“عمرو عیار” پاکستانی سنیما کی نئی شروعات

پاکستان میں حال ہی میں مصنف عاطف صدیقی کی کہانی پر ڈائریکٹر اظفر جعفری کی بنائی گئی فلم “عمرو عیار شاید کلاسیک اور روایتی فیکشن کا مطالعہ کرنے والوں کو بری طرح مایوس کرے، لیکن انگلش میڈیم سکولوں سے پڑھی ہوئی نوجوان نسل کو ضرور متاثر کرے گی جو پُرانی کہانیوں کو سائنس فکشن کے پیرائے اور قلب میں ڈھالی فلموں کے ذریعے جدید دور کے سُپر ہیروز کی تلاش میں ہیں۔

بہرحال سپر ہیروز کی دریافت ایک ایسا خواب ہے جو تخیلاتی مزا تو ضرور دے گا مگر نئی نسل کی سائنسی تعلیم میں ایک دلچسپی ضرور پیدا کرے گا۔ “عمرو عیار کو ایک نئی شروعات کہا جا رہا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے مناسب لگتی ہے کہ پاکستان کی ڈوبی ہوئی فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے۔

گزشتہ رات لندن میں اس فلم کا آخری شو دیکھنے کا موقع ملا۔ آخری شو بھی ہاؤس فُل تھا، پھر بھی اس لیے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اس کے شوز میں توسیع کیوں نہ کی گئی؟ فلم ایک پاکستانی سائنس فکشن ہے جس نے مرکزی دھارے کے سنیما میں ان انواع کو زندہ کرنے کے لیے توجہ حاصل کی ہے۔

پلاٹ کا خلاصہ: فلم امر کے کردار (جو کہ عثمان مختار نے پرفارم کیا) کی خودشناسی کی کہانی ہے، جو کوانٹم فزکس کا شوق رکھنے والے کالج کے پروفیسر ہیں۔ اس کی دنیا اس وقت الٹ جاتی ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عمرو عیار ہے، جس میں سپر پاورز کے ساتھ ایک جنگجو کی خصوصیات ہیں۔ یہاں یہ کردار انڈیانا جونز کی ایک مقامی نقل لگتا ہے۔ افسانوی گرو (منظر صہبائی) کی رہنمائی میں، امر کو لقّہ (فاران طاہر) کی قیادت میں بڑھتی ہوئی بری طاقتوں کو شکست دینے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔

کاسٹ: صنم سعید مینا کا کردار ادا کرتی ہیں، جو گرو کی بیٹی ہے۔ مینا دوسری جہتوں سے علم تک رسائی کی صلاحیت کے ساتھ ایک جاننے والی کے طور پر کائنات کے علوم پر دسترس رکھتی ہے۔ ثنا فخر کی جادوگرنی چنو کے کردار میں ایکٹنگ متاثر کن ہے، اور علی کاظمی ایک بہادر جنگجو معاذ کے طور پر نظر آتے ہیں۔ حمزہ علی عباسی بھی بہت زیادہ متوقع مختصر مگر فلمی سلسلوں کی پیش بندی کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر ایکٹنگ کا معیار سٹیریوٹائپنگ جیسا ہے، سوائے لقّہ کا کردار ادا کرنے والے فاران طاہر کے۔

دلکشی اور وعدہ: عثمان مختار کا دھڑکتا لیکن دلکش سپر ہیرو اس صنف میں ایک نیا موڑ ڈالتا ہے۔ یہ فلم پاکستانی سائنس فکشن اور فنٹیسی کے لیے ایک نئی شروعات کا وعدہ کرتی ہے۔

تکنیکی پہلو: پروڈکشن ڈیزائن، اداکاری پرفارمنس، سینماٹوگرافی اور ساؤنڈ ڈیزائن قابل تعریف ہیں۔
سیکوئل پوٹینشل: اختتام ایک بڑی جنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس سے سیکوئل کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر، “عمرو عیار” ایک ایسی فلم ہے جو ناظر کو مسحور رکھتی ہے، لیکن آخر میں حمزہ عباسی اور عثمان مختار کے لمبے لمبے فلسفیانہ مکالمے کچھ بورّیت پیدا کرتے ہیں ۔ تاہم فلم میں اچھی طرح کے ایکشنز، دل چسپ کہانی سنانے، اور پاکستانی سائنس فائی اور فنٹیسی کے لیے ایک امید افزا آغاز ہے۔

اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ اس فلم میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا ہو لیکن کچھ نکات ایسے ہیں جو سوالات پیدا کرتے ہیں۔

مثلاً جنوں کو قابو کرکے اُن کا استعمال۔ یہ یقیناّ ایک روایتی فنٹیسی کا اہم حصہ ہے، لیکن ہم ایک ایسے پاکستانی سائنسدان کا بھی جانتے ہیں جس نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ایک مقالہ پیش کیا تھا جس میں جنوں کو قابو کر کے اُن سے توانائی کے حصول کے خیال کو پیش کیا گیا تھا۔ جنات کو نہ قابو کیا جا سکا اور نہ توانائی حاصل ہوسکی، البتہ پاکستان توانائی کے بحران میں ڈوبتا چلا گیا۔

متذکرہ سائنسدان کا بیٹا آج فوج کے ایک اہم ادارے کا سربراہ ہے (اس سے آگے آپ خود غور کیجیے)!
اس کے علاوہ فلم میں کرکٹ کے ایک نئے گیند کو امر (یعنی فلم کے ہیرو) کو اپنی دبی ہوئی صلاحیتوں کی دریافت کا ایک ذریعہ دکھایا گیا۔ اگرچہ بظاہر کرکٹ یا کرکٹ کے گیند کا اس سے زیادہ کوئی کردار نہیں آتا ہے لیکن ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اُس میں کرکٹ کی علامت ہمارے ہاں ایک مخصوص سیاسی معنی بھی رکھتی ہے۔

شاید آئندہ آنے والی سیکیولز سے پتہ چلے کہ جن توانائی کے بحران کا حل پیش کرتے ہیں یا کرکٹ بال بھی کوئی چمتکار دکھاتا ہے!

Author

  • ثقلین امام

    صاحب تحریر بی بی سی اردو سے طویل عرصہ سے منسلک ہیں . لاہور پریس کلب کی صدارت کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں. گوروں کے دیس میں روزی روٹی کے لیے آباد ثقلین امام کا لاہوریا زندہ دلی کے بے باکانہ انداز سے ان کی مدبر شخصیت کے ساتھ ساے کی طرح ساتھ ہوتا ہے . زیر نظر تحریر جو موصوف نے اپنی کالج لائف کے دوست کے لیے کھلے ڈلے اظہار محبت کے ساتھ لکھی ہے ، اس امر کا والہانہ ثبوت ہے ۔

    View all posts