سوشل ڈیموکریسی اور مارکسزم ( حصہ دوئم)

کارل مارکس ” لوئی بونا پارٹی کی آٹھارویں برومیر ” میں سوشل ڈیموکریسی بارے لکھتا ہے “بورثوا زی کی مخلوط پارٹی کے مد مقابل چھوٹی حیثیت کی بورثوازی اور مزدوروں کی مخلوط صف آرائی ہوئی۔ جس کا نام سوشل ڈیموکریٹک پارٹی تھا ۔ 1848 جون کے دنوں کے بعد چھوٹی بورثوازی نے دیکھا کہ وہ پیچھے رہ گئ ہے اور اس کےمادی مفاد کو چوٹ پہنچی۔ وہ مزدوروں کے نزدیک اگئ ۔ پرولتاریہ کی سماجی مانگوں میں سے انقلابی دھارانکال دیا گیا اور ان پر اشتراکی قللعی ہوگئ ۔ اس طرح سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نمودار ہوئی ۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا اپنا کردار اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ریپبلکن اداروں کا مطالبہ کرنے لگی ۔ اس غرض سے نہیں کہ وہ دونوں انتہاوں یعنی سرمایہ اور مزدوری کا صفایا کر دیا جائے بلکہ اس غرض سے کہ سرمایہ اور مزدوری میں جو ٹکراؤ ہے اس کا زور توڑ کر باہمی تال میل پیدا کر دیا جائے ۔ اس غرض کے حصول کے لیے چاہے کتنے ہی نسخے تجویز کئے جائیں۔ کم وبیش انقلابی نیت سے اس میں چاہے کتنے ہی بناو سنگار کیے جائیں بہرحال اندرونی حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ چھوٹی بورثوازی اصولی طور پرایک خودغرضانہ طبقاتی مفادات ہی لاگو کرنا چاہتی ہے ۔ اسی طرح تنگ نظری سے یہ بھی نہ سوچنا چاہیے کہ ڈیموکریسی کے جتنے نمائندے ہوتے ہیں وہ سبھی پیٹی بورثوا کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اپنی تعلیم اور انفرادی حیثیت کے لحاظ سے ان لوگوں میں بھی زمین وآسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔

ہمارے نزدیک سوشل ڈیموکریٹک ماڈل سرمایہ دارانہ طرز زندگی کی ایک شکل ہے ۔ اس لیئے کہ وہ سماج کی بنیادی ساخت کو یوں کا توں رکھنے کے حق میں ہے ۔ سرمایہ دارانہ تاریخ میں سوشل ڈیموکریسی مختلف وقتوں اور مختلف شکلوں میں کردار ادا کرتی رہی ہے ۔ یورپ کے بعض ممالک میں سوشل ڈیموکریٹس نے آزادانہ طور پر حکومتیں بنائیں اور بعض ممالک جن میں کیمونسٹ پارٹیاں طاقت رکھتی تھیں مثلا 1970 کی دہائی میں اٹلی اور فرانس کی مثالیں ان میں کیمونسٹ پارٹیوں کی مدد سے حکومتیں بنائیں بلکہ اٹلی میں تو امریکی دباؤ نے کیمونسٹ پارٹی کو اقتدار سے الگ کر دیا ۔ پارٹی نے اقتدار کی غرض سے اپنے آپ کو سوویٹ یونین سے فاصلے پر کر لیا ۔ پھر اٹلی سے کیمونسٹ پارٹی گدھے کے سر سے سینگ طرح غائب ہوگئ ۔

خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کےہوئے نہ ادھر کے ہوئے

بہرحال جب تک سرمایہ داری ڈلیور deliver کرنے کی پوزیشن میں رہی تو یورپ میں سوشل ڈیموکریسی بھی نظر آتی رہی ۔ یونہی سرمایہ داری ہچکولے کھانے لگی تو سوشل ڈیموکریسی بھی لیبر پارٹی کی شکل اختیار کر گئی۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی سوشل ڈیموکریسی کچوکے کھا رہی ہے ۔

کہنا ہم یہ چاہتے ہیں کہ سوشل ڈیموکریسی اور مارکسزم میں ناقابل حل تضادات موجود ہیں اور رہیں گے جیسے
1 طبقاتی تضاد : سوشل ڈیموکریسی تمام طبقات کی مساوات کی علمبردار ہے ۔
2 سوشل ڈیموکریسی طبقاتی جماعت کی ضرورت سے انکاری ہے اور محنت کشوں کی سیاست کے میدان میں اترنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی
3 محنت کشوں اور تیسری دنیا( پسماندہ دنیا) کے استحصال سے انکاری ہے
4 سرمایہ داری کے استحصالی کردار سے انکاری ہے
5 سامراج کے وجود کی منکر ہے
6 انقلاب کی ضرورت کو غیر ضروری سمجھتی ہے

سماج میں راسخ اِس طرح کے عورت دشمن خیالات کی نفی کرنے میں ذرہ بھر تاخیر نہ کی جائے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب اندازاً ایک کروڑ بیس لاکھ لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، عورتوں کی نقل و حرکت پر وسیع تر ثقافتی پابندیاں لاگُو ہیں اور عورتوں و لڑکیوں پر تشدد کی شرح تشویش ناک حد تک زيادہ ہے، پاکستان عورتوں کے خلاف توہین آمیز اور نفرت بھری آراء کے پرچار کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ریاست اس طرح کے بیانیے کو فی الفور رَد کرنے کے لیے مفادِ عامہ کے مُدلّل اور ٹھوس پیغامات جاری کرے جن میں لڑکیوں کے حقِ تعلیم جو کہ آرٹیکل 25 الف کے تحت اُن کا دستوری حق بھی ہے، اور عام طور پر عورتوں کے ڈیجیٹل حقوق کے احترام کا درس دیا جائے۔

Author

  • رانا اعظم

    موصوف 1954 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر کے قریبی گاؤں جائی والا ، 318 ج ب کے کسان گھرانہ میں پیدا ہوئے. 2009 میں لاہور منتقل ہوگئے ۔ 1975 میں چوہدری فتح محمد کی قیادت میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اب عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ وابستگی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں تاہم لاہور منتقل ہوکر وکالت کو خیر باد کہہ چکے ہیں . ان کی علمی ونظریاتی بالیدگی ایک طویل ریاضت کا ثمر ہے جس میں انہوں نے ایک دہائی کے طویل عرصہ پر محیط ماہ و سال میں سب کچھ تیاگ کر گہرے مطالعہ اور غور و فکرکو اپناۓ رکھا . فلسفہ سے گہری جڑت کی بنا پر ان کی تحریروں میں تمام مکاتب فکر کے فلاسفر کے اقوال کا حوالہ موجود ہوتا ہے ۔

    View all posts