فلسطینی شاعر محمود درویش کی شاعری ، فلسطین کے موجودہ حالات کی عکاسی

 غزہ میں متوفین کی تعداد ۳۳؍ ہزار سے زائد  ہوچکی ہے۔

چند ماہ بعد فلسطین کے محبوب انقلابی شاعر محمود درویش کے انتقال کو سولہ سال مکمل ہوجائینگے مگر سولہ سال کے کم و بیش چھ ہزار دِنوں  اور اِس عرصے کے بے شمار لمحوں  میں  اہل فلسطین اپنے محترم شاعر کو کبھی فراموش نہیں  کرپائے ہوں  گے کیونکہ محمود درویش کی نظمیں  اور اُن کا ایک ایک مصرعہ فلسطین کے موجودہ حالات کا عکاس ہے۔ وہ اُس کے آگے سر عقیدت جھکائے بغیر نہیں  رہتے ہوں  گے۔ دیگر ملکوں  میں  بھی محمود درویش اور اُن کی شاعری کے قدر داں  موجود ہیں  مگر وہ اُس درد اور کرب سے خود نہیں  گزر رہے ہیں  اس لئے اُس کیفیت سے آشنا نہیں  ہوسکتے جس کیفیت کے زیر اثر یہ شاعری تخلیق ہوئی۔ ہمارا آپ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ہم فلسطین کے مسائل و مصائب کے بارے میں  سنتے ضرور ہیں  مگر کبھی کسی ایک مسئلہ یا کسی ایک مصیبت کو بھی ہم نے اپنی آنکھوں  سے نہیں  دیکھا۔ جو ہم پر گزری نہیں  اُس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، احساس نہیں ۔ اہل فلسطین بالخصوص گزشتہ چھ ماہ سے جن حالات سے گزر رہے ہیں  اُن کی ترجمانی محمود درویش کی نظموں  میں  جا بجا ملتی ہے، مثلاً یہ مختصر نظم: 
’’جنگ ختم ہوجائیگی، عالمی رہنما گرمجوشی سے مصافحہ کرکے
 (اپنی اپنی راہ لیں  گے) اور رہ جائے گی وہ بوڑھی ماں 
 جو اپنے شہید بیٹے کی منتظر ہے اور وہ دوشیزہ جو
 اپنے محبوب کا انتظار کررہی ہے  (اور کرتی رہے گی)
 اور وہ بچے جو اپنے بہادر باپ کی راہ تک رہے ہیں 
 (اور تکتے رہیں  گے) 
میں  نہیں  جانتا کہ وطن کس نے بیچا
 مگر مَیں  نے دیکھا کہ قیمت کس نے ادا کی۔

 اِس وقت غزہ میں  ایسی بے شمار بوڑھی مائیں  ہیں  جن کی بقیہ عمر شہید بیٹوں  کے انتظار میں  گزریں  گی، اُن دو شیزاؤں  کی تعداد بھی ہزاروں  میں  ہے جو اپنے محبو ب کا انتظار کررہی ہیں  اور اُن بچوں  یا نوعمروں  کو بھی گنا نہیں  جاسکتا جو ساری زندگی ہر آہٹ پر چونکیں  گے کہ ابا آگئے۔ اِس وقت وہ نہیں  جانتے کہ اُن کے ابا اُس دُنیا میں  پہنچ چکے ہیں  جہاں  سے آج تک کوئی واپس نہیں  آیا۔ 

 فلسطین کے عنوان پر دل گرفتہ ہونا ایک بات ہے، وہاں  کے اصل حالات اور واقعات سے باخبر رہنا اور اُنہیں  دل کی گہرائیوں  میں  محسوس کرنا دوسری بات ہے۔ ایسے ایسے صدموں  سے گزرے ہیں  وہاں  کے لوگ کہ اُن کا بیان تک ممکن نہیں ۔ کوئی سوچ بھی نہیں  سکتا کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بی بی سی کی ایک رپورٹ میں  جو کہا گیا ہے وہ پڑھ کر تو روح کانپ گئی اور دیر تک کانپتی رہی۔ لوسی وِلیمسن کی یہ رپورٹ غزہ کے ایک ایسے شہری (احمد الغفیری) کے بارے میں  ہے جس نے اپنے خاندان کے ۱۰۳؍ (ایک سو تین)  افراد کھوئے ہیں ۔ جب اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری شروع کی تب احمد تل ابیب میں  ایک تعمیراتی سائٹ پر مزدوری کررہے تھے، جنگ کی خبریں  مشتہر ہوئیں  تو اُن کا جی چاہا کہ گھر چلے جائیں  مگر راستے مسدود تھے۔ اس کے باوجود اہل خانہ سے فون پر رابطہ تھا۔ جس دن اُن کے اپنے مکان پر بمباری ہوئی تب بھی وہ اہل خانہ سے گفتگو میں  مصروف تھے۔ رپورٹ کے مطابق اُن کی اہلیہ جانتی تھیں  کہ وہ مر جائینگی۔ ایسا ہی ہوا۔ اسرائیلی حملے میں  اُن کی اہلیہ ہی نہیں ، تین بیٹیاں  بھی فوت ہوگئیں ۔ اسی حملے میں  احمد کی والدہ، اُن کے چار بھائی اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ اُن کے ماموں ، چچا،کئی پھوپھیوں ، خالاؤں  اور چچیوں  نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ احمد نے کچھ باتیں  اپنے اُن رشتہ داروں  سے سنی ہیں  جو پے در پے حملوں  کے باوجود زندہ رہنے میں  کامیاب ہوئے۔ اُنہی کی زبانی احمد کو علم ہوا کہ ’’اُن کے مکان اور ملحق چار دیگر مکانوں  پر حملے ہورہے تھے، وہ (فوجی) وہاں  موجود ہر گھر کو ہر دس منٹ پر نشانہ بنا رہے تھے۔‘‘ اب اسے خوش قسمتی کہیں  یا ستم ظریفی کہ احمد کے جو اہل خانہ بچ گئے ہیں  اُن میں  ۹۸؍ برس کی ایک خاتون ہیں  اور ۹؍ دن کا ایک بچہ ہے۔ سوچئے لوگوں  پر کیسی کیسی قیامتیں  ٹوٹی ہیں 

 جب قیامت ٹوٹ کر گزر گئی تو ہر جگہ ایسی المناک داستانیں  چھوڑ گئی کہ اُن کے بارے میں  پڑھ کر یا سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ آفس آف دی کو آرڈی نیشن آف ہیومانیٹیرین افیئرس (او سی ایچ اے) کے ڈائریکٹر محمد کا کہنا ہے کہ وہ اور اُن کی ماتحتی میں  کام کرنے والے ۲۵؍ رضاکار شمالی غزہ کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں  کئی مہینوں  سے مقیم ہیں  مگر یہ اُن کیلئے کوئی افسوس کی بات نہیں ۔ افسوس اُن بچوں  کا ہے جو اُن کے سینٹر میں  شدید زخمی حالت میں  لائے گئے۔ ایک بچی کی بابت اُن کا کہنا تھا کہ اُس نے جو بات مجھ سے کہی اُسے میں  زندگی بھر نہیں  بھول سکتا۔ بقول محمد، جب اُس بچی کو زخمی حالت میں  اسپتال لایا گیا تو اُس کے ہاتھ میں  ایک بریڈ تھا۔ اُسے اپنے زخم سے زیادہ فکر اُس بریڈ کی تھی جس کی طرف اشارہ کرکے اُس نے کہا: ’’یہ میرے پاس رہنے دیجئے، رات کا یہی کھانا ہے۔‘‘ ایسے کتنے بچے زندگی بھر یاد رہ جانے والی نہ جانے کون کون سی باتیں  کہہ کر اسپتال داخل رہے یا داخل ِ شہر خموشاں  ہوگئے کوئی نہیں  جانتا۔ غزہ میں  اتنی داستانیں  بکھری ہوئی ہیں  کہ اُنہیں  سمیٹنا کسی ایک شخص یا ایک ادارہ کے بس کی بات نہیں  ہے۔ 

اس پس منظر میں  محمود درویش کے الفاظ کو ذہن میں  تازہ کیجئے: ’’مَیں  نہیں  جانتا کہ وطن کس نے بیچا، مگر مَیں  نے دیکھا کہ قیمت کس نے ادا کی۔‘‘ جنگ بندی ہونی تھی، نہیں  ہوئی۔ غزہ چھ ماہ سے مسلسل گھُٹ رہا ہے، لُٹ رہا ہے، پِٹ رہا ہے اور مِٹ رہا ہے۔ کب تک مٹتا رہے گا، مٹ مٹ کر کتنا باقی رہ جائیگا، یہ کوئی نہیں  جانتا۔ جب بھری پُری آبادی ایک کونے میں  سمیٹ دی جاتی ہے تو وہ آبادی نہیں  رہ جاتی، ایسا نقش بن جاتی ہے جسے وہی پہچان سکتا ہے جس نے ماضی میں  اُس بھری پُری آبادی کو دیکھا ہوگا۔ پھر وہ نقش بھی بھلا دیا جاتا ہے۔ تب تک ہر کہانی ختم اور ہر خواب دفن ہوچکا ہوتا ہے۔ غزہ کتنا باقی رہ جائیگا، اس کی کتنی کہانیاں  آئندہ نسلوں  تک پہنچیں  گی اور کتنے خواب نئی شکلوں  میں  ڈھلیں  گے یہ کہنا مشکل ہے۔ فی الحال کچھ کہا جاسکتا ہے تو یہی کہ غزہ نے اتنی قربانیاں  دی ہیں  کہ اگر یہ تاریخ نہ لکھی گئی تب بھی سینہ بہ سینہ سفر کرے گی اور آنے والا ہر دَور غزہ کی قربانیوں  میں  اپنے لئے بہت کچھ تلاش کرتا رہے گا۔ 

Author