عید غدیر کی اہمیت پیغمبر اکرم سے حضرت علی کو اختیار کی منتقلی میں مضمر ہے، جو اسلام میں امامت کا آغاز ہے۔ یہ واقعہ اسلام کے اصولوں کو برقرار رکھنے میں پیغمبر اسلام اور ان کے منتخب جانشین حضرت علی کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اہمیت کی یاد دہانی ہے۔ 

18 ذی الحجہ کو شیعہ مسلمان عید الغدیر کی یاد مناتے ہیں جو کہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اسی دن پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ اہم موقع غدیر خم کے مقام پر پیش آیا جو سعودی عرب کے شہر جوفہ میں واقع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج کے بعد۔ مناسک حج سے فارغ ہو کر 18 ذی الحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غدیر خم پہنچے۔

یہ وہ مقام تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے حکم ملا کہ وہ حضرت علی کو اپنا جانشین قرار دیں۔ ایک بڑے مجمع کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنا مولا قرار دیا جو کہ آپ کی روحانی قوت اور قیادت کی علامت ہے۔ غدیر خم میں پیغمبر اسلام کا خطاب اسلامی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کرکے حضورؐ نے ان کی تعلیمات اور رہنمائی کے تسلسل کو یقینی بنایا۔ حضرت علی نے پیغمبر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہاں موجود مسلمانوں سے بیعت حاصل کی اور مسلم کمیونٹی کے صحیح رہنما کے طور پر اپنے مقام کو مستحکم کیا۔

Author

  • محمد جنید

    محمّد جنید ` ہم عوام ` کی ٹیم میں اہم کردار کے حامل ہیں. ادارتی و انتظامی امور کو احسن انداز سے انجام دے رہے ہیں . حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے لا گریجویشن کیساتھ ساتھ ایم فل جینڈر سٹڈیز کر چکے. سٹوڈنٹس سیاست میں قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں بھی فعال ہیں جس بنا پر سٹوڈنٹس اور عوام الناس سے براہ راست روابط میں رہتے ہیں . جس کے تجربات و مشاہدات نے لکھنے کے رجحان کو بڑھوتری دی . عید کے موقع پر ان کی تحریر بطور قارئین کے لیے پیش ہے ۔

    View all posts