رمضان کے بعد کھانے پینے میں احتیاط برتنا ضروری

 معمول کی غذا کھانے کے لیے ضروری ہے کہ کھانے کو منقسم کر کے کھایا جائے

رمضان میں روزہ رکھنے کی وجہ سے کھانے پینے کے نظام الاوقات میں پوری طرح تبدیلی آجاتی ہے جس کا اثر نظام ہاضم پر پڑتا ہے۔ رمضان کے اختتام پر عید کے روز ہی سے سال کے بقیہ گیارہ مہینوں کیلئے پھر ہمارے کھانے پینے کے نظام الاوقات میں تبدیلی آتی ہے اور حسب معمول اپنا خورد و نوش شروع کر دیتے ہیں۔ روزہ دار افراد کیلئے پورے مہینہ کھانے پینے کا ٹائم ٹیبل تبدیل رہا ہے۔ اس لئے حسب سابق ٹائم ٹیبل کی طرف لوٹنے کیلئے ضروری ہے کہ کھانے کو منقسم کر کے کھایا جائے یعنی ایک دم شکم سیری کے ساتھ کھانا نہ کھائیں۔
چکناہت والی چیزوں سے پرہیز:یہ دھیان رکھیں کہ معدہ و آنتوں کو روزوں کی عادت ہے اور ایک دم کھانے پینے میں چھوٹ ملنے سے کہیں معدہ و آنتیں دبائو میں نہ آ جائیں۔ کیونکہ روزوں کے دوران پورے مہینہ خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے معدہ اور جگر سے خارج شدہ رطوبات صفراء وغیرہ ایک ہی جگہ جمع رہنے لگتی ہیں جس کی وجہ سے معدہ کی بہت سی رطوبات انعکاسی طور سے غذا کی نالی میں داخل ہونے لگتی ہیں جن کو (GERD) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو نان ویج ، چکناہٹ والی چیزیں،زیادہ چائے اور کاربو نیٹڈ واٹر کا زیادہ استعمال نہ کریں۔
موسم گرما میں نظام ہضم درست رکھیں: گرمی کا موسم اپنے شباب پر ہےاس لئے نظام ہاضم درست رکھیں۔ کھانا وقت پر تازہ اور تھوڑا تھوڑا استعمال کریں۔ سلاد ضرور استعما ل کریں۔ اگر تیار کھانا آپ نہیںکھا رہے ہیں اور اُسے رکھنا چاہتے ہوں تو کسی محفوظ برتن میں اچھی طرح بند کر کے ریفریجریٹر میں رکھ دیں۔پانی اُبال کر یا بوتل پیک واٹر اور یا پھر واٹر پیوری فائر کا پانی استعمال کریں۔ کھانا جلد بازی میں نہ کھا کر اطمینان سے اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
 بچے خاص احتیاط کریں: یہ موسم بہت سخت ہے اس لئے بچوں کوبہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ باہر سے کھانے پینے کی چیزیں استعمال نہ کریں۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں ۔ گرم مقامات پر زیادہ دیر تک نہ رکیں۔ ہلکی مقوی غذائیں اور پھل سبزی وغیرہ کا استعما ل کریں۔ ایسی غذا کا استعمال کریں جس سے گرمی کی شدت کم ہو ۔ باہر جائیں تو لازمی طور پر پانی کی بوتل ساتھ لے جائیں۔

Author

  • ناصر مہدی

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جدت سے مستفید ہوکر اپنی پیشہ ورانہ لیاقت، جس میں کاپی و سکرپٹ رائٹنگ میں جواں سالی کی فکری توانائی اضافی اوصاف ہیں، کالوہا منوانے والے ویب ایڈیٹر “ہم عوام” ایم فل پولیٹیکل سائنس پنجاب یونیورسٹی سے کرچکے ہیں۔ سیاسیات کے شعبہ سے وابستگی کی بدولت یونیورسٹی کی گلگت بلتستان کونسل کے چئیرمین رہ چکے ہیں۔

    View all posts