یوم مئی بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کی عید یا بڑے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جہاں بھی یہ دن منایا جاتا ہے وہاں کے مزدور، شکاگو کے شہیدوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔سال 2024کا یوم مئی بھی پاکستان سمیت پوری دنیامیں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آج مزدوروں کا عالمی دن مناتے ہوئے روایتی جوش و خروش ظاہر کرنے کے ساتھ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ماضی کی نسبت مزدورں کی حیثیت اور حالات میں کیا تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔آج اس بات پر غور کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ یوم مئی منانے والے مزدوروں کو کیا یہ احساس ہے کہ 1886 میں دی گئی قربانیوں کے بعد ان کے حقوق کے حصول کا جوسفر شروع ہوا تھا وہ اس وقت کیا سمت اختیار کر چکا ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا میں اس وقت مزدور طبقے کے اندر دو نمایاں گروپ، رسمی (fromal) اور غیر رسمی (informal) مزدوروں کے نام سے موجود ہیں۔ محنت کشوں اور خاص طور پر صنعتی مزدوروں کا اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا سفر صدیوں پر محیط ہے۔ اس سفر کے دوران آجروں کے استحصالی سوچ تو زیادہ تبدیل نہیں ہو سکی مگر سائنس اور ٹیکنالوجی میں رونما ہونیوالی جدتیں مسلسل مزدورں کے حالات اور اوقات کار پر اثر انداز ہوتی رہیں۔ موجودہ دور میں آٹو میٹک مشینوں، تجارت، معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانات، گلوبلائزیشن اور مصنوعی ذہانت نے مزدوروں کے حالات کار پر جو اثر ڈالا اس کے نتیجے میں غیر رسمی مزدورں کی اصطلاح کا جنم ہوا۔ غیر رسمی مزدور محنت کشوں کی صف میں موجود ہونے کے باوجود اس مقام پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں سے مزدوروں نے اپنے حقوق کی جدوجہد کا سفر شروع کیا تھا۔مجموعی طور پر محنت کشوں نے مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد جو حقوق حاصل کیے تھے آج وہ ان کی محنت نہیں بلکہ ملازمت کی نوعیت کے ساتھ جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محنت کا حجم یکساں ہونے کے باوجود رسمی اور غیر رسمی محنت کشوں کے حالات کار اور اوقات کار میں بہت زیادہ تفاوت دکھائی دیتیہے۔ رسمی مزدورں کے حقوق تو آئی ایل او کے چارٹر کے مطابق تسلیم شدہ ہیں لیکن غیر رسمی مزدوروں کے حقوق کا سرے سے کوئی سوال ہی موجود نہیں ہے۔
حیران کن طور پر آج کا معیشت دان روزگار کی منڈی کے بدلتے رجحانات سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آج تک کسی قابل قدر معیشت دان کی طرف اس ضمن میں کوئی پیش بینی نہیں کی گئی کہ غیر رسمی مزدوروں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ آخر کیا صورت اختیار کرے گااور نہ ہی اس طرح کا کوئی اندازہ پیش کیا گیا ہے کہ ابلاغی اور مواصلاتی طور پر قریب ہوتی ہوئی دنیا میں غیر رسمی کارکنوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے حکومتوں کی کیا منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔اس وقت غیر رسمی مزدوروں، ملازموں یا کارکنوں کو کسی بھی طرح کے حقوق حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں رسمی مزدوروں کی طرح سماجی تحفظ کی چھتری دستیاب ہے۔ رسمی مزدوروں کے مقابلے میں ان کی محنت جبری مشقت کے زیادہ قریب ہے۔ غیر رسمی مزدور نہ صرف کاروباری اداروں میں، گھروں میں خانگی محنت کرتے ہوئے اور گلیوں میں پھیر لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ ان کی محنت زراعت، تعمیرات،فوڈ، خدمات اور دستکاری کے شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ہر شعبہ زندگی میں ان کی محنت کی موجودگی کے باوجود ان کے کام کو قانونی تحفظ میسر نہیں ہے۔
مزدوروں کی عالمی تنظیم آئی ایل او کا محنت کے حوالے سے معروف نعرہ ”مناسب اور باضابطہ کام سب کے لیے“ اس کے نصب العین کے طور پر پہنچانا جاتا ہے۔ آئی ایل او کے نصب العین کی تشریح چار بنیادی اصولوں،”ملازمت کے یکساں مواقع، محنت کشوں کے حقوق، سماجی تحفظ اور نمائندگی کا حق“، کے ذریعے کی گئی ہے۔ آئی ایل او کے نصب العین اور اس کی تشریح کے باوجود غیر رسمی مزدوروں کی محنت سخت ترین استحصال کا شکار ہے۔ غیر رسمی مزدورں کے پاس نہ تو مستقل کام کے مواقع ہیں، نہ انہیں قانونی و سماجی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے تنظیم سازی کا حق رکھتے ہیں۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ غیر رسمی معیشت سے وابستہ محنت کش بری طرح غربت کے پھندے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ شائستہ اور معیاری زندگی گزارنے کے کسی بھی مقام سے کوسوں دور کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان محنت کش انسانوں کو پسماندگی کی گہرائیوں سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایل او کے نصب العین اور اس کی تشریحات کے مطابق ان کے حالات کار کو بہتر بنایا جائے۔
اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ غیر رسمی مزدوروں کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنائے جس سے ان کے لیے حالات کار بہتر اور قابل قبول ہو جائیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غیر رسمی معیشت سے وابستہ کارکنوں کی وہی پہچان اور شناخت ظاہر ہو جو آئی ایل او کے محفوظ معیار سے وابستہ دوسرے محنت کشوں کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایل او کی طرف سے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے طے کیے گئے ضابطوں کے فوائد غیر رسمی مزدورں تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ وہ تما م قانونی رکاوٹیں دور ہونی چاہئیں جو غیر رسمی مزدوروں کو تنظیم سازی کے حق سے محروم کرتی ہیں۔ غیر رسمی کارکنوں کو سوشل سیکورٹی کا حق حاصل نہیں ہے وہ زیادہ تر غیر محفوظ ماحول میں کام کرتے ہیں ان کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے کوئی موزوں پروگرام تشکیل دیا جائے اسی طرح ان کے سماجی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ کام کے حوالے سے ان کی تعلیم اور فنی تربیت کا بندوبست بھی کیا جائے۔ ایسے پروگراموں کی تشکیل اور اس پر عمل درامد کے لیے ضروری ہے کہ مزدوروں کے رائے کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ غیر رسمی مزدوروں میں خواتین کارکن بھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔غیر رسمی معاشی عمل میں عورتوں کی خدمات کے اعتراف کے لیے ضروری ہے کہ ان خواتین کارکنوں کو زچگی کے دوران سوشل سیکورٹی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
اوپر بیان کیے گئے مطالبات غیر رسمی مزدوروں کے جائز حقوق ہیں جو انہیں ہر صورت ملنے چاہئیں۔تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی حق کا حصول کبھی بھی جدو جہد کے بغیر ممکن نہیں ہوا۔ پاکستان میں غیر رسمی مزدور بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کا استحصال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہاں مزدور لیڈروں، مزدور تنظیموں اور مزدور فیڈریشنوں کی بہتاب کے باوجود کبھی یہ ممکن نہیں ہوا کہ کوئی آواز غیر رسمی مزدوروں کے حق کے لیے بھی سامنے آئی ہو۔ جب مزدوروں کی سیاست میں استحصال اور پسماندگی کا احساس رکھنے والوں کی بجائے پیشہ ور مزدور لیڈروں کا راج ہوگا تویہ تو قع رکھی بھی نہیں جانی چاہیے کہ کوئی ایسے محنت کشوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے جن کا وجود ہی ابھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ کوئی پیشہ ور لیڈر غیر رسمی مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرے یا نہ کرے لیکن مجموعی طور پر محنت کشوں کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ اس وقت محنت کش طبقے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ پوری دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ رسمی مزدور غیر رسمی کارکنوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ کیا مزدوروں کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس تبدیلی پر آنکھیں بند کر لیں اور طبقے کا پستی کی سفر برداشت کرتے جائیں۔ مزدوروں کی رسمیسے غیر رسمی کارکن کے طور پر تبدیلی،کردار کی نہیں بلکہ حیثیت کی تبدیلی ہے۔ محنت کشوں کو اپنی جدوجہد سے اس تبدیلی کو روکنا ہے گاکیونکہ اس تبدیلی سے صرف مزدور ہی بے آسرا نہیں ہوگا بلکہ معاشرتی توازن بھی برقرار نہیں رہ سکے گا۔

Author

  • روشن لعل

    عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھے والے ملک کے معدودے چند لکھاریوں میں نمایاں مقام کے حامل صاحب تحریر ہفت روزہ `ہم شہری ` میں لکھئ تحریروں کی ملک گیر مقبولیت کی بنا پر جانے مانے جاتے ہیں. روزنامہ ` آج کل ` کے بعد روزنامہ ` جہاں پاکستان ` میں نصف دہائی سے تسلسل سے لکھ رہے ہیں. انسانی حقوق اور جمہوریت کی سربلندی کی عوامی تحریکوں میں زمانہ طالب علمی سے وابستہ ہیں اور لیفٹ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

    View all posts