بلاول ہاؤس اسلام آباد میں اس وقت مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی، ہر فرد کی نظریں بلاول بھٹو کی جانب مرکوز تھیں کیونکہ بلاول بھٹو کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ پاکستان میں اگلے چند دنوں میں بننے والی حکومت کارخ متعین کرنے والے تھے۔

پیپلز پارٹی کے بہت سے ارکان جو مہمان گاہ میں موجود تھے ان کے دلوں میں گھنٹیاں بج رہی تھیں اور شاید انھیں اندازہ تھا کہ بلاول بھٹو کی ایک ہاں انھیں پاکستان کا اگلا وزیر اعظم بنا سکتی ہے۔ بلاول بھٹو کی خاموشی کے وہ چند لمحے ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے لیے بہت بھاری ثابت ہورہے تھے اور پھر بلاول بھٹو کی پر اعتمادآواز ہال میں گونجی، جی نہیں میاں صاحب وزیر اعظم کی یہ ذمہ داری آپ کو مبارک ہو اس دفعہ عوام نے ن لیگ کو زیادہ نشستیں دی ہیں لہٰذا آپ کو حق ہے کہ آپ وزیرا عظم بن کر عوام کی خدمت کریں تاہم پیپلز پارٹی حکومت سازی میں غیر مشروط طور پر آپ کی مکمل حمایت اور مدد کرے گی۔

یہ واقعہ انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پیش آیا تھا جب ن لیگ نے ایک وقت میں بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کی ایک مخلصانہ پیشکش کی تھی۔ تاہم یہ پیشکش اپنے اصولوں پر چلتے ہوئے بلاول بھٹو نے ٹھکرا دی اور شہباز شریف کو حکومت سازی کی دعوت دیتے ہوئے پوری مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی، یہ واقعہ ان تنقید کرنے والوں کے لیے بیان کرنا ضروری ہے جو ہر دوسرے روز پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے ہیں کہ شاید پیپلز پارٹی ن لیگ کو زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہنے دے گی یا بلاول بھٹو وزیر اعظم بننے کے لیے پر تول رہے ہیں ،کیونکہ وزیر اعظم بنانے کی پیشکش تو ن لیگ خود بلاول بھٹو کو پہلے ہی کر چکی تھی لیکن انھوں نے یہ عہدہ لینے سے صاف انکار کردیا تھا۔ تاہم اس بات سے کوئی واقف نہیں ہے کہ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں وزارت عظمیٰ کی مدت کا کوئی تعین ہوا ہو کہ کتنا عرصہ شہباز شریف وزیر اعظم رہیں گے اور کتنا عرصہ بلاول بھٹو کو اقتدار شیئرنگ کے فارمولے کےتحت وزیر اعظم بننا ہے؟

حالیہ بجٹ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے ن لیگ پر سخت تنقید کی گئی کہ موجودہ بجٹ وعدے کے باوجود ن لیگ نے پیپلز پارٹی سے شیئر نہیں کیااور نہ ہی پیپلز پارٹی کی کوئی تجاویز اس بجٹ میں شامل کی گئیں جس کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ کہہ کر پیپلز پارٹی نے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ بھی کیاجس پر ن لیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید بھی شروع ہوگئی تھی لیکن میاں شہباز شریف نے غلطی کو تسلیم کیا اور پیپلز پارٹی کے تمام مطالبات کو بجٹ ترامیم میں شامل کیا اور ڈیڈ لاک سے بچا لیا۔

اس وقت بلاول بھٹو پیپلزپارٹی کو پنجاب میں زندہ کرنے کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں ،وہ لاہور اور اسلام آباد میں دن کے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے پارٹی کو پنجاب میں متحرک کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پرانے کارکنوں اور لیڈروں سے ملاقاتیں کرکے انھیں پنجاب میں متحرک ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو جانتے ہیں کہ وفاق میں حکومت لینے کے لیے پیپلز پارٹی کا پنجاب میں کامیاب ہونا بہت ضروری ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کئی سال بعد پہلی دفعہ بلاول بھٹو نے اپنی سندھ حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متحرک ہونے، انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مطلب یہ کہ پنجاب میں مصروف ہونے کے باوجود انکی سندھ حکومت اور اس کی کارکردگی پر بھی گہری نظر ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنے اہم رہنماؤں کو تحریک انصاف اور اسکی قیادت کےخلاف بیانات دینے سے منع کرتے ہوئے ساری توانائیاں کارکردگی پر مرکوز رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بھی ان کی مستقبل کی سیاست پر گہری نظر ہونے کی دلیل ہے۔

ماضی میں بلاول بطور وزیر خارجہ ملک کی نہ صرف بہترین انداز میں خدمت کرچکے ہیں بلکہ اپنا سیاسی قد بھی عالمی طور پر بہت بلند کرچکے ہیں۔ آج دنیا کا ہر لیڈر بلاول بھٹو کی قابلیت کا معترف ہے۔ اس وقت مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اور بلاول بھٹو بطور چیئرمین پیپلز پارٹی مستقبل میں پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ذمہ داری پہلےکس کے نصیب میں آتی ہے

 

Author