پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی کے اعتبار سے ایک نوجوان ملک ہے۔2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 40.31فی صد 15 سے کم عمرافرادپر مشتمل تھا اور 19.19فی صد 15 سے 24 سال کے نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ان اعداد وشمار کے مطابق کم وہ بیش پاکستان کی ساٹھ فی آبادی 24سال سے کم عمر افراد پر مشتمل تھی۔ مردم شماری کے ان اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی سیاسی سماجی اور معاشی پالیسوں کا محور نوجوانوں کو ہونا چاہیے۔نوجوان جنھیں ہمارے حکمران زبانی کلامی پاکستان کا مستقبل قراردیتے ہیں ،کو اپنی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ترقی دینے کے مواقع فراہم کئے جانے کے لئے لایحہ عمل اور پالیسوں ترتیب دی جاتیں لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا بلکہ اس کے برعکس نوجوانوں سے خوف زدہ ہماری ریاست کے کارپردازوں اور حکمران اشرافیہ نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور ترقی دینے کے لئے مواقع فراہم کرنے کی بجائے انھیں کنٹرول کرنے کے لئے پالیسی فریم ورک ترتیب دیئےاور کنٹرول کرنے کا یہ پالیسی فریم کم زور ہونے کی بجائے روزبروز طاقت ور ہوتا چلا جارہا ہے
اقوام متحدہ کے ادارے یو۔این۔ڈی۔پی کی ایک سٹڈی کے مطابق جو قومی سطح پر کئے گئے ایک نمائندہ سروے سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار پر مشتمل ہے پاکستان کے 94فی صد طلبا کو لائبریری کی سہولت میسر نہیں ہے،93 فی صد نے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ انھیں کسی قسم کے کھیلوں کی درکار سہولتیں میسر نہیں ہیں،97 طلبا نے کبھی کوئی لائیو میوزک کانسرٹ نہیں سنا تھا،97فی صد نوجوان ایسے تھے جو کبھی سنیما نہیں گئے تھے،94 فی صد ایسے تھے جنہوں نے کھیلوں کا کوئی مقابلہ براہ راست کسی سٹیڈیم میں نہیں دیکھا تھا،60 فی صد نوجوانوں نے سروے میں بتایا کہ وہ کبھی کبھار کوئی کھیل کھیلتے ہیں اور85فی صد نے سروے میں جواب دیا کہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔اسی طرح کا ایک سروے پاکستان انسیٹیٹوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی کیا ہے اور اس کے اعداودشماراور یو۔این۔ڈی پی کے اعدادوشمار تقریباً یکساں ہیں
ہماری ریاست اور حکومت چاہتی ہے کہ وہ نوجوان کاروبار کریں اور آئی ٹی کے ایکسپرٹس بنیں اور ملازمت ڈھونڈنے کی بجائے وہ ملازمتیں دوسرے نوجوانوں کو فراہم کریں لیکن اس کے مطلوبہ فضا پیدا کرنے کے لئے ہماری ریاست اور حکومت نہ ماضی میں کبھی تیار ہوئی تھی اور نہ ہی اب تیار ہے۔ہم طلبا کو سوال اٹھانے ،بحث اور مکالمہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہیں ہم انھیں پہلے سے تیار شدہ سوالات اور ان کے جوابات رٹانے کو تعلیم قرار دیتے ہیں اور اگر کوئی نوجوان روٹین سے ہٹ کر کوئی سوال اٹھائے تو اسے مطعون کرتے ہیں۔ہماری ریاست اٹھارہ سال کے نوجوان کو ووٹ کا حق دیتی ہے لیکن اسے سیاسی اختیار دینے کو تیار نہیں ہے۔2024 کتنے نوجوانوں کو مین سٹریم پارٹیوں نے پارٹی ٹکٹس دیئے تھے؟ نہ ہونے کے برابر۔ تحریک انصاف جو خود کو نوجوانوں کا ترجمان سمجھتی ہے اس کی قیادت میں پینتیس سال( جو نوجوانی کی حد سمجھتی ہے) سے کم کوئی ایک بھی لیڈر نہیں ہے۔سیاست موروثیت کے قبضے اور حلقے میں ہے جہاں نوجوانوں کا گذر ناممکن بنادیا گیا ہے۔نوجوانوں کو ووٹوں کی فصل تو ہماری سیاسی پارٹیاں سمجھتی ہیں لیکن انھیں ملک کے سیاسی انتظام وانصرام بارے سوال کرنے اور اس میں شمولیت اخیتار کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے۔

Author

  • لیاقت علی ایڈوکیٹ

    زیر نظر تحریر کے لکھاری لیاقت علی ایڈووکیٹ سوشل میڈیا میں اپنی منفرد، بیباک و دبنگ تحریروں کی بنا پر بے حد مقبول ہیں جواں سالی میں لیفٹ کی عملی سیاست کا حصہ بنے ، ضیاء آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، گزشتہ دو دہائیوں سے عملی سیاست کی بجائے انسانی حقوق ، جمہوریت اور فروغ امن کی سربلندی کے لیے علمی و دانشمندانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    View all posts