ہمارے معاشرے میں سبھی کچھ اتنا نفرت انگیز ہمیشہ سے ہی نہیں ہے۔ ہم ضیا دور کو کوستے ہیں، مگر اُس کی نحوست کے اثرات اُس کے اپنے دور میں نہیں بلکہ بیس پچیس سال پڑنے تھے۔ لہٰذا ضیا دور مجھے تو اب سہانا لگتا ہے۔ شفیع محمد اور طلعت حسین اور خالدہ ریاست وغیرہ کے ڈراموں کا نام سنتے ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ اچھے ہوں گے۔ پی ٹی وی کے چاروں صوبائی مراکز (اُس وقت تک سرائیکی کی درفنتنی نہیں چھوڑی گئی تھی) جیسے بہتر سے بہتر ڈرامے پیش کرنے میں خاموش مقابلہ بازی کرتے تھے۔ کرکٹ ٹیم پر ورلڈ کپ جیتنے کی نحوست نہیں چھائی تھی، کرکٹ کے علاوہ بھی کچھ کھیلیں دکھائی جاتی تھیں۔ مارٹینا نیوراتلووا کا زیادہ کلوز اپ نہ دکھایا جاتا اور نہ ہی ریس جتنے والی خواتین کا۔ عشرت فاطمہ کا کوکہ دیپکا کے ٹھمکوں سے زیادہ توجہ کھینچتا اور تخیل کو مہمیز دیتا تھا۔ امیجز کی بھرمار سے تخیل کو کند ہونے میں ابھی تین عشرے پڑے تھے۔
ضیا دور تک کرسمس پر مسیحی ٹیم کے بنائے ہوئے ڈرامے لگتے تھے، بنجمن سسٹرز گاتی تھی اور ہر کسی نے اپنی اپنی پسندیدہ پر ہی فوکس کرنا ہوتا تھا۔ اے نیر کی وطن پرستی مشکوک نہیں ہوئی تھی۔ سکولوں کے ساتھ چرچ بھی تھے، نہ کہ صرف مساجد کے ساتھ مدرسے۔ میرے سینٹ جوزف سکول میں اتوار کو کلاسیں صبح گیارہ بجے شروع ہوتی تھیں۔ کبھی کھسک کر گرجا گھر کی کھڑکی سے اندر جھانکنے پر کیسا سحر طاری ہو جاتا تھا۔ مولودِ یسوع کا منظر پیش کرتی ہوئی چرنی، تجلیِ عیسیِ کی پینٹنگز، شمع دان، اونچی چھت، لکڑی کے بینچ، رنگین شیشے اور بم دھماکوں کے خوف سے آزادی۔ کئی بار گرجا گھر کے اندر جانے کی راحت بھی ملی۔ یوں لگتا تھا جیسے خدا کی بادشاہت بس قائم ہونے ہی والی ہے۔ پادریوں کے بُت پرستوں سے مستعار لیے ہوئے پٹکے والے لباس کسی جیتی جاگتی فلم جیسے لگتے تھے۔
پھر ہمیں اصول سوجھ گئے۔ یہ غلط اور یہ درست ہے۔ ہمیں سکیورٹی کی پڑ گئی، تلاشیاں اور میٹل ڈٹیکٹر، گارڈز اور روک ٹوک کرنے والے، غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔ ہر طرف اصولوں کی بھرمار ہو گئی۔ نشاط کالونی کے پاس مریم کالونی کے عین وسط میں کوئی مسلم گھرانہ تھا جس نے بہت اونچا سے کلمہ طیبہ لکھ کر لگا رکھا تھا۔ لیکن اب اُسے نیون سائن سے لکھوا دیا گیا۔ ہر گلی محلے اور بازار میں اصولوں کا طوفان آ گیا جو صرف ناپسندیدہ لوگوں پر ہی لاگو کیے جا سکتے تھے۔
لیکن اصول اور ڈیڈ لائنز چیزوں کو مشکل کی بجائے آسان بنانے کی خاطر ہوتی ہیں۔ اگر یہ ایسا نہیں کر سکتے تو اِن کا فائدے کی بجائے نقصان ہے۔

Author

  • یاسر جواد

    انگریزی سے اردو، پنجابی اور ہندی زبانوں کےعالمی سطح پر جانے مانے مترجم اور گلوبل اردو انسائیکلوپیڈیا کے ایڈیٹرہیں . فلسفہ، نفسیات، بشریات، تاریخ، مذاہب، طبیعیات، مابعد الطبیعاتی علوم ، کلٹس اور سماجی رسم و رواج و کلاسیکی، کمپیوٹر جیسے مضامین سے متعلقہ 130کتب کا انگریزی ، گرمکھی و شاہ مکھی پنجابی اور ہندی زبانوں میں تراجم کر چکے ہیں . ان دنوں سوشل میڈیا اور ادبی و سماجی تقریبات میں اپنے سائنٹفک و مدلل فکری تناظر کو گاہے بگاہے پیش کرتے رہتے ہیں

    View all posts