یاداشت ، اس کی اقسام اور خامیاں
ہمارا حقیقی دنیا کے ساتھ تجربہ لمحاتی ہے۔ جیسے ہی ہم کسی چیز کا تجربہ کرتے ہیں، وہ ایک یاد بن جاتا ہے — پہلے وہ شارٹ ٹرم یاد بنتا ہے، اور اس کا کچھ حصہ بعد ازاں لانگ ٹرم یاداشت میں بدل جاتا ہے۔ ہم دنیا کے متعلق جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ ایک یاداشت ہی ہے۔
مگر یہ انسانی یاداشت کتنی قابل اعتماد ہے؟ اپنے بچپن کے کسی نمایاں قصے کو یاد کیجیے جو آپ کی ذات کا اہم حصہ ہو۔ مجھے افسوس کے ساتھ آپ کو بتانا پڑ رہا ہے کہ یہ یاد اگر مکمل طور پر نہیں، تو بھی اس کا بہت برا حصہ جعلی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ بات ڈسٹربنگ لگے اور ابھی اپ یہ سوچ رہے ہوں کہ ‘یہ نہیں ہو سکتا، مجھے واضح طور پر اس کھلونوں کی دکان پر جانا یاد ہے جب میں دس برس کا تھا۔ یہ کسی طرح جعلی ہو ہی نہیں سکتا’۔ تاہم یاداشت کے حوالے سے پچھلی ایک صدی کی ریسرچ آپ کی حمایت میں نہیں ہے۔
ہماری یادیں ماضی کی صحیح یا passive ریکارڈنگز نہیں ہیں۔ ہماری کھوپڑی میں کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا۔ یادوں کو ان خام احساسات سے تعمیر کیا جاتا ہے جو ہمارے اعتقادات اور تعصبات سے فلٹر ہو کر آتے ہیں اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل بدلتے اور ایکدوسرے میں ضم ہوتے رہتے ہیں۔ہماری یادیں ہمارے اعتقادات کو معلومات مہیا کرنے سے زیادہ اسے سپورٹ فراہم کرنے کا کام کرتی ہیں۔ یعنی دوسرے لفظوں میں وہ ایک ارتقاء پاتی کہانی ہیں جو ہم خود کو سناتے ہیں۔
اکثر لوگوں کو بحث میں گرما گرمی کا سامنا ہوا ہو گا، اور جب کچھ وقت گزرتا ہے اور صلح صفائی کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر شخص کی اس مباحثہ کے حوالے سے مختلف یاداشت ہے۔ ایسے مواقع پر آپ یہی سوچیں گے کہ فقط آپ کی یاداشت درست ہے اور باقی سب لوگ سٹھیا گئے ہیں۔ درحقیقت دوسرے افراد بھی آپ کے بارے میں یہی سوچ رہے ہوں گے۔
آپ کو کسی ایسے واقعہ کو یاد کرنے کا تجربہ بھی ہوا ہو گا جس میں آپ بہت عرصہ قبل کسی اور کے ساتھ بھی موجود تھے۔ بوب، جے اور میں پومپئی میں اپنے ایک بچپن کے فیملی ٹرپ کے بارے میں یاد کر رہے تھے۔ بوب اور جے کو واضح طور پر ایک عجیب و غریب ٹور گائیڈ یاد تھا جو قدیم مجسموں میں مردانہ اعضاء کی سمت اشارہ کیا کرتا۔ میری یاداشت کے مطابق ہمیں یہ قصہ ہمارے والدین نے اپنے پرانے پومپئی کے ٹرپ کے حوالے سے سنایا تھا اور ہم کبھی اس ٹور گائیڈ سے ملے ہی نہیں تھے۔ بوب اور جے کو یہ سن کر شاک لگا کہ ان کی یادیں زیادہ تر خودساختہ تھیں (اگرچہ انہوں نے ضد کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ میری یاداشت کمزور تھی)۔
محققین یادوں کے تشکیل پانے کے پراسس کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں۔ ہم جو لمحہ بہ لمحہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی ایک فعال تشکیل کا عمل ہے۔ مختلف حسیاتی معلومات کو اہم چیز کے لیے فلٹر کیا جاتا ہے، ہم جو محسوس کر رہے ہوتے ہیں اس کے بارے میں مفروضات قائم کیے جاتے ہیں، اور ہر چیز کا ہمارے موجودہ ماڈلز اور دنیا کے بارے میں مفروضات سے تقابل کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تسلسل کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ہر چیز ہم آہنگ ہو۔
یہ حیساتی سٹریم پھر یاداشت بن جاتی ہے۔ حالیہ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم یادیں ایک ہی وقت میں بنتی ہیں، تاہم ابتدائی طور پر شارٹ ٹرم یاد غالب ہوتی ہے مگر پھر جلد ہی دھندلا جاتی ہے۔ پھر کچھ ہی دنوں میں لانگ ٹرم یاد مجتمع ہو سکتی ہے اور غلبہ پا سکتی ہے۔ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم کا آپس میں تعلق اس سے کچھ زیادہ گنجلگ ہے، تاہم اس معاملے میں تحقیق جاری ہے اور یہ بنیادی معلومات تھیں۔
لانگ ٹرم میموری کی کئی قسمیں ہیں، اور اگرچہ وہ آپس میں overlap ہوتی ہیں، تاہم وہ مختلف “neuroanatomical correlates” (دماغ میں مختلف نیٹ ورکس) رکھتی ہیں۔
یاداشت کی ایک قسم ڈیکلیریٹیو declarative میموری ہے (جسے explicit میموری بھی کہا جاتا ہے)، اور یہ واقعات کا علم ہے جو لانگ ٹرم میموری میں سٹور ہوتا ہے اور ہم اسے شعوری طور پر یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ جب یاداشت کے حوالے سے سوچتے ہیں تو ان کی مراد یہی میموری ہوتی ہے۔ یاداشت کی دوسری قسم پروسیجرل Procedural میموری ہے (جسے implicit میموری بھی کہا جاتا ہے)، اور یہ زیادہ تر خودکار ہے اور اس کا تعلق حرکیاتی کاموں جیسا کہ باسکٹ بال پھینکنا یا خطاطی کرنا وغیرہ سے ہے۔
 ڈیکلیریٹیو declarative میموری کو مزید حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایپیسوڈک Episodic میموری ایونٹس اور ہمارے اپنے تجربات سے متعلقہ ہے۔ یہ ہماری اپنی زندگیوں کے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات پر مبنی ہوتی ہے جنہیں ہم عموما فرسٹ پرسن میں یاد کرتے ہیں۔ اسی یاداشت کی ایک اور قسم بھی ہے جسے ہم “فلیش بلب” میموری کہتے ہیں، اور یہ ان اہم یادوں پر مشتمل ہوتی ہے  جو جذباتی طور پر اہم قصوں سے متعلقہ ہوں۔ جیسے یہ یاد کرنا کہ ۹/۱۱ کے حملہ یا اس جیسے دیگر اہم موقع پر آپ کہاں تھے یا کیا کر رہے تھے، یہ فلیش میموری ہے۔

ڈیکلیریٹیو declarative میموری کی دوسری قسم سیمنٹک Semantic میموری ہے، جو کہ ہمارے اپنے تجربات کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ سیمنٹک میموری کے مختلف حصے ہیں جو الگ الگ سٹور ہوتے ہیں۔ ہم فیکٹس یا حقائق کے لیے الگ میموری رکھتے ہیں، ہر فیکٹ کے صحیح یا غلط ہونے کے “ٹرتھ سٹیٹس” کے بارے میں الگ میموری ہے، اور مزید یہ کہ اس فیکٹ کے سورس کے بارے میں میموری الگ سے سٹور ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام بات ہوتی ہے کہ آپ کو یاد اتا ہے کہ آپ نے فلاں بات سنی، مگر یہ یاد نہیں کہ اسے کہاں سنا، اور شاید یہ بھی یاد نا ہو کہ وہ سچ تھی یا نہیں۔

 
یادیں لچکدار ہوتی ہیں
یادیں جس لمحے تشکیل پاتی ہیں وہ اسی وقت نا صرف پرخطا ہوتی ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم بھی نہیں ہوتیں۔ ہر اس وقت جب ہم کسی بات کو یاد کرتے ہیں، ہم اس کی دوبارہ تشکیل اور اپ ڈیٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ احساسات کی طرح یاداشت بھی اندرونی consistency چاہتی ہے۔ ہم ریئلٹی کے بارے میں اپنے اندرونی بیانیہ کے مطابق میموری کو تبدیل کرتے رہتے ہیں تا کہ ان کی آپ میں مطابقت قائم رہے۔ میموری memory کی زندگی کئی ٹوئسٹس اور ٹرنز کے ساتھ ایک پرپیچ ایڈوینچر ہے۔ جن طریقوں کے مطابق ہم اپنی یادوں کو تبدیل کرتے رہتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں
–فیوژن Fusion
ہم مختلف یادوں کی تفصیل کو آپس میں فیوز کر سکتے ہیں، انہیں مکس کر سکتے ہیں یا پھر دو بلکل مختلف یادوں کو ملا کر ایک بنا سکتے ہیں۔ اپنے بچپن میں کھلونوں کی کسی دکان میں جانے کے کسی فرضی قصے کو سوچئے، اور شائد وہاں آپ کو کسی ڈرانے والے اجنبی سے واسطہ پڑا ہو۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اجنبی سے وہ واسطہ کسی بلکل ہی مختلف وقت اور مقام پر ہوا ہو، مگر آپ نے اسے اپنے کھلونوں کی دکان والے قصے سے جوڑ لیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اجنبی والی بات آپ نے کسی فلم میں دیکھی ہو، یا یہ کسی اور کے ساتھ رونما ہوئی ہو، مگر آپ نے اسے اپنی یاد کا حصہ بنا لیا۔
–کنفیبولیشن Confabulation (خیالی دنیا)
ہم خیالی دنیا تعمیر کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک آٹومیٹک اور لاشعوری عمل ہے۔ ہمارا دماغ ایک رواں اور متواتر یاداشت بنانا چاہتا ہے، اس لیے اگر کچھ ٹکڑے مسنگ ہوں تو یہ خود اس خالی جگہ کو پر کر لیتا ہے۔
ڈیمنشیا کے مریض اس خیالی دنیا کا استعمال اور بھی زیادہ کرتے ہیں کیونکہ ان کی ناکام ہوتی یاداشت اور ادراک زیادہ سے زیادہ خالی جگہیں بناتے چلے جاتے ہیں جسے پر کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ بری صورتحال میں ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے وہ مکمل ایونٹس تخلیق کر لیں جو کبھی رونما ہی نا ہوئے ہوں۔
کسی قصہ کی جذباتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تفاصیل بھی تخلیق کر لی جاتی ہیں۔ درحقیقت، کسی یاداشت کی موضوعاتی اور جذباتی اہمیت اور اس کی سپورٹنگ تفاصیل سے الگ سٹور کی جاتی ہے۔
الیزبتھ لوفس اور جیکولین پکرل نے 1995 میں ایک سٹڈی کی جسے اب “Lost in the Mall” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے چوبیس افراد کے بوڑھے رشتہ داروں کا انٹرویو کیا تا کہ وہ ایک کتابچہ بنائیں جس میں ان کے بچپن کی چار کہانیاں درج ہوں۔ تاہم ان میں سے تین کہانیاں درست تھیں اور چوتھی مکمل طور پر خودساختہ تھی جس کے مطابق وہ بچپن میں مال میں گم ہوئے تھے۔ یہ افراد اپنی سچی کہانیوں کے حوالے سے 68 فیصد تک کچھ تفصیل یاد کر سکے تھے۔ تاہم 29 فیصد نے یا تو مکمل یا جزوی طور پر خودساختہ واقعات یاد کیے۔ کچھ افراد ان خودساختہ افراد کو کافی زیادہ تفصیل اور اپنی اس یاد کے حوالے سے بہت زیادہ اعتماد کے ساتھ دہرا رہے تھے۔
ازابیل لنڈنر نے 2010 میں ایک سٹڈی کی جس کے مطابق محص کسی دوسرے شخص کو کوئی کام کرتے دیکھ کر ہی جھوٹی یاداشت بن سکتی ہے جس کے مطابق وہ کام ہم نے خود کیا ہو۔ اس تحقیق کے بعد کی مزید ریسرچ سے اور واضح ہوا کہ کسی واقعہ کا تصور کر لینا ہی اکثر جھوٹی یاداشت کی تشکیل کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تخیل بھی دماغ کے ان حصوں کو تحریک دیتا ہے جنہیں سچی یاداشت استعمال کرتی ہے۔ درحقیقت کی تخیل کو بار بار دہرانے سے وہ کسی سچے واقعہ کی یاداشت جیسا ہی بن جاتا ہے، اور یوں ایک جھوٹی یاداشت پیدا ہو جاتی ہے۔
جولیا شا اور سٹیفن پورٹر نے 2015 کی سٹڈی میں بتایا کہ کئی بالغ افراد محض تین گھنٹے کی پولیس انٹیروگیشن کے بعد خود اس بات کے قائل ہو جاتے ہیں کہ ان سے کوئی جرم سرزد ہو چکا ہے۔
ہمارے دماغ ہم سے اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ کہانیاں سناتے ہیں جنہیں انہوں نے مختلف سورسز سے اکٹھا کیا ہو اور ان میں ضرورت کے مطابق تفصیل بھرتے چلے جاتے ہیں۔
–پرسنلائز Personalize (ذاتی)
دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو اپنے ساتھ منسوب کر لینے کا بھی رجحان موجود ہے۔ اگر کوئی ہمیں جذباتی طور پر جکڑ لینے والی داستان سناتا ہے، تو مہینوں اور برسوں بعد ممکن ہے کہ اپنی یاداشت میں ہم خود اس کا اہم کردار بنے ہوں یا کم از کم اس کے چشم دید گواہ بنے ہوئے ہوں۔
این بی سی کا اینکر برائن ولیم غالبا اسی مسئلہ کا شکار ہوا۔ برسوں تک وہ کہانی سناتا رہا کہ کیسے عراق میں اڑتے ہوئے اس کے ہیلی کاپٹر کو زبردستی نیچے اتارا گیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی یہ کہانی وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پائی ہے اور یہ ان لوگوں کی یادوں سے مختلف ہے جو اس سفر میں اس کے ساتھ تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے نسبتا معمول کے ہیلی کاپٹر کے سفر کو کسی اور زبردستی نیچے اتارے جانے والے ہیلی کاپٹر کی کہانی کے ساتھ مکس کر لیا ہے۔
–کنٹیمینیشن Contamination (ملاوٹ)
ہم سماجی جاندار ہیں۔ یہ ہماری سماجی نیچر کا حصہ ہے کہ ہم دوسروں کی گواہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ جب لوگ کسی قصے کو اکٹھے بیٹھ کر ڈسکس کرتے ہیں اور اپنی افرادی یادیں شئیر کرتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ دوسروں کی یادوں میں ملاوٹ کر دیں۔ لوگ اکثر کسی دوسرے کی بتائی تفاصیل کو لیں گے اور انہیں اپنی یادوں کا رواں حصہ بنا لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں میں گواہان کو اپنی گواہی سے قبل کسی دوسرے شخص سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جاتی۔
–ڈسٹورشن Distortion (مسخ)
میموری کی تفاصیل تبدیل یا مسخ ہو سکتی ہیں۔ کئی تفاصیل گم گشہ ہو جائیں گی یا کچھ ایسے انداز میں تبدیل ہو جائیں گی جو یاد کے جذباتی پہلو کو سپورت کر رہی ہو۔
 یادیں تجویز سے مسخ ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی اپنی کسی یاد کو سنا رہا ہو اور اس دوران اسے کسی تفصیل کی تجویز دی جائے تو وہ اس تفصیل کو اپنی یاد کا حصہ بنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص انٹرویو دے رہا ہو اور اس نے ہوڈی hoodie  پہنے ایک شخص کو دیکھا ہو مگر اس کی جنس یاد نا ہو، تو انٹرویو کرنے والے کا محض لڑکی (her) کہنے پر ہی اپنی اس یاد میں hoodie  والے شخص کو لڑکی بنا لے گا۔

یاد کے مختلف حصے ایکدوسرے سے آزادانہ طور پر بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سکرنک کی 2005 کی سٹڈی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم فیکٹس کی سچائی (truth status) ان فیکٹس سے الگ طور پر یاد رکھتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ان فیکٹس کے سامنے کوئی چیک باکس ہو کہ یہ درست ہیں یا نہیں۔ سکرنک نے اپنے تجرجہ میں شامل افراد کو کچھ حقائق بتائے جیسا کہ “یہ ایک فرضی بات ہے کہ ویکسینز سے آٹزم ہوتا ہے”۔ تین دن بعد اس نے انہی افراد کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ نوجوانوں میں سے 27 فیصد افراد نے ایک فالس false سٹیٹمنٹ کو ٹرو true کر دیا تھا۔ زیادہ بوڑھے افراد کے لیے یہی پرسنٹیج 40 فیصد تھی۔ بظاہر ہم اس سچائی یا جھوٹ کے “چیک باکس” پر اتنا زیادہ دھیان نہیں دیتے جتنا ہمیں دینا چاہیے۔

Author