۔ کھانا خود تو بعد میں شروع کرینگے ہی سامنے والے کو بھی تب تک ہاتھ نہیں لگانے دیتے جب تک کی فوٹو لے کر سب تک بھیج نہ دیں، خواہ ٹھنڈا ہو کر کھانے کا مزہ ہی خراب کیوں نہ ہو جائے یا آئسکریم پگھل نہ جائے۔ اسی لئے تو رزق کی برکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ  لگی ہے فلاں اس مہنگے ہوٹل میں گیا تھا مجھے اس سے بہتر میں جانا ہے۔ میں کسی سے کم تھوڑی ہوں۔ اس سوچ نے جدید نسل کو پوری طرح برباد کر دیا ہے۔ گھر آئے مہمان کی خبر نہیں اس کو پانی کا پوچھنا گوارہ نہیں، سوشل میڈیا پر آپ پوری طرح ایکٹو ہیں ہرایک سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ ہماری زندگیوں کو سوشل میڈیا نے پوری طرح ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ہم خود اچھے برے کا فرق بھول گئے ہیں۔ اس شعر کو اگر یوں پڑھا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
سوشل میڈیا نے ہمیں نکما کر دیا
ورنہ آدمی ہم بھی بڑے کام کے تھے

Author