ہم نے امریکہ کی قرارداد کا جواب ضرور دیں گے، کسی کوبھی اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں،نائب وزیراعظم
قومی اقتصادی بجٹ کی سیشن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فارن پالیسی سے متعلق خصوصی سیشن رکھ لیں، حکومت اپنی پالیسی بیان کرے گی،جند دنوں میں امریکی قرارداد کے رد عمل میں ہم متفقہ قرارداد
لائیں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے بیانات دیکھیں تو ان کی واضح فارن پالیسی ہے،فارن پالیسی سے متعلق خصوصی سیشن رکھ لیں، حکومت اپنی پالیسی بیان کرے گی،پرسوں دیر رات امریکی قرار داد پیش ہوئی، کل ہم نے اس پر ردعمل دیا،ہم نے کہا پاکستان دنیا میں دوسری بڑی پارلیمانی جمہوریت ہے۔

نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی اسمبلی بجٹ پاس کر رہی ہے،کل یا پرسوں امریکی قرارداد کی مخالفت میں متفقہ قرارداد لائیں گے،ہم بھی دوسرے ملکوں کے معاملات پر بات کرسکتے ہیں،ہمارے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں دے سکتے۔

بجٹ سیشن میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بھی چاہتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے حقوق ملیں ،اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ن لیگ نے کہا تھا انہیں دونوں ایوانوں میں نمائندگی ملنی چاہیے۔ایوانوں میں نمائندگی ملنی چاہیے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہ پاکستان فلسطین میں ہونے والے ظلم کی بھر پور مخالفت کرتا ہے،ہم نے ہر فقرم پر فلسطین کیلئے اپنا واضح موقف اپنایا ہوا ہے ، ہم نے او آئی سی میں اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے، ہم نے واضح طور پر کہا فلسطین میں خوراک کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ترکیہ نے ڈی 8ممالک کی سرپرستی کی، وہاں بھی پاکستان کا موقف رکھا،عمان میں فلسطین کیلئے65ممالک کے سربراہ مملکت کا اجلاس ہوا،پاکستان اردن کے ذریعے فلسطینیوں کیلئے امداد بھیج رہا ہے،کشمیر پر پہلی بار ہم نے او آئی سی میں بھرپور نمائندگی کی۔

اسحاق ڈارکا مزید کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف او آئی سی میں بھرپور معاملہ اٹھایا، اوآئی سی میں اسلاموفوبیا کیلئے الگ نمائندہ تعینات کیا    گیا،فلسطین،کشمیر،اسلاموفوبیاپر پاکستان نے بھرپور آواز اٹھائی،کہا جاتا ہے پاکستان تنہائی کا شکار ہو چکا ہے،پاکستان کسی بھی فورم پر تنہائی کا شکار نہیں ہے،پاکستان 110ووٹوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن منتخب ہوا ہے۔

قومی اسمبلی سیشن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار تیسرا مشترکہ مشاورتی اجلاس بلایا گیا، تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی،سب جماعتوں کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، ہم نے کسی کی بات نہیں کاٹی،وزیراعظم کے دورے کے دوران 27ملین ڈالرکی کوئی کمپلسیشن نہیں لی گئی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کے پاکستان کو آگے لے کے جانا ہے،بشام میں دہشت گردی کے شکار ہونے والے 5چینیوں کو معاوضہ دینے سے متعلق اپوزیشن ارکان کا دعوی درست نہیں،چینیوں کے لواحقین کو 27 ملین نہیں بلکہ ڈھائی ملین ڈالر ادا کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے افغانستان کے کئی دورے کئے،افغانستان بھی پاکستان کے ترجیحاتی ایجنڈے میں شامل ہے،جلد دوحہ میں افغانستان سے متعلق میٹنگ ہونے جا رہی ہے،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان مضبوط اور مستحکم ہو۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان سے مذہبی سیاسی کلچر اور روایات سمیت جو تعلقات ہیں وہ کسی اور ملک سے نہیں،دوحہ میں چند ہفتوں بعد افغانستان کے حوالے سے اجلاس ہونے جا رہا ہے ،وزیراعظم نے منظوری دے دی ہے ہم اس اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے،افغانستان اب بھی ہماری حکومت کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے،افغانستان پہ لگی عالمی پابندیاں کئی معاملات میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

پاکستان کے معاشی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی کہاگیا پاکستان ڈیفالٹ ہوگا ،پاکستان میں صلاحیت ہے معاشی طور پر بہتری آئے گی،وزیر اعظم شہباز شریف نے سی پیک پر کام دوبارہ شروع کیا ،پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں ہیں،ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی پی گیس لائن منصوبے پر کمیٹی أف ہاوس میں پیٹرولیم منسٹری سے بریفنگ لی جائے ،سوشل میڈیا پر کرغستان واقعے کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں ،پہلی مرتبہ میں نے روایتی سفارتکاری کے بجائے معاشی سفارتکاری شروع کی ،ملک کے بارے میں غلط خبرین نہ پھیلائیں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے کہ پکستان کی خارجہ پالیسی کے سلسلے میں ایوان کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے فورآ بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے گا،امریکی ایوان نمائندگان کی متنازع قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا موثر رد عمل اور موقف دیا ہے ، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ کا رد عمل ایوان میں پڑھ کر سنایا،ہم امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے جواب میں قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار ہے۔

Author