لوہے کے مضبوط پنجرے میں شیر کو قید کیا گیا تھا اور سامنے ہی دوسرے پنجرے میں ایک نوجوان چیتا قیدی تھا۔ غالباً یہ ان دونوں کے لئے مخصوص قید خانہ تھا۔ دوسرے مقامات پر دیگر جانور، مثلاً ہاتھی، گھوڑے، ہرن، لومڑی، زیبرا، لکڑ بگھے، کتے، اونٹ، بندر، بھالو، خرگوش، رنگ برنگے اژدہے اور سانپ وغیرہ تھے۔ غرض کہ خوفناک اور خطرناک جانوروں کو مختلف پنجروں میں مقید کر لیا گیا تھا۔
یہ سرکس کے اندر کا ماحول تھا۔ زردی مائل سنہرے رنگ کے نوجوان چیتے نے اپنی نیلی آنکھوں سے بے چین شیر کو پنجرے میں کسمساتے ہوئے زیادہ اداس دیکھا تو کہنے لگا۔ ’’بہت پریشان لگ رہے ہو شیر بھائی؟، کہاں سے پکڑے گئے؟ ‘‘شیر نحیف آواز میں بولا، ’’ افریقہ کے گھنے جنگلوں سے ‘‘
چیتا:’’ یاد آرہی ہوگی اپنی آزادی۔ اور کھلا آسمان۔ مگر کیسے پھنس گئے؟ تم لوگ تو ٹولی کی شکل میں رہتے ہو۔ ‘‘
شیر کی اداس آنکھیں افریقہ کے جنگلوں میں ماضی کے خوابیدہ لمحوں میں کھوتی چلی گئیں۔ کہنے لگا۔ ہاں بھائی چیتے! یاد تو بہت آرہی ہے وہ آزادی، وہ کھلا آسمان اور ہمارے شکار کرنے کا شاطرانہ حربہ …تیز رفتار ہرن کے پیچھے اگر دوڑ پڑے تو مجال تھی کہ وہ بچ نکلے۔ ایک شیر دوڑتے ہوئے تھک جائے، تو دوسرا اسی رفتار سے اپنی پوزیشن سنبھال لیتا تھا۔ وہ بھی تھک جائے تو تیسرا‌ اور پھر چوتھا، اس طرح شکار کے بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا تھا۔ پھر ہم سب مل جل کر دعوت اڑاتے تھے۔ بہت جلد وہ ہرن ہماری رگوں میں لہو بن کر گردش کر رہا ہوتا تھا۔ ہمارے بچے ہوئے اور چھوڑے ہوئے شکار کو لکڑ بگھے اپنا نصیب سمجھ کر چبا جاتے تھے۔ اور اب!‘‘
چیتا:’’اب کیا؟ ‘‘
شیر:’’ دو دنوں سے کچھ کھانے کو تو نہیں ملا ہے، بس ملے ہیں تو چابک کے زناٹے دار پھٹکے۔ روح تلملا جاتی ہے بھائی۔ ایک تو بھوک، اوپر سے مار…. مرتا کیا نہ کرتا؟ اب ’’وہ‘‘ جو چاہتا ہے کرنے لگا ہوں میں۔ ‘‘
چیتا :’’کیا کرنے لگے ہو؟‘‘
شیر: اشارے سمجھ کر، اشاروں پر ناچنے لگا ہوں ۔ وہ کہتا ہے دو پیروں پر کھڑے ہو کر سلام کرو تو میں سلام کرتا ہوں۔ ‘‘
چیتا: اور اگر سلام نہ کرو تو…؟
شیر : چابک کا زناٹے دار پھٹکا، پھٹاک کی آواز کے ساتھ روح کے اندر تک گونج پیدا کر دیتا ہے۔
چیتا: ارے بھائی تم اتنے بہادر ہو۔ کیسے پکڑ لئے گئے؟
شیر : میں بہادر ضرور ہوں پر مجھے میری بے وقوفی کا علم نہیں تھا ۔ میں اپنی ٹولی سے الگ ہو گیا تھا۔ اور آزادی کے چکر میں اکیلا ہی شکار کرنے نکل پڑا تھا۔ میں ایک، خوبصورت ہرن کے پیچھے دوڑ پڑا۔ ہرن مجھ سے ایک گز بھر ہی دور رہا ہوگا۔ میں نے اس پر چھلانگ لگا دی …اور یہ جا وہ جا، میرے اوسان خطا ہو گئے۔ میں نے نکلنے کی بہت کوشش کی۔ مگر جس جال میں پھنسا تھا وہ بہت مضبوط تھا۔ میں نے ہانپتے ہوئے دیکھا کہ سرکس والے مجھے لاری میں قید کر رہے تھے، مگر میں بے بس اور لاچار ہو چکا تھا۔ مجھ میں اتنی سکت نہ رہی تھی کہ میں اپنا دفاع کرتا۔ پتہ نہیں انہوں نے شاید مجھ میں انجکشن کے ذریعے بے ہوش کرنے والی دوا انڈیل دی تھی۔ مجھے ہوش آیا تو اس پنجرے میں خود کو پایا۔
چیتا :اوہو!! افسوس ہوا سن کر… مجھے بھی بالکل اسی طرح سے پکڑ ا گیا تھا۔ ‘‘
شیر: لیکن تم بھی تو ٹولی کی شکل میں رہتے ہو!
چیتا :ہاں بڑے بھائی میں اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنے میں پکڑا گیا۔ میرے بابا نے مجھ سے کہا تھا۔ بیٹا ہمارے ساتھ ہی رہنا۔ ماں نے کہا تھا۔ جب تک تم پوری طرح بڑے اور سمجھدار نہیں ہو جاتے، ہمیں چھوڑ کر اکیلے کہیں نہ جانا مگر میں نافرمان اکیلا نکل گیا۔
شیر: بڑا دکھ ہوا سن کر کاش کہ تم اپنی ماں اور اپنے باپ کی نصیحت پر عمل کرتے؟
چیتا : بڑے بھائی آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔ بلکہ’’ اگلا گرا پچھلا ہوشیار‘‘ کے مصداق میں زیادہ مزاحمت نہیں کرونگا کیونکہ آج ہی سے میری ٹریننگ شروع ہونے والی ہے۔ ‘‘
شیر : ہاں ہاں یہ تم نے اچھا فیصلہ کیا ہے ورنہ وہ چابک کا زناٹے دار پھٹکا ….. اف!رگ جاں میں اترجاتا ہے
چیتا :لیکن وہ، چابک مارتا کون ہے؟
شیر: خوفزدگی کے ساتھ’ رنگ ماسٹر‘
چیتا: رنگ ماسٹر؟
شیر: ہاں ، ہماری نفسیات کا ماہر اور ظالم انسان۔ مجھے اگر دنیا میں سب سے زیادہ کسی سے ڈر لگتا ہے تو پوچھو کس سے؟
چیتا :کس سے بھائی؟
شیر : انسان سے…… اتنا کہتے ہوئے خوف کے مارے نہ صرف اس کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں بلکہ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ چیتے کی آنکھوں میں بھی انسان کا انجان خوف سوئی نما پتلی لکیروں سا جھلملانے لگا تھا۔

Author