چور اگر جھوٹ بولنے میں قدرتی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ چور ہو ہی نہیں سکتا ۔ ایک ہی سانس میں، گرم سرد پھونکیں مارنا اور کہہ مکرنا اب معمول کی باتیں ہیں۔ اِسے اب عیب نہیں بلکہ ہنر سمجھا جاتا ہے۔ اپنی منفرد جغرافیائی وحدت اور ثقافت سے بہت دور، کچھ اعلیٰ درجے کے ریٹائرڈ سرکاری کرم چاریوں کے لیے پاکستان کسی نشانِ جنت سے کم نہیں ہے، جہاں وہ مکمل مراعات اور اضافوں سے لگاتار اور بے خوف مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ مگر نہ جانے کیوں وہ نجی اور عوامی نشستوں میں، انتہا پسند اسلامی عسکریت پسندی کو بڑی بے شرمی سے سراہتے رہتے ہیں۔
تقریباً دو ہفتے پہلے، اتفاق سے، میں ایک ڈاکٹر کے چیمبر میں تھا جو مریض دوست ہونے کے علاوہ مطالعے کی رسیا ایک علمی شخصیت بھی ہیں۔
اِس دوران، ایک بیسویں گریڈ میں ریٹائرڈ سرکاری افسر آن وارد ہوا اور ہماری گفتگو میں شامل ہو گیا جو کہ “میلاٹونن” ھارمون پر تھی۔ درحقیقت، وہ میرے ڈاکٹر دوست سے Cialis کی ایک خوراک لینے آیا تھا، تاکہ ED کی شرمندگی کے بغیر، اپنے وِیک اینڈ سے لذت کشید کر سکے۔
ہمارے ملک میں، بے ھنگم اور سفـاک سیاست پر بڑبڑانا اور گلہ کرنا معمول کی باتیں ہیں اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے اپنے معنی کھو چکی ہیں۔ ہماری گھٹیا سیاست کے کناروں پر چھیڑ خانی کرتے ہوئے، اس نے اچانک کرپشن سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنا نسخہ کیمیا تجویز کر ڈالا: ہمسایہ ملک میں جاری انتہا پسند اقدامات اور اُن کے کوڑے مارنے اور سر قلم کرنے کے فلسفے کی تعریف کرتے ہوئے اسے یہاں بھی نافذ کرنے کی پُر جوش حمایت شروع کردی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف جب حاضر سروس تھے، تب نہ تو انہوں نے کوئی نماز چھوڑی تھی اور نہ ہی اپنی جانب سرکتا ہوا کوئی روپیہ چھوڑا تھا۔ میں نے اسے اپنی پنشن میں لگاتار اضافے اور دیگر مراعات کی یاد دلائی جس سے وہ موجودہ ہائبرڈ نظام میں بھی، بغیر کسی احساسِ جرم کے، لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے انہیں یاد دلایا کہ پڑوسی ملک کی انتہائی اسلامسٹ حکومت کے تحت، وہ اس طرح کی مراعات سے یکسر محروم کر دیے جائیں گے۔ اِس پر انہوں نے جلدی سے دوا لی اور یہ عذر پیش کرتے ہوئے اُٹھ گئے کہ بار بار کالز آ رہی ہیں، زوجہ منتظر ہے۔ میرا جانا اب فرض ہو گیا ہے۔
عوام تو رہے ایک طرف، جھوٹی آس پرتو بڑے بڑے افسرانِ بالا بھی بہک جاتے ہیں۔ افتخار چوہدری نے جب لانگ مارچ کیا تھا تو وہ دیہاتی بھی رات تین بجے سڑک پر کھڑے پائے گئے تھے؛ جنہیں صبح اپنی بھینسوں کو چارا بھی ڈالنا تھا۔ ایسے ہی جب نواز شریف نے پندرھویں ترمیم کا بِل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا تو ریلوے میں انیسویں سکیل کے ایک حاضر سروس افسر، جو کہ شاعر بھی ہیں، بیٹھک میں یہ کہتے پائے گے تھے: میرا دِل کہتا ہے کہ، اللہ نے نواز شریف سے کوئی بڑا کام لینا ہے۔ حالانکہ کہ اُن کے اپنے دستخط کے بغیر کسی ٹھیکیدار کا کوئی بِل پاس نہیں ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کم آمدن سے نبرد آزما، ایک غریب مزدور یا کسان ایسی بات کرے تو سمجھ میں اتی ہے مگر اِس طرح کے پڑھے لکھے فیض یاب لوگ جب ایسی منافقانہ باتیں کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب لینا چاہئیے؟ قول فعل میں اِس سنگین تضاد پر شرمندگی کیوں نہیں ہوتی؟
ہمارا ابدی المیہ یہ ہے کہ ہمارے افسرانِ بالا، جس ملک کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی سے، تنخواہ اور دیگر مراعات پاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اِس ملک کے باشندے نہیں سمجھتے؛ بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ برطانیہ سے یہاں باری لینے آئے ہیں لہذاٰ جتنا سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو۔
بالآخر، ہم نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ یہ بھی انہیں تربیت دینے والی “اکیڈمی” کی کرامت ہے۔
ہماری لوک دانش، ایسے موقعوں پر اِس جملے کا جاپ کرتی پائی جاتی ہے؛ اے بے ایمانی کی دیوی! اب تمہارا ہی آسرا ہے مجھے۔

Author

  • خالد محمود

    خالد محمود کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ ماضی میں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی ادبی علمی سرگرمیوں میں فعال کردار کے حامل ہیں۔ انہوں نے بیسویوں ادبی مضامین کا ترجمہ اورانگریزی ادب کی متعدد کتب پر ریویو اور ادب و سماجی مسائل پر تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔

    View all posts