جب انسان کی تخلیق ہوئی تو اسے بہت سی نعمتوں سے نوازا گیا۔ دیکھنے, سننے, چلنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسے زبان کا ایک تخفہ رب العزت نے عطا کیا اور زبان پھر انسانوں کی معلومات, روزمرہ زندگی کے واقعات اور احساسات بیان کرنے کا ذریعہ بنی۔ پھر جب انسان نے معاشرے میں رہنا شروع کیا تو انسان کی گفتگو اور طرز کلام ایک دوسرے کے اوپر اثر انداز ہونے لگے۔ زبان سے ادا کئے گئے الفاظوں کے ذریعے ہی ایک انسان نے دوسرے انسان کے اوپر بھروسہ کرنا سیکھا۔ اسی طرح معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا اور انسانوں نے مل جل کر رہنا شروع کیا۔
جوں جوں نسلِ انسانی کی تعداد بڑھتی گئی تو وہ مختلف گروہوں میں بٹنے لگی اور مختلف زبانیں ایجاد کر لیں یوں ابن آدم مختلف ادوار سے گزرتا ہوا زمانہ خاضر تک آ پہنچا۔ انسان کی بولنے کی صلاحیت نے اسے شروع دن سے ہی منفرد بنائے رکھا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے جھوٹ, فریب اور دھوکابازی کے ہنر سیکھ لئے۔
عصر خاضر میں یہ ہنر ہمارے سیاسی رہنماۏں میں کسی بھی انسان سے زیادہ پروان چڑھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جمہوری نظام حکومت کے تحت سیاسی رہنما ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں انہیں اقتدار کے ایوانوں میں رسائی کے لئے عوام کے ووٹ کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے اسی طاقت کے بدلے سیاسی رہنما عوام سے سہولت کاری اور بہترین زندگی کا وعدہ کرتے ہیں جو سیاسی وعدو کہلاتا ہے۔
سیاسی وعدہ ایک ایسا وعدہ ہے جس سے عوام کو تھپکی دی جاتی ہے اور عوام معصوم بچے کی مانند اس فریبی تھپکی سے گمراہی کی نیند سو جاتی ہے۔ یوں حکمران احتساب سے بچ نکلتے ہیں اور وسائل پر قابض رہتے ہیں۔ اس طرح عام آدمی بھوک, افلاس اور تنگ دستی کی چکی میں لامحدود مدت تک پستا رہتا ہے۔ جو حکمران بنتا ہے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا دور حکومت پورا کرتا ہے اور عوام سے کئے وعدے کو سیاسی وعدے کا نام دے کر اسے دفن کر دیتا ہے
پھر جب اس کی حکومت کا دورانیہ ختم۔ہوتا ہے اور اسے دوبارہ حکومتی ایوان میں بیٹھنے کے لئےعوامی طاقت کی ضرورت ہڑتی ہے تو وہ پھر کچھ نئے فریبی سیاسی وعدوں کے ساتھ عوام کی خدمت میں خاضر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے رہنماؤں کی ایک کھیپ موجود ہے اور جس کا فریب بہتر کام کر گیا وہ حکومتی نشست جیت جاتا ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے جیسے ہر چار سال بعد ورلڈ کپ کا میچ ہوتا ہے اور جو ٹیم میچ میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے ٹرافی لے اڑتی ہے۔ سیاسی میچ جسے الیکشنن کا نام دیا جاتا ہے ایک خاص دورانیے کے بعد منعقد ہوتا ہے اور اس میں مختلف سیاسی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔
ہر ٹیم جسے پارٹی کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اپنا ایک بیانیہ لے کر میدان میں اترتی ہے اور یہی بیانیہ بعد میں سیاسی وعدے کے نام سے مشہور ہو کر دفن ہو جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عوام کو اس منعقد شدہ کھیل کا علم نہیں ہوتا وہ پچھلے وعدوں کے احتساب کے بجائے ان نئے وعدوں سے اپنے خواب سجاتے ہیں اور دھوکے کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ جو پارٹی جتنا سوہانہ خواب دکھائے گی اتنی عوامی اکثریت اسے ووٹ دے گی پھر وہ سیاسی میچ کی فاتح قرار پائے گی اور حکومت سازی اسے تخفے میں ملے گی۔
جس طرح میچ کے بعد تماشائی تالیاں بجاتے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ہیں اور کھلاڑیوں کے کھیل کے چرچے کرتے ہیں اسی طرح عوام طاقت لوٹا کر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتی ہے اور حکمرانوں کے وعدوں کے گھن گاتی ہے اور اگلے الیکشن تک ان سیاسی وعدوں کی تھپکی سے گہری نیند میں خواب دیکھتی رہتی ہے۔
لیکن اب بیدار ہونے کا وقت ہے جس طرح وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی رونما ہوتی ہے اسی طرح اب وقت ہے کہ عوامی روئیے بھی تبدیل ہوں اور وہ اپنے حقوق مانگیں ایوانوں میں بیٹھے لٹیروں سے احستاب کا مطالبہ کریں یہی وقت ہے بیداری کا۔
تحریر: مبین گل خان۔ جو جامعہ پنجاب میں شعبہ سیاسیات کے طالب علم ہیں اور پی ایس ایف جامعہ پنجاب کے سٹڈی سرکل انچارج ہیں۔
نوٹ:ادارہ “ ہم عوام” کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Author