پاکستانی کسانوں کا درد

پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آڑھتی گندم  کم سے کم قیمت پر خرید رہے ہیں

جب بھٹو صاحب کو اس بات کا یقین ہوگیاکہ ضیا الحق کے ایما پر اس کی ایجنٹ عدلیہ ان کے قتل کا فیصلہ کر چکی ہے تو انہوں نے عدالت میں آخری دلائل دیتے ہوئے یہ کہا تھا ”درداں دی ماری دلڑی علیل اے“۔ آج وطن عزیز میں کسانوں کی حالت زار پر حکومتوں کی بے حسی دیکھ کر بھی ایسے لگ رہا ہے جیسے حکومت انہیں بے موت مارنے کا فیصلہ کر چکی ہے، لہذا ان کے لیے وہی کچھ کہنے کو دل کر رہا ہے جو بھٹو صاحب نے اپنے عدالتی قتل کا فیصلہ آنے سے پہلے کہا تھا۔ سائنس کی جدتوں نے موجودہ دور میں کاشتکاری چاہے جتنی بھی آسان کر دی ہو مگر آج بھی کسانوں کے حالات اور اوقات کار کسی بھی دوسرے شعبے کے محنت کشوں کی نسبت سخت ترین ہیں۔ہمارا کسان آج بھی آگ برساتے سورج کے نیچے زمین کا سینہ چیر کر بوائی کرتا اور شدید سردیوں کی اندھیری راتوں میں فصلوں کو یخ بستہ پانی دیتا نظر آتا ہے۔ اس برس اپنی بے مثال محنت سے گندم کی ریکارڈ فصل پیدا کرنے والا یہ کسان حکومتوں سے شاباش اور حوصلہ افزائی کا طلب گار تھامگر اسے اس کی محنت کا پھل ملنے کی بجائے حکمرانوں کی طرف سے ایسی چوٹ ملی کہ وہ درد سے بلبلاتا نظر آرہا ہے۔
اس وقت ہمارے کسان کا درد یہ ہے کہ مرکز اور خاص طور پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آڑھتی من مانی کرتے ہوئے اس سے وہ گندم کم سے کم قیمت پر خرید رہے ہیں جس کی امدادی قیمت حکومت نے 3900 روپے فی من مقرر کی تھی۔ کسان نمائندوں کے مطابق ہدف سے کم پیداوار کے باوجود حکومت نے گزشتہ برس 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی تھی جبکہ اس سال اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت صرف 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران یہاں گندم کی پیداوار اکثر حکومت کے طے کردہ اہدف سے کم رہی۔ ہدف سے کم گندم پیدا ہونے کی وجہ سے تقریباً ہربرس حکومت کو قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے ملک میں اناج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم درآمد کرنا پڑی۔رواں برس ملک بھر کے کسانوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی محنت سے اتنی گندم پیدا کی کہ بیرونی گندم درآمد کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے، مگر سابقہ نگران حکمرانوں نے گندم کی مقامی فصل کی کٹائی سے پہلے ہی وہ گودام بیرونی ملکوں سے درآمدہ شدہ گندم سے بھر لیے جہاں آئندہ ضرورت کے لیے ملکی کسانوں کی پیدا کردہ گندم خرید کر ذخیرہ کی جانی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت کے گوداموں میں کیونکہ مقامی گندم کی ریکارڈ پیداوار ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ ہی موجود نہیں ہے لہذا پنجاب حکومت کے نے گندم کی جو مقدار (20 لاکھ میٹرک ٹن) خریدنے کا اعلان کیا وہ گزشتہ برس خریدی گئی گندم کی مقدار (45 لاکھ میٹرک ٹن) کے نصف سے بھی کم ہے۔
آڑھتیوں اور ناجائز ذخیرہ اندوزوں نے جب یہ دیکھا کہ ملک میں ریکارڈ پیداوار
کے باوجود حکومت ہر برس خریدی جانے والی گندم سے انتہائی کم مقدار میں گندم خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے تو انہوں نے کارٹل بنا کر کسانوں کو اپنی پیداوار حکومت کی اعلان کردی امدادی قیمت سے کم نرخوں پر بیچنے پر مجبور کرنا شروع کردیا۔ حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت 3900 روپے فی من ہے لیکن آڑھتی کسانوں کو 2800 روپے فی من تا 3400 روپے فی من سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایک طرف آڑھتی گندم کی کم قیمت لگا کر کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت، کسانوں کے اس استحصال پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ کاشتکاروں کو صرف یہ اعتراض نہیں کہ حکومت انہیں آڑھتیوں کے رحم و کرم پر چھوڑکر ان کی حالت زار سے بے نیاز ہو چکی ہے بلکہ وہ حکومت کے اس ستم پر بھی نالاں ہیں کہ جن کسانوں کی اکثریت ناخواندہ سمجھی جاتی ہے انہیں موبائل ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کروانے کے بعد گندم ڈالنے کے لیے باردانہ (بوریاں) دینے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔
بھارت کی طرح پاکستان میں کسانوں کی ایسی فعال تنظیمیں موجود نہیں ہیں جو
زراعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے متحدہ ہو کر جدوجہد کر سکیں، اس کے باوجود مختلف کسان نمائندوں نے حکومت کی بے حسی اور بے اعتناعی دیکھتے ہوئے عید سے کئی روز پہلے ہی اپنے حقوق کے لیے آوازبلند کرنا شروع کردی تھی۔ پنجاب حکومت نے تو ان آوازوں کو سننے سے انکار کردیا مگر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے رکن رانا آفتاب احمد خان نے اس مسئلے پر تحریک التوا جمع کرواکے یہ ثابت کیا کہ کم ازکم ان کے کان بند نہیں ہیں۔ کسانوں کے استحصال پر رانا آفتاب کی طرف سے تحریک التوا جمع کروائے جانے کے بعد خانیوال سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن رانا سلیم بھی اس مسئلے پر پنجاب اسمبلی میں کھل کر بولے، رانا سلیم نے اپنی حکمران جماعت کی قیادت پر واضح کیا کہ اگر حکومت نے اپنی اعلان کردہ امدادی قیمت پر کسانوں کی تمام قابل فروخت گندم فوری خریدنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو اس کے کھاتے میں جو اچھے کام ہیں ان پر بھی پانی پھر جائے گا۔
یہاں یہ بیان کیا جانا ضروری ہے کہ گندم پاکستانیوں کی خوراک کا سب سے بڑا اور اہم ترین حصہ ہے۔ گندم کی اس اہمیت پیش نظر یہاں ہر برس سب سے پہلے تو یہ تخمینہ لگایا جاتا ہے عوام کی ضرورت کے مطابق کس قدر گندم کا ذخیرہ کیا جانا ضروری ہے۔ عوام کی ضرورت اور ذخیرہ کی گئی گندم کی مقدار میں مطابقت کے معاملے کو انتہائی حساس سمجھتے ہوئے یہ پالیسی بنائی گئی ہے کہ محکمہ خوراک روزانہ کی بنیاد پر حکومت کو یہ رپورٹ کرے گاکہ گزرے دنوں میں کس قدر ذخیرہ کی گئی گندم استعمال ہوئی اور سال کے بقایا عرصہ کی ضرورت کے لیے کس قدر گندم موجود ہے۔ گوداموں میں ذخیرہ کی گئی گندم کے معاملے میں اس قدر حساس ہونے کا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں کہ اگر کسی وقت بھی ذخیرہ کی گئی گندم ملکی ضرورت سے کم ظاہر ہو تو گندم کی قلت کے سبب مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی بیرونی گندم درآمد کر لی جائے۔ گندم کے ذخیرہ کے معاملے میں اس قدر حساس اور محتاط ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار کی پیشگوئی کے باوجود عین اس وقت بیرونی گندم درآمد کر کے خالی گودام بھرنے شروع کردیئے جائیں جب فضل کی کٹائی سر پر آن پہنچی ہو۔ جوکچھ نہیں ہونا چاہیے نگران حکمرانوں نے وہی کام کیا۔بعض لوگ اس کام کو گندم افغانستان سمگل کرنے کی ناکام کوششوں سے جوڑتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ گندم کی سمگلنگ کے موضوع پر بات کرنے کی بجائے کالم کے آخر میں صرف یہی کہا جائے گاضرورت کے مطابق گندم ذخیرہ کرنے کا معاملہ حساس ہونے کے باوجود جن لوگوں نے ضرورت سے زیادہ بیرونی گندم درآمد کر کے سرکاری گوداموں کو بھرا، وہی لوگ اس وقت ان کسانوں کے درد، رنج و الم اور تکالیف کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے لوگوں کا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ہر صورت کسانوں دکھ درد کا مداوا بھی کرنا چاہیے۔

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts